Wed, September 16, 2026

خالی پیٹ، بند آنکھیں! دنیا میں شدید بھوک کا طوفان، 29 کروڑ سے زائد انسان فاقہ کشی کا شکار

خالی پیٹ، بند آنکھیں! دنیا میں شدید بھوک کا طوفان، 29 کروڑ سے زائد انسان فاقہ کشی کا شکار

نیویارک :یہ 21ویں صدی ہے، مگر دنیا کے 29 کروڑ سے زائد انسان اب بھی شدید بھوک سے لڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے ایک المناک حقیقت سب کے سامنے رکھ دی ہے  کہ ترقی، سائنس اور عالمی تجارت کی صدی میں بھی بنیادی خوراک کروڑوں کے لیے ایک خواب بن چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک نئی بلندی پر پہنچ گئی، جہاں تقریباً 30 کروڑ لوگ فاقوں اور غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ خطرے سے دوچار افراد غزہ، یمن، سوڈان، ہیٹی اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے اس منظرنامے کو "تباہ کن اور ناقابلِ قبول" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:

    "ہم خالی پیٹوں کے سامنے بند آنکھوں سے کھڑے نہیں ہو سکتے۔ یہ وقت ہے کچھ کرنے کا، بولنے کا، اور انسانیت کو بچانے کا۔"

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے والی ایک تہائی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب لاکھوں خاندان روز فاقہ کرتے ہیں۔

ٹیگز: