راولپنڈی: ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر پہنچے اور گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سولوشنز ( جی آئی ڈی ایس) کا دورہ کیا، جس سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دفاعی، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
جی آئی ڈی ایس کی فیکٹری پہنچنے پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اور ان کے وفد کا چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ فیلڈ مارشل منیر نے ازبک صدر اور ان کے وفد کو فیکٹری کی مختلف اہم سہولتوں کا دورہ کرایا اور پاکستان کی مقامی دفاعی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔
اس دورے کا مقصد پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعت کے شعبے میں مضبوط تعلقات قائم کرنا تھا، جس پر دونوں ممالک نے زور دیا۔
دورے کے دوران، ازبکستان کے صدر کو جی آئی ڈی ایس کی متنوع صلاحیتوں پر بریفنگ دی گئی، جس میں جدید دفاعی حل، ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیتیں شامل تھیں۔ جی آئی ڈی ایس پاکستان کا ایک اہم ادارہ ہے جو مقامی طور پر دفاعی حل تیار کرنے میں پیش پیش ہے۔ اس بریفنگ میں ازبک صدر کو جدید اسلحہ سازی کے نظام، کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز، خودکار نظام اور نگرانی کے آلات کی تفصیل فراہم کی گئی۔
اس دوران، پاکستان کی دفاعی صنعت کی خودمختاری میں اضافے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اب دفاعی شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی عالمی سطح پر قدم جما رہا ہے۔
دورے کے دوران، ازبکستان کے صدر اور ان کے وفد نے جی آئی ڈی ایس کی مختلف سہولتوں کا دورہ کیا اور پاکستان کی دفاعی صنعت میں ہونے والی جدید پیشرفت کو قریب سے دیکھا۔ وفد نے جدید دفاعی مصنوعات کا مشاہدہ کیا، جن میں پریسجن گائیڈڈ میزائل سسٹمز، جنگی گاڑیاں، جدید ریڈار سسٹمز اور خودکار دفاعی سسٹمز شامل تھے۔
ان مصنوعات نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت کو اجاگر کیا، جو عالمی معیار کے مطابق ہے اور ملکی سطح پر خود انحصار کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے مشترکہ منصوبوں اور جوائنٹ وینچرز کے ذریعے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ دونوں ممالک کے دفاعی، ٹیکنالوجی اور صنعتی مفادات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ علم کا تبادلہ اور دفاعی تحقیق میں تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، اور اس سے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
اس دورے نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔ دونوں ممالک نے جوائنٹ پروجیکٹس اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے امکانات پر بات چیت کی اور دفاعی صنعت میں مزید مشترکہ تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
اس دورے کا ایک اور اہم پہلو فوجی تربیت اور دفاعی تحقیق کے شعبوں میں باہمی تعاون کا فروغ تھا، جو دونوں ممالک کی مستقبل کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔