پنجاب میں آئی جی پولیس کی کرسی کبھی محض ایک انتظامی عہدہ نہیں رہی۔ یہ ہمیشہ سے طاقت، سیاست اور ریاستی کنٹرول کا مرکز رہی ہے۔ ایسے میں جب راؤ عبدالکریم کو نیا آئی جی پنجاب بنایا گیا ہے تو سب سے پہلا اور فطری سوال یہی ہے، کیا وہ واقعی آزاد رہ پائیں گے؟
سچ یہ ہے کہ پنجاب میں کوئی بھی آئی جی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتا۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کچھ افسران دباؤ کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ دباؤ کو ’’سسٹم کا حصہ‘‘ سمجھ کر اسی کے اندر رہ کر کام کرتے ہیں۔ آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کا مزاج، ان کی سابقہ پوسٹنگز اور ان کا کم پروفائل انداز یہ اشارہ دیتا ہے کہ وہ دوسری کیٹیگری میں آتے ہیں۔ یعنی وہ کھلے تصادم کے بجائے خاموش مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں حکومت کے لیے قابلِ قبول بناتی ہے اور یہی چیز ان کی آزادی کی حد بھی طے کرتی ہے۔
حکومت ایک ایسا پولیس سیٹ اپ چاہتی ہے جو ان کے گورننس ماڈل کے مطابق ہو اور سیاسی ہلچل میں ’’کنٹرولڈ‘‘ رہے۔ آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کا چیلنج یہی ہو گا کہ وہ کسی ایک دھڑے کے آئی جی نہ بنیں، بلکہ ادارے کو ایک لائن پر رکھیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی مہینوں میں گروپنگ بڑھے گی، کم نہیں ہو گی۔ کچھ افسران خود کو سائیڈ لائن سمجھیں گے، کچھ نئے قریب آئیں گے اور کچھ خاموشی سے حالات کا رخ دیکھیں گے۔
ڈاکٹر عثمان انور جیسے متحرک اور فرنٹ فٹ آئی جی کو ہٹا کر راؤ عبدالکریم کو تعینات کرنا بظاہر ایک معمول کی پوسٹنگ لگتی ہے، مگر اس کے پس منظر میں کئی سیاسی اور انتظامی پرتیں موجود ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر عثمان انور کو ایک ایسا آئی جی سمجھا جاتا تھا جو فیلڈ میں نظر آتا تھا، فیصلے کرتا تھا اور کئی مواقع پر سیاسی دباؤ کے باوجود اپنا مؤقف رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک ’’ایکٹیو‘‘ آئی جی کہا جاتا رہا۔ تاہم پاکستان جیسے سیاسی ماحول میں حد سے زیادہ ایکٹونیس اکثر حکومتوں کے لیے تشویش کا باعث بن جاتی ہے، کیونکہ منتخب قیادت عموماً ایسے افسران کو ترجیح دیتی ہے جو انتظامی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ سیاسی سمت کا بھی ادراک رکھتے ہوں۔
ن لیگ کی حکومت کے قیام کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ پنجاب میں پولیس قیادت اور سیاسی حکومت کے درمیان وہ ہم آہنگی موجود نہیں جو ایک مضبوط گورننس ماڈل کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے راؤ عبدالکریم کی تعیناتی کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ انہیں ایک تجربہ کار، کم پروفائل اور سسٹم کے اندر رہ کر کام کرنے والا افسر تصور کیا جاتا ہے، ایسا افسر جو حکومت کے لیے غیر متوقع سیاسی یا میڈیا سرپرائز نہ بنے۔
یہ کہنا کہ آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم ن لیگ کے ’’فیورٹ‘‘ ہیں، شاید تکنیکی طور پر درست نہ ہو، کیونکہ ان کی تعیناتی ایک آئینی اور سرکاری طریقہ کار کے تحت ہوئی۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ان کا انتخاب ایک ایسی قیادت نے کیا جو پنجاب میں احتجاجی سیاست، اپوزیشن کے دباؤ اور امن و امان کے ممکنہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک ’’قابلِ اعتماد‘‘ پولیس قیادت چاہتی ہے۔ پاکستان میں قابلِ اعتماد کا مطلب اکثر پیشہ ورانہ اہلیت کے ساتھ ساتھ سیاسی ہم آہنگی بھی لیا جاتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عثمان انور کو عہدے سے ہٹانا دراصل سزا نہیں بلکہ ری الائنمنٹ ہے۔ اگر حکومت انہیں واقعی سائیڈ لائن کرنا چاہتی تو انہیں غیر مؤثر بنا دیا جاتا، مگر انہیں ڈی جی ایف آئی اے جیسے طاقتور اور حساس وفاقی ادارے کی ذمہ داری دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کارکردگی کا نہیں بلکہ صوبائی ترجیحات کا تھا۔
اس تبدیلی کے اثرات پنجاب پولیس پر دو طرح سے پڑ سکتے ہیں۔ ایک طرف حکومت اور پولیس کے درمیان ٹکراؤ کم ہو سکتا ہے اور فیصلوں میں تسلسل آ سکتا ہے، لیکن دوسری طرف پولیس افسران کے لیے یہ پیغام بھی جا سکتا ہے کہ بالآخر سیاسی خواہشات ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ادارہ جاتی خودمختاری کا سوال دوبارہ سر اٹھاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ راؤ عبدالکریم کی تعیناتی اور عثمان انور کی منتقلی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں پولیس محض قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن کا ایک اہم ستون ہے۔ اصل امتحان اب یہ ہے!
پنجاب پولیس میں آئی جی کی تبدیلی، اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
راؤ عبدالکریم سے حکومت کیا چاہتی ہے؟ حکومتی سوچ غالباً یہ ہے کہ پنجاب میں احتجاجی سیاست بڑھے گی۔ اپوزیشن دباؤ ڈالے گی، لا اینڈ آرڈر بڑا چیلنج ہو گا۔اس لیے ایک ایسا آئی جی چاہیے جوکم پروفائل ہو، سسٹم کے اندر رہ کر کام کرے،حکومت کے لیے سرپرائز نہ بنے۔کیا اس سے پولیس متاثر ہوگی؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔
ممکنہ نقصانات میں پولیس افسران کو لگ سکتا ہے کہ آخر میں سیاسی فیصلہ ہی غالب آتا ہے۔فیلڈ افسر زیادہ محتاط یا محتاط سے بھی زیادہ خاموش ہو سکتے ہیں،ممکنہ فوائد یہ ہو سکتے ہیں کہ حکومت اور پولیس میں ٹکراؤ کم،فیصلے تیزی سے ہوں،لا اینڈ آرڈر پر یکساں پالیسی ہو ،آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کی تقرری سیاسی ضرورت پلس انتظامی فیصلہ ہے۔