Wed, September 16, 2026

پنجاب اور سندھ میں بدترین سیلاب، زندگی اب بھی معمول پر نہ آسکی

پنجاب اور سندھ میں بدترین سیلاب، زندگی اب بھی معمول پر نہ آسکی

لاہور : پنجاب کے کئی علاقے اب بھی حالیہ تباہ کن سیلاب کے اثرات سے نہیں نکل سکے۔ کئی جگہوں پر پانی تاحال جمع ہے، راستے بند ہیں اور متاثرہ خاندان گھروں کو واپس جانے سے قاصر ہیں۔

احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف جیسے علاقوں میں نہ صرف سیکڑوں گھر تباہ ہوئے بلکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی پانی میں ڈوب گئیں۔ باغات، اسکول، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

سیلاب کے بعد جہاں پانی کی سطح کچھ کم ہوئی، وہیں کئی مقامات پر بند ٹوٹنے سے بننے والے شگاف اب تک نہیں بھرے جا سکے، جس کی وجہ سے نقل و حرکت میں دقت پیش آ رہی ہے۔ متاثرین کو نہ صرف کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا سامنا ہے، بلکہ جانوروں کے لیے چارے کی بھی سخت کمی ہے۔

کئی متاثرہ خاندان خیمے نہ ملنے کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر خوراک، صاف پانی، راشن، خیمے اور جانوروں کا چارہ فراہم کرے۔

 ادھر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر کوٹری بیراج کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 7 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔

ٹھٹھہ، یار محمد منچھر اور دیگر کچے کے علاقوں میں کئی دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ مقامی افراد بندوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں، جبکہ کئی لوگ اب بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

نواب شاہ، مٹیاری اور ہالہ میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں، جہاں مقامی لوگ کشتیوں میں اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

 اگرچہ گڈو اور سکھر بیراج پر پانی میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور پنجاب کے دریاؤں کی صورتحال بھی بہتر ہو رہی ہے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سیلاب کے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح معمول پر آ چکی ہے، تاہم ہیڈ اسلام پر اب بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ جلال پور پیر والا سے پانی اترنے کے بعد 5 لاشیں ملنے کی خبر نے صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

ٹیگز: