کچھ تہوار محض کیلنڈر کی تاریخ نہیں ہوتے، وہ قوموں کی اجتماعی یادداشت میں سانس لیتے ہیں، موسموں کے ساتھ دلوں میں اترتے ہیں اور نسل در نسل ایک احساس کے طور پر منتقل ہوتے ہیں۔ بسنت بھی ایسا ہی ایک تہوار ہے جو کبھی صرف آسمان پر اڑتی پتنگ کا نام نہیں تھا بلکہ زمین پر بکھرتی خوشی، دلوں میں اترتی بہار اور معاشرتی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بسنت منائی جائے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم تہوار کو سمجھتے کیا ہیں، اور ہم نے اسے بنا کیا دیا ہے؟وقت کے ساتھ ہم نے بسنت کو ایک ثقافتی جشن سے نکال کر ایک خطرناک مقابلے، ایک بے مہار جنون اور ایک انتظامی مسئلے میں بدل دیا۔ جب پتنگ کی ڈور نے خوشی کے بجائے انسانی گردنیں کاٹنا شروع کیں، جب چھتیں تفریح کے بجائے حادثات کا میدان بن گئیں، تو ردِعمل میں فتوے نہیں، فیصلے آئے۔ پابندیاں لگیں، تہوار جرم بن گیا۔ مگر کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوچا کہ مسئلہ بسنت نہیں تھا، بلکہ ہماری ترجیحات، ہماری اجتماعی بے حسی اور ہماری عدم ذمہ داری تھی؟بسنت دراصل موسمِ بہار کی آمد کا جشن تھا۔ یہ جشن کسان کی محنت کا اعتراف بھی تھا، فنکار کے ذوق کی پذیرائی بھی، بچے کی مسکراہٹ اور عورت کے رنگین لباس کا اظہار بھی۔ پیلے رنگ کی چادر، پھولوں کی خوشبو، مٹی کی مہک، دھوپ کی نرمی اور دلوں کی شگفتگی یہ سب بسنت کی پہچان تھے۔ مگر ہم نے اس ہمہ گیر ثقافتی شناخت کو سمیٹ کر ایک ہی شے میں قید کر دیا: پتنگ۔ اور پھر اسی ایک شے نے پورے تہوار کو متنازع بنا دیا۔یہ المیہ صرف بسنت تک محدود نہیں، یہ ہمارے اجتماعی رویے کا آئینہ ہے۔ ہم ہر خوبصورت روایت کو یا تو انتہا میں لے جا کر خود اپنے
ہاتھوں تباہ کر دیتے ہیں، یا پھر ردِعمل میں اسے مکمل طور پر ممنوع بنا دیتے ہیں۔ ہم توازن کھو بیٹھے ہیںاور جب معاشرہ توازن کھو دے تو خوشی بھی خوف میں بدل جاتی ہے، اور تہوار بوجھ بن جاتے ہیں۔اگر دنیا کے مہذب معاشروں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسمی اور ثقافتی تہوار کس طرح سماجی ہم آہنگی، معاشی سرگرمی اور قومی شناخت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جاپان میں چیری بلاسم فیسٹیول ہو، بھارت میں ہولی، یورپ میں اسپرنگ فیسٹیولز یا چین کے موسمی میلوں کی روایت کہیں بھی خوشی کو بدنظمی، تشدد یا لاپروائی کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ وہاں ریاست انتظام کرتی ہے، معاشرہ ذمہ داری لیتا ہے اور فرد تہذیب کا مظاہرہ کرتا ہے۔ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم تہوار کو یا تو مکمل آزادی دے دیتے ہیں، یا مکمل پابندی کی نذر کر دیتے ہیں۔ درمیانی راستہ یعنی نظم، شعور اور متبادل سرگرمیوں کا راستہ ہم نے کبھی سنجیدگی سے اختیار ہی نہیں کیا۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ بسنت کو محض پتنگ بازی کے کھیل تک محدود کرنے کے بجائے ایک مکمل ثقافتی میلے میں تبدیل کر دیا جائے؟سوچئے، اگر بسنت کے موقع پر لوک موسیقی کی محفلیں ہوں، صوفی کلام گونجے، شاعری کے سیشن ہوں، کتاب میلوں کا انعقاد ہو، دستکاری اور علاقائی ہنر کی نمائش لگے، پھولوں اور مصوری کے مقابلے ہوںتو کیا یہ بہار کے پیغام سے زیادہ ہم آہنگ نہ ہوگا؟ کیا ایسی بسنت خوف کے بجائے مسرت کا سبب نہیں بنے گی؟اگر بچوں کے لئے مصوری اور کہانی نویسی کے مقابلے ہوں، نوجوانوں کے لئے ادب، موسیقی اور ثقافت پر مکالمے منعقد ہوں، خواتین کے لئے ہنر مندی اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع پیدا ہوں، اور خاندانوں کے لئے محفوظ، باوقار تفریح میسر ہوتو بسنت محض ایک دن کا ہنگامہ نہیں بلکہ معاشرتی ربط کا ذریعہ بن سکتی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ثقافت کو تفریح سے الگ کر دیا ہے، اور تفریح کو بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خوشی بھی زخمی ہونے لگی۔ حالانکہ ثقافت وہ واحد ذریعہ ہے جو معاشروں کو نرم، مربوط اور باشعور بناتی ہے۔ ثقافت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ خوشی صرف شور کا نام نہیں، بلکہ توازن، حسن اور ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔بسنت کو مکمل طور پر رد کرنا دراصل اپنی تاریخ کے ایک باب کو بند کرنا ہے، اور بغیر اصلاح کے اسے واپس لانا ایک اور سنگین غلطی ہوگی۔ درست راستہ ان دونوں انتہاں کے درمیان ہے یعنی شعور، نظم، قانون اور متبادل سرگرمیوں کے ساتھ اس تہوار کی نئی تعبیر۔یہاں ریاست کا کردار محض پابندی لگانا نہیں، متبادل فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر محفوظ پتنگ بازی ممکن نہیں تو ثقافتی بسنت ممکن ضرور ہے۔ اگر جان لیوا ڈور ناقابلِ قبول ہے تو رنگ، موسیقی، ادب اور فن کیوں نہیں؟ سوال نیت کا ہے، وژن کا ہے اور اس اعتماد کا ہے جو ریاست اپنے شہریوں پر کرتی ہے۔بسنت ہمیں یہ سکھا سکتی ہے کہ خوشی بھی ایک ذمہ داری ہے۔ کہ رنگ بکھیرنے کے لئے خون بہانا لازم نہیں۔ کہ آسمان پر پتنگ نہ بھی ہو تو زمین پر مسکراہٹ ضرور ہو سکتی ہے۔ یہ تہوار ہمیں یہ پیغام دے سکتا ہے کہ تہذیب کا مطلب صرف ماضی پر فخر نہیں، حال میں ذمہ داری اور مستقبل کے لئے بصیرت بھی ہے۔کچھ روایتیں ماضی کا بوجھ نہیں ہوتیں، وہ مستقبل کی رہنمائی ہوتی ہیںبشرطیکہ ہم انہیں عقل، محبت اور شعور کے ساتھ نبھائیں۔ بسنت کو پتنگ کی ڈور سے آزاد کر کے ثقافت، مکالمے اور زندگی کے رنگوں سے جوڑنے کا وقت آ چکا ہے۔ شاید اسی میں ہماری سماجی نجات بھی ہے، اور تہذیبی بقا بھی۔