Wed, September 16, 2026

منزل دور نہیں…

منزل دور نہیں…

 آج دنیا بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے، پاکستان اورکشمیردوجسم ایک جان ہیں،کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے طاقت کے نشہ میں مدہوش ہندوستان نے کشمیر کی ایک کروڑ عوام پر مظالم کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے پاکستان کی عوام کشمیری بھائیوں کی اخلاقی سفارتی مدد جاری رکھے گی،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پچھلے78 سالوں سے ہندوستان کے غاصبانہ قبضے میں ہے، وہ وقت دورنہیں جب کشمیرمیں آزادی کاسورج طلوع ہوگا،جب تک کشمیریوں کو آزادی کی منزل نہیں مل جاتی پاکستان کابچہ بچہ انکی جدوجہدمیں شانہ بشانہ ہے آزادی کشمیرپاکستان کی تکمیل کا نا مکمل ایجنڈہ ہے جہاد کشمیر ہی وہ واحد راستہ جس سے کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی پانچ فروری یوم یک جہتی کشمیر مظلوم کشمیری عوام سے اظہار محبت کا دن ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی اور مقبوضہ کشمیر کی بنیادی حیثیت تبدیل کرنے کیلئے مظالم اور خون کی ہولی کھیل رہا ہے بھارت زیادہ دیر تک مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکتا عالمی برادری کی توجہ اور دباؤ کی وجہ سے بھارت کو جلد یا بدیر کشمیر کے مسئلے کا حل نکالنا پڑے گا کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو مزید دبایا نہیں جا سکتا اور ان کی قربانیاں جلد رنگ لائیں گی۔ دنیا کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرے اور بھارت کو انسانی حقوق کی پاسداری پر مجبور کرے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کے مسئلے کو حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ہے پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان گہرا تعلق ہے اور کشمیری عوام کی جدوجہد میں پاکستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا 1990 میں پہلی دفعہ یہ مطالبہ کیا کہ کشمیریوں سے تجدیدِ عہد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے، قاضی حسین نے بھٹو دور کے بعد پہلی دفعہ یہ کال دی، نواز شریف اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے جب کہ بے نظیر بھٹو کی مرکز میں حکومت تھی قاضی حسین احمد کے مطالبے کو نہ صرف پنجاب، وفاق، بلکہ باقی صوبوں نے بھی اہمیت دی اور یہ دن 5 فروری 1990 کو منایا گیا اور اس وقت سے اب تک یہ دن سرکاری طورپر منایا جاتا ہے، اس سے پہلے بھی پاکستان کشمیر میں بسنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے۔ پانچ فروری کا دن یوم یکجہتی کشمیر کے طورپر منایا جاتا ہے تب سے مسلہ کشمیردنیا بھرمیں مزید اجاگر ہوا ہے لیکن اقوام متحدہ کے ایک گزشتہ اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کرکے جو مثبت تاثر قائم کیا گیا تھا، افسوس بعد میں اس کا اثر زائل کردیا گیا۔ بھارت نے کشمیریوں پر ظلم وستم جاری رکھنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج کی کئی مزید بٹالینز اتاری ہیں اس کے باوجود کشمیروں کے حوصلے کو مات نہیں دی جا سکی جوں جوں بھارتی مظالم بڑھ رہے ہیں مظلومز کشمیریوں کے آزادی کیلئے جذبے جوان ہو رہے ہیں پیلٹ گنوںکے استعمال سے ہزاروں معصوم بچے بینائی سے محروم اور لاتعداد کشمیری شہادت کے رتبہ پر فائز ہو چکے ہیں ظالم مودی نے اہلِ کشمیر پر زمین تنگ کردی ، مگر کشمیری عوام آزادی کی تحریک کو کامیابی سے ہم کنار کرکے دم لیں گے، کشمیر جنت نظیر کی سرزمین پر بھارت کی درندہ صفت فوجیں اتنی بڑی تعداد میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی پر مامور ہیں کہ اس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی،ان کی آبادیاں ویران، کھیت کھلیان اور باغات تباہ حال، عصمتیں پامال اورپوری وادی آج مقتل بنی ہوئی ہے افسوس پاکستانی حکمران کئی مواقع پر بلاوجہ بھارت کی محبت میں دیوانے ہوئے جارہے ہوتے ہیں، کشمیری حریت پسند روزِ اول سے بھارتی تسلط کے خلاف سرپا احتجاج رہے ہیں،برہان وانی اب آزادی کا سمبل بن کر ہر کشمیری کے دل میں زندہ ہے، ہر نوجوان اب آزادی کے لیے جان ہتھیلی پہ لیے میدانِ جہاد میں ہے،مائوں بہنوں، بچوں کی شہادتوںنے کشمیری عوام کے دلوںمیں ایسا جذبہ پیدا کردیا ہے کہ اب وہ کسی صورت اپنی مادرِ وطن کو ہندو بنیے کے قبضے میں نہیں دیکھ سکتے یوم کشمیر قاضی حسین احمد رحمتہ اللہ علیہ کا صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ ان کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ اس یوم کے تعین کے لیے جن لوگوں نے سوچ بچار کی اور جنھوں نے اس کے لیے دستِ تعاون بڑھایا ان سب کا یہ عمل باعث اجر ہے جو جتنے اخلاص کے ساتھ مظلوم کشمیری بھائیوں کے لیے کام کرے گا، اتنا ہی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہوگا آج پوری دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے ، نام نہاد مغربی جمہوریت کے علمبردار کہتے ہیں کہ جمہوریت ہار گئی ہے جوان کی بھول ہے غلامی کی زنجیریں ضرورٹوٹیں گی اور جبر کا دور ختم ہو جائے گا۔

ٹیگز: