جنگ ہماری سرحدوں تک آن پہنچی ہے، ہم اس سے براہ راست متاثر ہونے والے ہیں۔ اسرائیل کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایران کی سب سے بڑی ایٹمی تنصیب سے تابکاری کا اخراج شروع ہو گیا ہے۔ ایرانی جوہری توانائی آرگنائزیشن کے ترجمان بہروز کمال وندی نے اخراج کی تصدیق کر دی ہے۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بہروز کمال وندی کا کہنا ہے کہ اصفہان میں ایران کی سب سے بڑی جوہری سائٹ نظنز جوہری تنصیب، اسرائیل میزائل حملے کے نتیجے میں تباہ ہوئی اور اس میں سے تابکاری کا اخراج ہوا ہے گو یہ باہر نہیں نکلی لیکن اس کا اخراج روکنا ضروری ہے۔
13جون 2025ء بروز جمعتہ المبارک اسرائیل نے ایران پر ایک بہت بڑا میزائل و ہوائی حملہ کیا۔ مقصد ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا بتایا گیا ہے۔ اسرائیل نے 200طیاروں کے ساتھ ایران کی عسکری، جوہری تنصیبات اور بلاسٹک میزائل فیکٹریوں پر دیوانہ وار حملے کئے جس میں 20ملٹری کمانڈرز بشمول چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد بگھیری، پاسداران انقلاب کے چیف حسین سلامی اور 6ایٹمی سائنس دان شہید ہوئے۔ اس حملے میں مجموعی طور پر 80شہادتیں ہوئیں۔ نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا گیا لیکن ایک بات واضح ہو گئی کہ اسرائیل نے بڑی شاندار منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اسرائیل نے صرف ایران کو برباد کرنے کی پلاننگ نہیں کی بلکہ وہ اس سے پہلے غزہ پر قبضہ کرنے، حماس کو نیست و نابود کرنے، عربوں کو ذلیل و خوار کرنے کی پلاننگ پر کامیابی سے عمل پیرا ہے۔ وہ یہ سب کچھ الل ٹپ نہیں کر رہے ہیں۔ وہ اپنا سنہری دور عروج واپس لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ دو ہزار سال سے تباہ حال اپنی روحانی عظمت کے نشان ہیکل سلیمانی کو تیسری بار کھڑا کرنے کا عزم بالجزم لئے، بڑی یکسوئی سے کوشاں ہیں۔ یہ لوگ یعنی اسرائیلی اس عظیم الشان اسرائیل کو دوبارہ قائم کرنے میں مصروف ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے قائم کیا تھا۔ گریٹر اسرائیل کا قیام، ایک ایسی عظیم الشان سلطنت کا قیام جس میں ہیکل سلیمانی جیسی الہامی عبادت گاہ مرکز ہو یہ وہ ہیکل ہے جس کا نقشہ حضرت دائود علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے دیا کہ وہ اس کی تعمیر کا آغاز کریں اس کی تکمیل حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی۔ یہی دور سلیمانی بنی اسرائیل کی تین ہزار سالہ تاریخ کا سنہری باب ہے۔ یہودی اسی دور کو واپس لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تشکیل صہیونی حکمرانوں کا مطمع نظر ہے۔ اسی عظیم ریاست کی تشکیل کے لئے نیتن یاہو مصروف عمل ہے، یہی ریاست بن گوریان کے پیش نظر تھی۔
ایک عظیم الشان یہودی ریاست کے قیام کا تخیل یا فیصلہ 1897ء میں باسل میں منعقد ہونے والی پہلی صہیونی کانگریس میں تھوڈور ھرزل نے پیش کیا۔ اسی کانگریس میں پہلی عالمی صہیونی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کانگریس میں یہودی سوال کے حل کے لئے ایک ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔
وہ دن اور آج کا دن، صہیونی تحریک کے تحت یہودی، اسرائیل کے قیام میں لگے ہوئے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کا قیام یہودیوں کے لئے ایک مذہبی فریضے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہودیوں نے 1917ئ، 2نومبر میں برطانیہ سے یقین دہانی حاصل کی جسے بالفور ڈکلیئریشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہودیوں نے 1897ء میں یہودی ریاست کے قیام کا فیصلہ ٹھیک 20سال کے اندر اندر یعنی 1917ء میں اس دور کی سپر طاقت سے یقین دہانی حاصل کی اور پھر 29نومبر 1947ئ، اقوام متحدہ کی 181ریزولوشن، جیسے پارٹیشن ریزولوشن یا قرارداد تقسیم کے ذریعے فلسطین کی تقسیم کا فیصلہ بھی کرا لیا۔ پھر صہیونی رہنما ڈیوڈ بن گوریان نے 14مئی، بروز جمعتہ المبارک 1948ء کو ایک آزاد ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔
نقشے پر دیکھ لیجئے کہ یہ اسرائیل کتنا بڑا تھا اس کی سرحدیں کہاں تک تھیں اور کہاں کہاں تھیں پھر اس نے یعنی اسرائیلی حکمرانوں نے اسے کہاں کہاں بڑھایا، پھیلایا اور پھیلاتا چلا جا رہا ہے پھر دیکھیں کہ گریٹر اسرائیل کا نقشہ کیا کہتا ہے۔ اس کی سرحدیں کہاں تک ہیں۔ آپ کو خود سمجھ آ جائے گی کہ اسرائیل جو کچھ کرتا آ رہا ہے وہ کیا ہے اور جو وہ مستقبل میں کرے گا کیا ہوگا۔ وہ اپنی سرحدات طے شدہ منصوبے کے مطابق بڑھا رہا ہے اور یہ سب کچھ کوئی خفیہ منصوبہ یا سازشی پلان نہیں ہے بلکہ اعلان کردہ اور طے شدہ منصوبے کے مطابق ہے۔ عظیم اسرائیل کا قیام۔ یہ ہماری کمزوری، بزدلی اور نالائقی ہے کہ ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے۔ اسرائیل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مصر، عراق، شام کی بربادی کے بعد ایران کا عسکری جوہری بازو مروڑنے اور توڑنے کے لئے۔ اس سے پہلے لبنان، یمن، شام، عراق اور اطراف میں ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں کا ناطقہ بند کرنے کے بعد اب ایران پر ضرب کاری لگانے کے لئے 13جون بروز جمعہ اس پر حملہ آور ہو گیا ہے۔ ایران کا ردعمل خاصا غیرت مندانہ ہے لیکن بہت زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ ایران باتیں بہت زیادہ کرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے کہ میں یہ کر دوں گا وہ کر دوں گا لیکن ایسا ویسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایرانی میزائل کیا اسرائیل پر قیامت ڈھا رہے ہیں، کیا عذاب الٰہی بن کر برس رہے ہیں، ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے لیکن ایران کی بربادی نوشتہ دیوار نظر آ رہی ہے۔ اسرائیل ایک توانا اور فکری و عملی طور پر مکمل طور پر چارجڈ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ’’اسرائیل کی بھیڑوں کو اکٹھا کروں گا‘‘ یہ اللہ نے کہا تھا اور اللہ نے وہ وعدہ 1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کے ذریعے پورا کر دیا ہے پھر بقول یہود ’’تمہیں عزت دوں گا‘‘ کا وعدہ بھی پورا ہو کر رہے گا۔ ہیکل کی تیسری مرتبہ تعمیر اور مسیح کی آمد کے ساتھ ہی یہود کا عالمی غلبہ، یہ سب کچھ ان کی مقدس دستاویزات میں لکھا ہے اور وہ اس کے مطابق معاملات ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ہم ڈیڑھ ارب سے زائد ہونے اور وسائل کی بہتات ہونے کے باوجود ذلیل و خوار ہیں جبکہ یہود ایک کروڑ چالیس لاکھ کی قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود عالمی طور پر برسراقتدار ہیں، ان کی پالیسیاں چلتی ہیں، ان کا سکہ چلتا ہے۔
اسرائیل میں 60لاکھ کے قریب یہودی بستے ہیں۔ یاد رہے یہ ایک کروڑ 40لاکھ یہودی برادری کا حصہ ہیں یعنی مجموعی آبادی میں شامل ہیں۔ اسرائیل نے عربوں کا ناطقہ بند کر رکھا، عرب عظیم الشان تہذیب، الہامی پیغام، دنیا کے وسائل اور کثیر آبادی رکھنے کے باوجود قلیل ترین اور ذلیل ترین قوم کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔ اسرائیل ان کے سینے پر مونگ دل رہا ہے ہم کچھ بھی نہیں کر پا رہے ہیں۔ اسرائیل ہر روز ہر لمحہ اپنے حتمی ٹارگٹ، اپنی الہامی منزل یعنی تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر اور گریٹر اسرائیل کے قیام کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ وہ اپنی منزل کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو روندتا، بلڈوز کرتا آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور ہماری بے چارگی عیاں ہوتی چلی جا رہی ہے ایران کی طرح۔