Wed, September 16, 2026

افغانستان کے ساتھ سرحد صرف انسانی امدادی کارروائی کے لیے کھولی ہے:دفتر خارجہ

افغانستان کے ساتھ سرحد صرف انسانی امدادی کارروائی کے لیے کھولی ہے:دفتر خارجہ

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں بند رکھنے کا فیصلہ جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدیں صرف امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کھولی گئی ہیں اور یہ اس وقت تک بند رہیں گی جب تک افغانستان کی جانب سے دہشت گردی اور تشویش کے عوامل کو روکنے کی مکمل یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر انداربی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد صرف انسانی امداد کی ترسیل کے لیے کھولی ہے، اور اس میں صرف یو این کی امدادی اشیاء کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ سرحد کی بندش افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی اور پاکستان میں افغان شہریوں کے ذریعے جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی طرف سے اپنی سرحدیں بند کرنے کے بارے میں جواب انہیں ہی دینا چاہیے، کیونکہ پاکستان نے اپنی سرحدیں سکیورٹی کے مقصد کے تحت بند کی ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک سرحدیں نہیں کھولیں جائیں گی جب تک افغان حکومت دہشت گردوں اور پرتشدد عناصر کے پاکستان میں داخلے کو روکنے کی پختہ یقین دہانی نہیں کراتی۔

ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ امن اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے لیے تیار ہے، اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے کرغزستان کے صدر کے حالیہ دورے کا ذکر کیا۔ دونوں ممالک نے تجارتی حجم کو بڑھانے کی کوششوں پر اتفاق کیا اور ایم او یوز پر دستخط کیے۔ 

طاہر انداربی نے بابری مسجد کے انہدام کے 33 سال مکمل ہونے پر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیاز پر تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ یہ بھارت کے مسلمانوں کے لیے تکلیف دہ اور افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر مذہبی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مقدس مقام کی بے حرمتی پر سخت احتساب کیا جانا چاہیے۔

پاکستان نے بھارت اور افغانستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ پاکستان اس پر نظر رکھے گا اور اپنے تحفظات اٹھاتا رہے گا۔

ٹیگز: