Wed, September 16, 2026

افغانستان کے ساتھ جنگ بندی روایتی نہیں، دہشت گرد حملوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے: دفتر خارجہ

افغانستان کے ساتھ جنگ بندی روایتی نہیں، دہشت گرد حملوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے: دفتر خارجہ

اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے وضاحت دی ہے کہ افغانستان کے ساتھ جاری جنگ بندی ایک روایتی معاہدہ نہیں، بلکہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں یا نہیں۔

جمعہ کو اپنے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ یہ جنگ بندی دو ملکوں کے درمیان جنگ ختم کرنے کی معمول کی جنگ بندی نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کو روکنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں افغانستان سے دہشت گردی کی وارداتوں کے باوجود جنگ بندی کی پائیداری کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ "اگر افغان شہری پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جیسے کہ اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں حالیہ واقعات ہوئے، تو اس کا مطلب ہے کہ جنگ بندی کا مقصد پورا نہیں ہو رہا۔"

پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات اس وقت انتہائی کشیدہ ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہیں 11 اکتوبر سے بند ہیں، جس کے بعد دونوں طرف شدید جھڑپیں اور فضائی حملے ہوئے، جن میں درجنوں افراد کی جانیں گئیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوششیں ترکی اور قطر نے کیں، جس کے نتیجے میں ایک عارضی جنگ بندی ہوئی، تاہم اس کے بعد ہونے والی بات چیت میں کوئی قابلِ عمل معاہدہ سامنے نہیں آیا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر طرح کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اس صورتحال کو نہایت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
 
 

ٹیگز: