افغانستان پانچ دہائیوں سے اندرونی اور بیرونی امن کے لئے آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ طالبان کے 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد افغانستان ایک نئے پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ افغان طالبان کو یقین ہو گیا ہے کہ اگر وہ بغیر کسی سیاسی عمل اور بغیر معمولی سی مزاحمت کے 2021 میں افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کر سکتے ہیں تو طالبان کو پاکستانی طالبان کا نام دے کر پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ علاقوں پر قبضہ کیوں نہیں کر سکتے؟۔ اسی قابضانہ خیال نے افغان طالبان کو دہشتگردی کو بطور ڈیٹرنس استعمال کرنے کا راستہ دکھایا ۔ چنانچہ اسی غاصبانہ سوچ کے تحت افغانستان سے پاکستان اور تاجکستان میں حملے شروع کردئیے گئے۔ پاکستان، تاجکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے علاوہ امریکہ تک دہشتگردی کی نئی لہر نے یہ سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی شدت پسند نیٹ ورکس اور دہشت گرد گروہوں کا مرکز بن چکا ہے اور یہ کہ عالمی امن کے حصول کیلیے چار برس سے جاری غاصب افغان رجیم کی جلد تبدیلی اور جمہوری عمل کے ذریعے عوامی حکومت کا قیام انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔
افغانستان کا ایک بار پھر بدلتا ہوا منظرنامہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ طالبان حکومت بارہا یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی لیکن اس کے برعکس دہشتگردی افغانستان سے پاکستان, تاجکستان اور امریکہ تک پہنچ چکی ہے۔ افغانستان کے اندر آج بھی داعش خراسان ، تحریک طالبان پاکستان ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور القایدہ وسطی ایشیا کے شدت پسند گروہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں موجود بھی ہیں اور متحرک بھی۔
افغانستان کی خراب معیشت، نامکمل حکومتی ڈھانچہ، مقامی طاقت کے الگ الگ مراکز اور وسیع غیر محفوظ علاقے ان گروہوں کو محفوظ جگہیں فراہم کرتی ہیں۔ طالبان کی خواہش اور صلاحیت کے درمیان فرق نے عالمی خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔
واشنگٹن میں شیریڈن سکیورٹی گارڈز پر حملے نے امریکہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ افغان حملہ آور ایسے شدت پسند حلقوں سے متاثر ہو سکتے ہیں جن کے روابط جنوبی اور وسطی ایشیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس حملے کا براہِ راست تعلق طالبان حکومت سے ہوسکتا ہے۔ ادھر داعش خراسان کی عالمی سطح پر کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
افغانستان۔تاجکستان سرحد کے قریب چینی شہریوں پر دو ڈرون حملوں نے وسطی ایشیائی ممالک میں افغانستان سے ابلنے والی دہشتگردی کا خوف بڑھا دیا ہے۔
چین طویل عرصے سے ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور اس سے وابستہ عناصر کی افغانستان میں موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا آیا ہے۔ سرحدی علاقے میں چینی شہریوں پر حملے چین کے انہی خدشات کی تصدیق کرتا ہے۔ ان دونوں واقعات نے چین اور تاجکستان کو باور کرایا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کی عدم موجودگی پورے بیلٹ اینڈ روڈ خطے کیلئے براہِ راست خطرہ ہے۔
پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ تحریک طالبان پاکستان کے اْن عناصر نے کیا جنہیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ افغان سرحدی حدود کے اندر دہشت گردی کے مراکز فعال ہیں۔
بھارت افغانستان کے عدم استحکام سے فائدہ اٹھا کر افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ رواں برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں بد ترین شکست کھانے کے بعد بھارت باولا ہو کر پاکستان کے در پے ہو گیا ہے۔ پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے خوف سے اب بھارت پاکستان پر فضائی حملے کی حماقت تو بالکل نہیں کرے گا ۔ البتہ افغان طالبان, بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کیلیے ضرور استعمال کرتا رہے گا کیونکہ اسطرح اسے شکست کی ندامت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا اور وہ کرائے کے قاتلوں سے اپنا مقصد بھی پورا کرتا رہے گا۔
علاقائی عدم اعتماد شدت پسند گروہوں کو ہمیشہ فائدہ دیتا ہے۔ پاک بھارت اور پاک افغان کشیدگی کی فضا میں دہشت گرد گروہوں کے پاکستان میں منظم حملوں میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔ ممالک ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں تو اصل فائدہ دہشت گرد تنظیمیں اٹھاتی ہیں۔ افغانستان میں سرگرم دہشت گردوں کے مختلف فعال گروہ پاکستان, چین، روس, ایران اور وسطی ایشیا کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ خطے میں ترقی ,شعور اور امن کے دشمن افغانستان کے علاوہ پاکستان, ایران, چین, روس اور وسطی ایشیائی ممالک زبردست معاشی ترقی کے خواہاں ہیں۔
داعش خراسان خود کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس کے نشانے پر چین، امریکہ، روس، ایران اور پاکستان سبھی شامل ہیں۔ وسطی ایشیا کے کئی گروہ افغانستان میں ٹھکانہ بنائے بیٹھے ہیں اور سرحد پار اپنے نیٹ ورکس سے دوبارہ جڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لہٰذا خطہ ایک بار پھر تباہی کے مرکز میں تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ افغانستان میں فعال ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے چین اپنی بیلٹ اینڈ روڈ سرمایہ کاری اور سنکیانگ کی سلامتی کے لیے فکرمند ہے۔ روس داعش کے ممکنہ حملوں سے پریشان ہے جبکہ تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان بھی سرحدی دہشتگردی پر قابو پانے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
افغان طالبان کی جہالت ,بربریت ، غربت اور سیاسی انتشار سے بھاگ کر لاکھوں افغان مختلف ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور واپس افغانستان جانے کو تیار نہیں۔ افغان طالبان اور شدت پسند افغانوں کی دہشت گرد کارروائیوں کی اجتماعی سزا عام افغانوں کو جھیلنا پڑ رہی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر دنیا افغانوں کو مزید پناہ دینے کیلئے قطعا تیار نہیں۔ پاکستان اور ایران افغان ناسور سے چھٹکارا پانے کیلئے انہیں پہلے ہی افغانستان واپس بھیج رہے ہیں۔ دہشتگرد اور مجرمانہ ذہنیت کے حامل افغان وسطی ایشیائی ریاستوں ، پاکستان، ایران، چین اور روس کی سلامتی کیلئے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں۔
غیر قانونی افراد کی جامع سکریننگ اور شدت پسندوں سے منسلک افراد کی ملک بدری یقینی بنانا ہو گی۔ انتہا پسندی سفارتی تناؤ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
افغانستان سے برآمد ہونے والی دہشت گردی آج عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ واشنگٹن سے پشاور اور شنجیانگ سے دوشنبے تک، ہر جگہ افغانستان سے پھوٹنے والی دہشتگردی کے تباہ کن اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے دنیا ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنائے۔ افغانستان کی حکومت، ہمسایہ ریاستیں، عالمی طاقتیں اور علاقائی تنظیمیں ایک مضبوط تعاون پر مبنی فریم ورک تشکیل دیں۔ جب تک افغانستان میں عوام کی نمایندہ حکومت کے قیام کے بعد پائیدار سیاسی استحکام نہیں آتا افغانستان سے اٹھنے والی دہشتگردی کے منحوس سائے دنیا بھر میں پھیلتے رہیں گے۔ عالمی امن پاکستان , ایران, وسطی ایشیا, چین, روس حتیٰ کہ امریکہ کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ یہی حقیقت عالمی طاقتوں کو افغانستان سے ابلتی دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی کی جانب لاتی ہے۔