صحافیوں کی بڑی تعداد نے ہمیشہ مشکل وقت میں ریاست کو بچانے کی کوشش کی ہے اور کرتے رہیں گے کہ یہ ریاست کسی ایک فرد کی نہیں ہر اس پاکستانی کی ہے جو اِس کا پھول ہے یا کانٹا۔ سوشل میڈیا کو بلاشبہ پی ٹی آئی نے انتہائی مکاری سے استعمال کر کے نوجوانوں کے ذہنوں میں ریاست مخالف خیالات اورتصورات کے انبار لگا دیئے ہیں۔ پاکستان کے ہزاروں قلمکار اس اثر کو زائل کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہیں اور اِس میں بڑی کامیابیاں بھی ریاست کے حصے میں آئی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر اب چند خواتین اور کچھ مرد نما اشخاص دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان حالات کشیدگی کی آخری حد تک نہ جاتے تو یقینا پاکستان میں بھی حالات بہتر ہونا تھے۔ ہم ایران اور امریکہ کو جنگ سے وقتی طور پر تو روک سکتے ہیں لیکن اس کا مستقل حل ایران اور امریکہ کے پاس ہی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی امن معاہدہ نہیں ہوتا تو ہمیں بھی بدترین معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بیرونی مصیبتیں اپنی جگہ ہمیں عوام کو تو وہ ریلیف دینا چاہیے جس کو فراہم کرنے کا وعدہ آئین پاکستان نے کر رکھا ہے۔
اداروں کے خلاف پھیلائی گئی عمرانی نفرت اتنی دیر تک بالکل ختم نہیں ہو گی جب تک ریاست پاکستان کے ملازم خود کو پبلک سرونٹ نہیں سمجھیں گے۔ میڈم وزیراعلیٰ کے حکم کے مطابق پولیس کو حکم جاری کیا گیا کہ وہ پنجاب کے شہریوں کو ”سر“ یا ”جناب“ کہہ کر بلایا کریں۔ مریم نواز ہماری بہن اور بیٹی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آنے والے کل میں پنجاب کی دوسری بیٹیاں بھی اعلیٰ ترین عہدوں پر خدمات سرانجام دیں یہی روشن پاکستان کا حقیقی چہرہ ہے۔ میڈم وزیر اعلیٰ کے احکامات کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ شرقپور لاہور کی ایک نجی ہاو¿سنگ سوسائٹی کے گارڈز نے ایک شخص کو گھر کے باہر انتہائی بیددری سے اُس کی بیٹی کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا فحش گالیاں دیں اور پھر اُسے اٹھا کر ڈالے میں ڈال لیا۔ بیٹی باپ کو بچانے کیلئے چیختی چلاتی رہی، ڈالے میں باپ کے ساتھ بیٹھنے کیلئے بھاگتی رہی۔ اُس بیٹی کی چیخیں ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ میرا اُس بیٹی سے صرف اتنا رشتہ ہے کہ میں خود دو بیٹیوں کا باپ ہوں اور چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ میرے گھر کے باہر ہو رہا ہے اور میری بیٹیاں چیخ رہی ہیں۔ باپ تو بیٹی کا ہیرو ہوتا ہے اور بیٹی کے سامنے باپ کو بے آبرو کر کے زیرو کرنے والوں کی ایک ویڈیو گھر کے اندرکی بھی ہے جہاں وہ بد تمیزی اور بدتہذیبی کی انتہا کرتے ہوئے سیڑھیوں میں اُس شخص کو گھسیٹ کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ گھر کی خواتین کی چیخ و پکار روح کی روح کو زخمی کر رہی تھی۔ رات گئے نجی کمپنی کا مالک اپنے بیٹے اورکچھ لوگوں کے ساتھ مدعی کے گھر پہنچتا ہے اور اس سے معافی مانگتا دکھائی دیتا ہے۔ کیا ٹریس پاس چھوٹا جرم ہے؟ کیا چادر اور چار دیواری کی پامالی قابل معافی ہے؟ کیا اغوا کرنے والے گھر آ کر معافی مانگ سکتے ہیں جبکہ وہ طاقتور ترین لوگ بھی ہوں؟ بہنوں بیٹیوں کے سامنے غلیظ گالیاں بکنے والوں کے گریبانوں تک قانون کے ہاتھ ابھی تک کیوں نہیں پہنچے؟ اس ہاو¿سنگ سوسائٹی کی حدود شیخوپورہ پولیس کی حدود میں آتی ہیں۔
ابھی اس صدمے کے آفٹر شاکس آ رہے تھے کہ رانا وقاص کی کال آئی جو گلوریس بلڈرز کے نام سے تعمیرات کا کام فیز 6 DHA\±ٍ لاہور میںکئی سال سے کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جن اچھے لوگوں سے دوستی ہوئی وہ بھی اُن میں سے ایک ہیں۔ نمازی، پرہیز گار، خوف خدا رکھنے والا نوجوان، سال کا لاکھوں روپے ٹیکس ادا کرنےوالا شہری اورانسانوں کے دکھوں میں شریک ہونے والی بہترین مخلوق۔ اُس کے مطابق میاں مشتاق نامی شخص نے 10مرلے کے مکان کی تعمیر کیلئے اُس کی کمپنی کی خدمات حاصل کیں۔ 30 مارچ کو میاں مشتاق اپنے تین بیٹوں، بیٹی اوربیوی کے ساتھ اُس کے دفتر آئے اور میاں مزمل نے اصرار پر بقایا رقم اپنے بنک اکاو¿نٹ سے بذریعہ ایپ کمپنی کے نام پر ٹرانسفرکر دی اور حساب بے باک ہو گیا۔ پیسوں کی ادائیگی کے بعد میاں مشتاق کے تینوں بیٹوں، اُن کی اہلیہ اور بیٹی نے نہ صرف بدزبانی شروع کر دی بلکہ میرے دوست وقاص اور اُس کے عملے کی ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔ کیبن کی کنڈی اندر سے لگا کر رانا وقاص کو محبوس کر لیا گیا۔ میاں مشتاق کی بیٹی حرا مشتاق نے میڈیا اور سوشل میڈیا کی دھمکیاں دیتے ہوئے رہائی کے بدلے 50 لاکھ تاوان کا مطالبہ کر دیا۔ میاں مشتاق کی بیٹی نے رانا وقاص کی گاڑی لے جانے کی نیت سے گاڑی کی چابی نکالنے کی کوشش کی اور منع کرنے پر میاں مشتاق کے بیٹوں نے زد و کوب کیا اور قتل کی دھمکیاں دیں۔ رانا وقاص نے جرابوں میں چھپائے اپنے موبائل سے واش روم میں جا کر 15 پر کال کی اور پھر اپنے آرمی آفیسر دوست کو موبائل سے پیغام بھیجا کہ میری جان خطرے میں ہے۔ دوست اور پولیس اکھٹے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تقریباً چھ سات گھنٹوں کے بعد محبوس افراد کو رہائی نصیب ہوئی۔ موقع پر پہنچنے والے اے ایس آئی نے مدعی کو تسلیاں دیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ہم ان کے خلاف سنگین مقدمات کی ایف آئی آر درج کریں گے۔ ملزمان کی مدد کیلئے کوئی چیئرمین تھانہ ڈیفنس سی پہنچ گیا اور پھر پولیس بھی سی کلاس ہو گئی۔ وہی پولیس افسران جو پہلے تسلیاں د
ے رہے تھے اب مدعی کو گالیاں بکتے ہوئے کہنے لگے کہ تمہیں بازیاب کرا لیا ہے کیا اتنا کافی نہیں؟ تنویر نامی سب انسپکٹر رانا وقاص کو ملزمان کے حوالے کر کے چلا گیا۔ مدعی خوفزدہ ہو گیا کیونکہ سامنے بیٹھے ملزمان قہقہے لگا رہے تھے سو اُس نے گھبرا کر تھانے نکلنے میں عافیت جانی۔15 کی کال صلح کاکہہ ختم کردی گئی اور 1787 پر درج کرا دی شکایت کے نتیجہ میں کبھی ڈی آئی جی کے پرسنل سٹاف کا بے سود فون آ جاتا اور کبھی ایس پی کینٹ کی طرف سے کال موصول ہو جاتی کہ آپ ڈی ایس پی برکی کے آفس آ جائیں۔ آئی جی پنجاب کی بہترین سروس کو ناکارہ پولیس ملازمین نے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا رانا وقاص اپنے دفتر نہیں جا رہا اور اب تھانہ ڈیفنس سی سے سب انسپکٹر ہارون کی کال آئی کہ آپ کے خلاف 10 جنوری کو چوری کرنے کی ایک درخواست آئی ہوئی ہے تھانے پہنچ کر صفائی دیں۔ آئی جی پنجاب پولیس راو¿ عبد الکریم ایک نہایت شفیق انسان ہیں۔ وہ دیانتداری سے پولیس کو ایک پروفیشنل ادارہ بنانے کیلئے کالی بھیڑوں کو نکال رہے ہیں لیکن گندگی بہت زیادہ ہے۔ معاشرے میں بھی اور ادارے میں بھی لیکن امید ہے کہ ان دو واقعات کے خلاف پولیس روایتی بے حسی کا مظاہرہ نہیںکرے گی۔ کیونکہ پولیس نے صرف ملزمان کو گرفتارہی نہیں کرنا بلکہ پاکستانی عوام کا وہ اعتماد بھی اداروں پر بحال کرانا ہے جو گزشتہ برسوں میں شعوری طور پر اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے برباد کیا ہے۔