گزشتہ کالم لاہور میں پانی کے موضوع پر لکھا تھا جو بلاشبہ لاہور کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے تاہم اس کے علاوہ بھی اس شہر کے بہت سے مسائل ہیں جنھیں حل کرنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں اور یقینا ان پر بڑی حد تک قابو بھی پایا جا چکا ہے لیکن لاہور اتنا بڑا شہر ہے کہ ایک طرف اس کا ایک مسئلہ حل ہو تو دوسری جانب کوئی دوسرا مسئلہ سر اٹھائے کھڑا ہوتا ہے۔ لاہور میں صفائی اور ٹریفک جیسے مسائل بہت اہم ہیں جو بہت شدت سے حل کے متقاضی ہیں۔ یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت انھیں حل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں متعدد منصوبے بھی شروع کر رکھے ہیں۔
لاہور کے دیگر بڑے مسائل میں یہاں کی فضائی آلودگی، صفائی ستھرائی کے مسائل، بے ہنگم ٹریفک اور امن و امان کی صورت حال سرفہرست ہیں۔ ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت کئی ایک منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
لاہور کی فضا اور ماحول پر کام کرنے کے لیے محکمہ تحفظ ماحولیات کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے باقاعدہ ایک فورس بنائی گئی ہے جسے جدید ترین گاڑیاں بھی دی گئی ہیں۔ یہ فورس تعمیرات پر گہری نگاہ رکھتی ہے تاکہ وہاں سے اٹھنے والا گرد و غبار اور دھواں ماحول کو آلودہ نہ کرے، دھواں چھوڑنے والی ٹریفک پر بھی نظر رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سماگ گنز بھی متعارف کرائی گئی ہیں جو مختلف مقامات پر پانی کا چھڑکاو¿ کر کے سماگ کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ اس تمام تر کوشش کے باوجود شہر کی فضا شاذ و نادر ہی صاف نظر آتی ہے۔ پہلے تو صرف چند مخصوص مہینوں میں سماگ ہوتی تھی لیکن اب تو یہ عفریت سارا سال شہر کی فضا کو جکڑے رکھتا ہے جس کے باعث لوگ سانس کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے ستھرا پنجاب کے نام سے بھی ایک بہت شاندار پروگرام شروع کیا گیا ہے لیکن افسر شاہی کی روایتی بے حسی اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث یہ پروگرام بھی ابھی تک وہ نتائج نہیں دے پا رہا جس کی اس سے توقع کی جا رہی تھی۔ شہر کے جو علاقے پہلے سے صاف ستھرے ہیں وہ تو واقعی صاف نظر آتے ہیں لیکن جن علاقوں کو حقیقی معنوں میں صفائی کی ضرورت ہے وہاں اب کوڑا کرکٹ اور تعفن پہلے سے زیادہ جمع ہونے لگا ہے۔ گزشتہ سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر ستھرا پنجاب کے عملے نے بہت جانفشانی سے کام کیا تھا اور عید کے روز بھی کہیں کوئی آلائش نظر نہیں آئی جس پر وزیر اعلیٰ نے ستھرا پنجاب والوں کو شاباش بھی دی اور انعامات سے بھی نوازا تھا۔ ستھرا پنجاب والوں کی ویسی کارکردگی کا عام دنوں میں فقدان نظر آتا ہے۔
لاہور کا ایک بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ پرانے لاہور کے سڑکوں پر سارا سارا دن ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے جبکہ شہر کے باقی حصوں میں بھی ٹریفک کی بدنظمی عام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر کے بہت سے علاقوں میں کوئی باقاعدہ پارکنگ موجود نہیں جس کی وجہ سے لوگ سڑکوں کے کنارے یا جہاں جی چاہتا ہے گاڑیاں کھڑی کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں بہت زیادہ خلل آتا ہے۔ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ متعدد علاقوں میں اس وقت بھی کئی ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن میں کچھ نئے انڈرپاسز اور فلائی اوورز کی تعمیر شامل ہے اور کچھ نئے زیر زمین پارکنگ پلازے بنائے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کچھ تکمیل کے قریب ہیں۔
امید ہے کہ ان کی تکمیل کے بعد ٹریفک کے مسائل میں کسی قدر بہتری ضرور آئے گی لیکن اب تک کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ایسے تمام منصوبوں کی تکمیل کے بعد بھی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں عوام الناس کو بھی سیدھے راستے کی بجائے، الٹے راستے استعمال کرنے کی زیادہ عادت ہے۔ چنانچہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کوقانون پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے۔ ٹریفک پولیس بھی اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کر رہی ہے لیکن یہ کردار بھی چند مخصوص علاقوں تک محدود ہے جو نسبتاً پر سکون ہیں۔ زیادہ ہجوم والے علاقوں میں لوگ کھلم کھلا ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہوتے ہیں اور پولیس والے بے چارے خاموش تماشائی بنے بے بسی سے یہ سب کچھ ہوتا دیکھتے رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال زیادہ تر پرانے لاہور میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ ایسے علاقے ہیں جہاں لاہور کی تمام بڑی بڑی مارکیٹیں واقع ہیں اور ملک بھر سے لوگ خریداری کے لیے ادھر کا رخ کرتے ہیں۔
لاہور کے یہ مسائل آج کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ یہ گزشتہ چالیس پچاس سال کے دوران پیدا ہوئے ہیں اور بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور اس وقت بہت پھیل چکا ہے۔ بہت سی نئی بستیاں وجود میں آ گئی ہیں جو یقینا بہت خوبصورت ہیں اور دوسرے شہروں سے آنے والے عام طور پر انہی علاقوں کی خوبصورتی سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ لاہور انتظامی طور پر ملک کے دوسرے شہروں سے بہت بہتر ہے اوراس کا سہرا بھی پنجاب کے برسر اقتدار طبقے کے سربندھتا ہے جو ہمہ وقت لاہور کو ایک بے مثال شہر بنائے رکھنے کی منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے تاہم دیکھا یہ گیا ہے کہ شہر کی انتظامی مشینری بالخصوص بیوروکریسی کی اپنی ترجیحات اور مفادات ہیں، اس لیے اس کی ساری توجہ نئی بستیوں کی طرف مبذول رہتی ہے اوروہ جس قدر ممکن ہو تمام وسائل کا رخ انھی بستیوں کی طرف موڑے رکھتی ہے حالانکہ اصل لاہور تو پرانا لاہور ہے، اسی میں زیادہ لوگ آباد ہیں، یہیں سب کاروباری مراکز واقع ہیں، اسی کی تاریخی حیثیت ہے۔ اسی کو والڈ سٹی بھی کہا جاتا ہے اور اسی کے مکین لاہوریے کہلاتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی والڈ سٹی کو بہتر بنانے کے ذمہ دار ادارے والڈ سٹی اتھارٹی کا صدر دفتر بھی والڈ سٹی میں نہیں بلکہ ایک نسبتاً جدید علاقے میں واقع ہے۔ یہیں سے بیوروکریسی کی لاہور کو بہتر بنانے کے حوالے سے سنجیدگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر کی جدید بستیوں کے ساتھ ساتھ پرانے حصوں کو بہتر بنانے پر بھی توجہ مبذول کرائی جائے کیونکہ وہ اس وقت مسائل کی آماج گاہ بنا ہوا ہے، جبکہ لاہور سے محبت رکھنے والے لوگوں کی اکثریت اسی لاہور سے محبت کرتی ہے جو ماضی کا لاہور ہے۔