لاہور ایک زندہ شہر ہے، شور سے بھرا، لوگوں سے بھرا اور کہانیوں سے بھرا ہوا مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اس شہر میں زندگیاں جتنی تیزی سے چلتی ہیں، اتنی ہی خاموشی سے ختم بھی ہو جاتی ہیں۔ کبھی کسی کھلے گٹر میں، کبھی کسی آوارہ کتے کے کاٹنے سے، کبھی کسی کے پالتو جنگلی جانور کے حملے سے اور کبھی کسی اچانک حادثے میں اور ہر بار ہم چونک جاتے ہیں، چند دن شور مچاتے ہیں پھر اگلے سانحے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔داتا دربار کے قریب پیش آنے والا حالیہ واقعہ لاہور کے لیے کوئی پہلا سانحہ نہیں تھا مگر یہ ایک ایسی علامت ضرور بن گیا ہے جس نے شہر کے اصل مسئلے کو ننگا کر دیا۔ ایک عام شہری، ایک عام راستہ اور ایک ایسا خطرہ جو مہینوں نہیں شاید برسوں سے وہیں موجود تھا۔ سوال یہ نہیں کہ حادثہ کیوں ہوا سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے کسی نے دیکھا کیوں نہیں؟ اور اگر دیکھا تھا تو ذمہ داری کس کی تھی؟ہمیں سچ مان لینا چاہیے کہ لاہور جیسے بڑے شہر کے مسائل کسی ایک دفتر، کسی ایک شخصیت یا کسی ایک حکم سے حل نہیں ہو سکتے بلکہ یہ شہر ایک نظام مانگتا ہے ،ایسا نظام جو گلی، محلے اور سڑک کی سطح پر کام کرے مگر بدقسمتی سے اور پوری پلاننگ سے ہمارے ہاں یہ سطح سب سے زیادہ نظر انداز کی گئی ہے۔
پاکستان میں، خاص طور پر پنجاب میں، ایک عجیب سی توقع بنا لی گئی ہے کہ وزیراعلیٰ ہر مسئلے کا حل خود دیکھے۔ کہیں سڑک ٹوٹی ہو، کہیں سیوریج کا مسئلہ ہو، کہیں کتوں کے کاٹنے کے واقعات بڑھ جائیں، سوشل میڈیا اور کچھ شخصیات سمیت مخالف سیاسی جماعتوں کے فالورز فوراً نگاہیں وزیراعلیٰ کی طرف اٹھا لیتے ہیں۔ جیسے پورے صوبے کی انتظامیہ، بیوروکریسی اور مقامی ادارے صرف نام کے ہوں، اصل ذمہ داری ایک فرد پر ڈال دی گئی ہو۔یہ توقع نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ہی منصفانہ۔دنیا کے کسی بھی فعال نظام میں شہر کے روزمرہ مسائل بلدیاتی حکومتیں سنبھالتی ہیں۔ وہ حکومتیں جو اسی شہر میں رہتی ہیں، اسی شہر میں جواب دہ ہوتی ہیں اور اسی شہر کے ووٹرز کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔ مگر لاہور میں بلدیاتی نظام ایک طویل عرصے سے غیر فعال ہے اور ایکٹو کرنے کی طرف کسی قسم کی توجہ نہیں دی جاتی ، اس کی وجہ سیاسی جماعتیں اور بیوروکریسی ہے جسے جہاں اپنے اختیارات چھین لیے جانے کا خوف ہے دوسری طرف عوامی جواب دہی کا بھی۔ مقامی سسٹم یا حکومتوں کی عدم موجودگی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہر یتیم ہو جاتا ہے۔
کھلا گٹر کوئی اچانک بننے والی چیز نہیں ہوتا۔ یہ ایک دن میں نہیں کھلتا، نہ ہی ایک دن میں جان لیوا بنتا ہے۔ اس کے پیچھے لاپرواہی کے کئی دن، کئی ہفتے اور کئی فائلیں ہوتی ہیں۔ مگر جب مقامی سطح پر کوئی منتخب نمائندہ موجود ہی نہ ہو، تو یہ سوال پوچھنے والا کون ہو؟ اور جواب دینے والا کون؟لاہور میں حالیہ مہینوں کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات چاہے وہ انفراسٹرکچر سے متعلق ہوں، صفائی سے، یا شہری تحفظ سے سب ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شہر بغیر نگران کے چل رہا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ جب ہر چھوٹا بڑا مسئلہ صوبائی سطح پر جاتا ہے تو پالیسی سازی کیسے ہو گی؟ تعلیم، صحت، معیشت، ماحولیاتی تبدیلی جیسے بڑے معاملات پر توجہ کون دے گا؟ اگر وزیراعلیٰ کو ہر وقت کسی ایک شہر کے انتظامی مسائل میں الجھنا پڑے تو پورا صوبہ پیچھے رہ جائے گا اور یہاں مسئلہ نیت کا نہیں بلکہ ساخت کا ہے۔
بلدیاتی نظام صرف سڑکیں بنوانے یا کچرا اٹھانے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ شہری تحفظ، فوری ردعمل اور مقامی احتساب کا نظام ہوتا ہے۔ جب کسی علاقے کا نمائندہ جانتا ہو کہ اگلے الیکشن میں اسی محلے کے لوگوں نے اس سے سوال کرنا ہے، تو وہ کھلے گٹر، خراب لائٹ اور خطرناک راستے کو نظر انداز نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غفلت اس کی سیاسی موت کی قیمت بن سکتی ہے۔
بدقسمتی سے لاہور میں شہریوں کے پاس شکایت کرنے کے لیے یا تو سوشل میڈیا رہ گیا ہے یا پھر کسی بڑے حادثے کے بعد میڈیا کی توجہ۔ اس سے پہلے کوئی دروازہ کھلا نہیں ہوتا۔ایک اور المیہ یہ ہے کہ ہم مسائل کو افراد کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، نظام کے ساتھ نہیں۔ کبھی کسی افسر کو معطل کر دیا جاتا ہے، کبھی کسی محکمے کو وارننگ مل جاتی ہے اور ہم سمجھ لیتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ حالانکہ اصل سوال وہیں رہ جاتا ہے کہ آگے ایسے معاملات، واقعات اور سانحات کو کنٹرول کرنے کے لیے جواب دہی پر مبنی نظام کب سامنے آئے گا؟۔
لاہور جیسے شہر میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نئی ہاؤسنگ اسکیمیں، نئے انڈرپاسز، نئے منصوبے سب کچھ ہو رہا ہے۔ مگر جیسے جیسے ترقی ہو رہی ہے، ویسے ویسے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔بلدیاتی حکومتیں صرف مسائل حل نہیں کرتیں، وہ مسائل کو جنم لینے سے پہلے دیکھ لیتی ہیں۔ یہی ان کی اصل طاقت ہوتی ہے۔یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے سیاسی نظام میں بلدیاتی انتخابات ہمیشہ غیر ضروری سمجھے گئے۔ کبھی قانون سازی کا بہانہ، کبھی مردم شماری کا، کبھی سیکیورٹی کا۔ نتیجہ یہ کہ شہر بغیر منتخب نگہبان کے چلتے رہتے ہیں اور چل رہے ہیں اور جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو حکومت اور انتظامیہ جاگ جاتے ہیں اور حکومت اپنی نااہلی کا ملبہ بھی انتظامیہ پر ڈال کر معطلی اور جرمانوں کی گیم شروع کر دیتی ہے۔
لاہور کا مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں لوگ بے حس ہیں یا افسر کام نہیں کرتے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی اپنا منتخب چہرہ نہیں جس سے براہِ راست سوال ہو سکے۔ جب تک بلدیاتی نظام کو فعال، بااختیار اور مستقل نہیں بنایا جائے گا، تب تک ہر سانحہ ایک وقتی بحث بنے گا اور پھر فائلوں میں دفن ہو جائے گا۔ نہ سیکھا جائے گا، نہ بدلا جائے گا۔ میں کسی ایک حکومت یا شخصیت پر الزام نہیں بلکہ آپ اسے ایک اجتماعی یاد دہانی سمجھ لیں کہ شہر اوپر سے نہیں، نیچے سے چلتے ہیں جبکہ تحفظ تقاریر سے نہیں، نظام سے آتا ہے اور یہ کہ لاہور جیسے شہر کو جذباتی ردعمل نہیں، مقامی جمہوریت کی ضرورت ہے۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ آئندہ کوئی ماں، کوئی بچہ، کوئی شہری اس طرح بے آواز نہ جائے تو ہمیں کھلے گٹروں سے پہلے مقامی سسٹم کے بند دروازے کھولنے ہوں گے وہ دروازے جو بلدیاتی نظام کی طرف جاتے ہیں کیونکہ شہر تب ہی محفوظ ہوتے ہیں، جب اختیار بھی وہیں ہو جہاں مسئلہ ہوتا ہے۔