رات کے سناٹے میں جب گولوں کی گونج بچوں کی چیخوں سے ٹکرا کر آسمان کا سینہ چاک کرتی ہے،تب غزہ کی مائیں چپ چاپ اپنے شہید بچوں کی لاشیں گود میں رکھ کر آسمان کی طرف دیکھتی ہیں۔۔۔ان کی آنکھوں میں سوال ہوتے ہیں۔۔۔۔ایسے سوال جن کے جواب نہ اقوامِ متحدہ دیتی ہے،نہ عالمی ضمیر اور نہ ہی امت مسلمہ۔۔۔فلسطین اس وقت محض ایک خطہ نہیں،ایک نوحہ بن چکا ہے۔۔ایک ماتم،جو روزانہ سینکڑوں جنازوں کے ساتھ بلند ہوتا ہے۔۔۔معصوم بچوں کے جسموں سے لپٹی کفن نما چادریں امت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونی چاہئیں مگر بدقسمتی سے ہمارا ضمیر یا تو سو چکا ہے یا مفادات کی نیند میں بے سدھ پڑا ہے۔۔۔کبھی سوچا،جس اْمت کو خیر اْمت کہا گیا،وہ آج اتنی بے بس اور بے حس کیوں دکھائی دیتی ہے؟ہم نے فلسطین کو ایک ’خبر‘ بنا دیا ہے،ایک ’ٹرینڈ‘جو چند دن چلتا ہے اور پھر کسی نئے موضوع کی نذر ہو جاتا ہے۔۔۔ہماری مسجدوں کے خطبے بھی خاموش ہو گئے ہیں،ہمارے حکمرانوں کے لب بھی سلے ہوئے ہیں اور ہمارے دل خوف اور مصلحت کے خول میں قید ہو چکے ہیں۔۔۔غزہ کے بچوں کے لیے کھلونے نہیں،کفن بنتے ہیں،ان کے سکول تباہ کر دیے جاتے ہیں،ان کے خواب چھین لیے جاتے ہیں اور ہم۔۔۔ہم سوشل میڈیا پر محض ایک پوسٹ،ایک ہیش ٹیگ یا ایک دعا سے خود کو بری الذمہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔کیا یہی ہے امت واحدہ کا مطلب؟ہمیں خود سے سوال کرنا ہو گا۔۔۔کیا ہم واقعی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں؟کیا ہمارے حکمرانوں کی خاموشی ہماری رضامندی کا اعلان تو نہیں اور کیا ہماری بے حسی ظالم کو مزید طاقتور نہیں بنا رہی؟آج غزہ نہ صرف فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے بلکہ ایک آئینہ ہے۔۔جو مسلم دنیا کی کمزوری،منافقت اور اندرونی’سڑن اور خباثت‘ کو ظاہر کرتا ہے۔۔۔کیا بلندی اور کیا پستی ہے کہ وہ امت جو کبھی سلطنتیں ہلایا کرتی تھی،آج ایک محاصرہ بھی نہیں توڑ سکتی۔۔۔جب اندلس میں مسلمانوں کا آخری مضبوط قلعہ غرناطہ گرا تو وہ اچانک نہیں گرا۔۔۔بلکہ برسوں کی بے عملی اور خاموشی کے بعد جب انہوں نے ایک دوسرے کو بیچ ڈالا اور ہر فریق اس انتظار میں تھا کہ اس کے ساتھ والے شہر کو پہلے کھایا جائے۔۔۔جب غرناطہ کی باری آئی تو اس کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ سب کو انکی اپنی خاموشی کھا گئی تھی۔۔۔۔تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی،یہ صرف اپنے آپ کو دہراتی ہے۔۔۔یہ مت سوچیں کہ غزہ کے بارے میں آپ کی خاموشی آپ کی حفاظت کرے گی،کیوں کہ وقت کا پہیا گھومتا ہے۔۔۔آج غزہ ہے توکل باقیوں کی باری ہے۔۔۔چند روز قبل غزہ کی ایک بہادر فلسطینی لڑکی نے لکھا تھا کہ’’ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی۔۔۔یہ صرف چند دنوں کی بات ہے اور سب ختم ہو جائیں گے۔۔۔اللہ اْس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا‘‘۔۔۔۔غزہ میں خون مسلم کی ارزانی،پھٹی پھٹی لاشیں اور نہ رکنے والا قتل عام جاری ہے۔۔۔کوئی امن و امان نہیں،کوئی فرار نہیں،موت ہر کونے کو گھیرے ہوئے ہے۔۔۔غزہ تن تنہا خون پیش کر رہا ہے اورمسلم حکمرانوں سمیت دنیا کے کان بہرے،آنکھیں اندھی،زبانیں گونگی اور دل پتھر ہو چکے ہیں۔۔۔آج غزہ کے لوگ اڑ کر آسمانوں تک گئے تاکہ تاکہ اندھی امت کو دکھائی دے مگرہم نے صرف اجلاس بلائے،قراردادیں پاس کیں،سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگائیں،چند برانڈز کا بائیکاٹ کیا،بس اتنا ہی اور پھر زندگی ویسی ہی چلتی رہی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔۔کیا یہ ہمارے لیے حجت بن سکے گا؟کیا قیامت کے دن،جب غزہ کی اجڑی گلیوں سے خون ٹپک رہا ہوگا۔۔۔۔ جب ملبے تلے دبی ماوں کی چیخیں گواہی دے رہی ہوں گی۔۔۔جب بچے ہماری طرف دیکھ کر سوال کریں گے،تب ہم سر اٹھا سکیں گے؟؟؟غزہ کی خون میں ڈوبی گلیوں میں بچے بغیر سروں کے دفن کیے جا رہے ہیں،مائیں اپنے بچوں کی باقیات کو ٹکڑوں میں اٹھا رہی ہیں اور باپ کانپتے ہاتھوں سے قبریں کھود رہے ہیں۔۔۔۔فضا موت سے بوجھل ہے، معصوموں کی چیخیں تباہ شدہ ہسپتالوں اور بمباری سے اجڑے ہوئے سکولوں میں گونج رہی ہیں لیکن اس جہنم کے بیچ،مسلم دنیا شرمناک حد تک خاموش ہے۔۔۔۔کہاں ہیں وہ گرجدار آوازیں جو کبھی انصاف کے نعرے لگاتی تھیں؟کہاں ہیں وہ مسلم رہنما جو خود کو امت کے محافظ کہتے تھے؟ کہاں گیا غصہ؟کہاں گئی غیرت؟کہاں ہے عمل؟خلیج کے محلوں سے لے کر مسلم ممالک کے صدارتی دفاتر تک صرف خاموشی ہے۔۔۔اسلامی دنیا کے خود ساختہ ’رہنما‘ سنہرے تختوں پر بیٹھے،رقص دیکھتے،درآمد شدہ مشروبات پیتے،بے جان کانفرنسوں میں شرکت کرتے اور کھوکھلے بیانات جاری کرتے ہیں۔۔۔انہوں نے نہ صرف غزہ بلکہ اسلام کی روح سے بھی غداری کی ہے۔۔۔۔ہم ایک ایسی قوم کیسے بن گئے جو براہِ راست ٹی وی پر بچوں کو مرتے دیکھتی اور پھر بھی جشن مناتی ہے؟حرمین شریفین کے محافظوں نے ظلم کے تماشائی بن کر کیسے اپنا ضمیر بیچ دیا؟عرب لیگ جو کبھی وقار اور مزاحمت کی علامت تھی،اب بزدلوں کا ایک سرکس بن چکی ہے۔۔۔وہ اجلاس بلاتے ہیں،کمزور قراردادیں پاس کرتے ہیں اور پھر امریکی ساختہ کمبلوں تلے سو جاتے ہیں۔۔۔یہ لوگ،اپنے مہنگے سوٹوں اور پرائیویٹ جیٹس کے ساتھ،ایک دن بھی ان ملبوں کے نیچے نہیں گزار سکتے جہاں فلسطینی مائیں اپنے بچوں کی لاشوں کو سینے سے لگا کر بیٹھی ہوتی ہیں۔۔۔۔انہیں عزت نہیں،صرف ذلت ملنی چاہیے۔۔۔۔آج کی ان کی خاموشی کل ان کی شرمندگی بنے گی۔۔۔غزہ سے ان کی بے وفائی،اسلام،انسانیت اور قرآن کی ہراس آیت سے بے وفائی ہے جو عدل،رحم اور ظلم کے خلاف جہاد کا درس دیتی ہیں۔۔۔اے مسلم دنیا کی طاقتور افواج! تمہارا مقصد کیا ہے؟تمہارے میزائل،ایٹمی ہتھیار،کمانڈوز،فوجی مشقیں اور چمچماتے یونیفارم کس کام کے ہیں اگر تم مظلوموں کی حفاظت نہیں کر سکتے؟کیا تمہیں صرف اپنے عوام کو دبانے کے لیے تربیت دی گئی ہے؟صرف محلات کی حفاظت کے لیے؟کیا تم صرف تاج بچانے کے لیے ہو،نہ کہ معصوم جانیں؟؟؟اگر صرف ایک مسلم جنرل میں فلسطینی ماں جتنی ہمت ہوتی،تو آج نقشہ کچھ اور ہوتا۔۔غزہ میں،بھوک،بمباری اور ناقابل بیان نقصان کے باوجود،لوگ سر بلند کھڑے ہیں،وہ ہی امت کے اصل شیر ہیں۔۔۔وہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع نہیں کر رہے،وہ ہر مسلمان کی عزت کی حفاظت کر رہے ہیں۔جب دوسرے بلند و بالا عمارتیں بنا رہے ہیں،وہ گہرے قبرستان کھود رہے ہیں لیکن اپنے ایمان اور وقار کے ساتھ۔۔۔وہ بے مقصد نہیں مر رہے،وہ اس امت کی گندگی،بزدلی اور منافقت کو بے نقاب کر رہے ہیں۔۔۔۔اپنے گھر کے ملبے کے ڈھیر پر ماں بیٹی شیر خوار بچے کیساتھ،ننگے پاوں،چہرے پر بھوک،آنکھوں میں خوف کے گہرے سائے اور آنسو اور خوفناک بے رحم انسانیت دشمن غنیم کا سامنا،اللہ کے سوا ان کا کوئی آسرا،کوئی سہارا نہیں،پوری امت نے ان کو تنہا چھوڑا ہے۔۔۔غزہ کے بچوں کے فضاوں میں بلند ہوتے اجسام اگر ہمیں بیدار نہیں کر سکے تو پھر ہمارے مٹنے کا وقت آچکا۔۔۔مجھے خوف آتا ہے،شدید خوف۔۔۔۔۔۔ہمیں ان کے درد کو اپنی سانسوں میں بسانا تھا،ان کے لہو کو اپنی زبان کا لہجہ بنانا تھا،ان کی بقا کو اپنی اولین ترجیح بنانا تھا مگر ہم نے کیا کیا؟چند وقتی نعرے، چند لمحاتی جذبات اور پھر زندگی کا وہی بے حس معمول۔۔۔ہم نے کچھ نہ کیا۔۔۔کچھ بھی نہیں اور شاید ہم بدترین سزا کے مستحق ہیں۔۔یہ وقت ہے کہ ہم صرف دعاوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی اقدام کریں۔۔۔مکمل بائیکاٹ کریں،آواز بلند کریں،یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں اور اپنے بچوں کو سکھائیں کہ فلسطین صرف ایک ملک نہیں،ایک فرض ہے ہم سب کا۔۔۔۔فلسطین کا نوحہ ہم سب پر قرض ہے،جب تک یہ قرض ادا نہیں ہوتا، ہماری نمازیں،ہماری عبادتیں،ہمارے عمرے،حج اور ہمارا ضمیر سب ادھورا ہے۔۔۔۔