صدیق مکرم شوکت علی چودھری سیکریٹری جنرل، پاکستان مزدور محاذ، کم و بیش نصف صدی سے مزدوروں کے حقوق کے لیے فکری اور عملی محاذوں پر جرا¿ت اور استقامت کے ساتھ سرگرم ہیں۔ گزشتہ دنوں یوم مئی اور گرامچی کے حوالے سے ان کے ساتھ ایک فکری نشست ہوئی جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
گفتگو میں شوکت چودھری نے بتایا کہ اطالوی انقلابی مفکر Antonio Gramsci بیسویں صدی کے ان عظیم رہنماو¿ں میں سے تھا جس نے مزدور طبقے کی نجات کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ وہ نہ صرف ایک نظریہ دان تھا بلکہ عملی جدوجہد کا علمبردار بھی تھا۔ گرامچی نے اٹلی میں مزدوروں کو منظم کرنے، ان میں انقلابی شعور بیدار کرنے اور ایک سوشلسٹ معاشرے کی بنیاد رکھنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ مگر اس جدوجہد کی قیمت اسے سخت جبر کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ فاشسٹ حکمران Benito Mussolini نے اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ عدالت میں اس کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا: ”ہمیں اس دماغ کو بیس سال کے لیے سوچنے سے روکنا ہے“۔ مگر وہ اس کے خیالات کو نہ روک سکے۔
گرامچی نے جیل کی سختیوں، بیماری اور تنہائی کے باوجود اپنے مشہور ”Prison Notebooks“ تحریر کیے، جن میں اس نے انقلابی جدوجہد کے نئے راستے متعین کیے۔ آخرکار وہ انہی مصائب کے باعث 1937 میں وفات پا گیا، مگر اس کے نظریات آج بھی دنیا بھر کی انقلابی
تحریکوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ گرامچی 1917 کے روسی سوشلسٹ انقلاب اور اس کے رہنما کامریڈ لینن کی جدو جہد اور نظریات سے بہت متاثر تھا، لینن کی وفات کے بعد جب سوویت یونین کی قیادت مارشل جوزف سٹالن نے سنبھالی تو یہ وہ دور تھا جب ٹراٹسکی اور مارشل جوزف سٹالن کے درمیان اختلافات نے جنم لیا جن کی بنیادیں پہلے ہی سے موجود تھیں، مارشل سٹالن، کامریڈ لینن کے نظریات و تعلیمات کے مطابق ہی سوویت یونین کی سوشلسٹ تعمیر چاہتے تھے لیکن ٹراٹسکی کا انقلاب کا اپنا نظریہ تھا جو کامریڈ لینن کے نظریہ انقلاب سے مختلف تھا دونوں رہنماو¿ں کے درمیان سوشلزم کے نفاذ کے حوالے سے اختلافات نے جب شدت اختیار کی تو دنیا کے بہت سے ممالک کی کیمونسٹ پارٹیوں میں بھی یہ مسئلہ موضوع بحث رہا۔ اٹلی کی کیمونسٹ پارٹی کے رہنما گرامچی کامریڈ لینن کے نظریہ انقلاب کے حامی تھے اور اسی مناسبت سے وہ کامریڈ مارشل جوزف سٹالن کی پالیسیوں سے بھی اتفاق کرتے تھے۔
گرامچی کی جدو جہد اور ان کے نظریات کے حوالوں سے اگر ہم پاکستان میں محنت کش طبقہ کی سیاسی جدو جہد کا جائزہ لیں تو آج پاکستان کا محنت کش طبقہ شدید بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، نجکاری اور ٹھیکیداری نظام نے مزدور کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے شدید استحصال کے باوجود مزدور طبقہ بڑے پیمانے پر بغاوت کیوں نہیں کرتا؟۔
اس سوال کا جواب ہمیں گرامچی کے نظریہ ”ہیجمنی“ میں ملتا ہے۔ گرامچی کے مطابق حکمران طبقہ صرف طاقت کے ذریعے حکومت نہیں کرتا بلکہ وہ عوام کے شعور، سوچ اور نظریات پر بھی قبضہ کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مظلوم طبقہ اکثر اپنے ہی استحصال کو قدرتی یا لازمی سمجھنے لگتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ میڈیا، تعلیمی نظام اور مذہبی بیانیے کے ذریعے محنت کش طبقے کی سوچ کو اس طرح تشکیل دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اصل دشمن کو پہچان نہ سکے۔ اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ مہنگائی قسمت کا لکھا ہے، بیروزگاری ذاتی ناکامی ہے اور ظلم برداشت کرنا صبر کا امتحان ہے۔ یہی ”نظریاتی غلامی“ اصل زنجیر ہے۔ اگر مزدور یہ سمجھنے لگے کہ اس کے مسائل کی جڑ سرمایہ دارانہ نظام ہے، تو وہ نہ صرف سوال اٹھائے گا بلکہ منظم ہو کر جدوجہد بھی کرے گا۔
اسی لیے گرامچی کہتا ہے کہ انقلاب سے پہلے ”ذہنوں کی جنگ“ جیتنا ضروری ہے۔ ہمیں محنت کش طبقے میں شعور بیدار کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے بیانیے، اپنے ذرائع ابلاغ اور اپنی قیادت کو مضبوط کرنا ہو گا۔ ہمیں ایسے کارکن پیدا کرنا ہوں گے جو خود مزدور طبقے میں سے ہوں اور اسی کی زبان میں اس کے مسائل کو بیان کریں۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے، لیکن یہی واحد راستہ ہے۔ آج کا سب سے بڑا فریضہ یہ نہیں کہ ہم صرف احتجاج کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم محنت کش طبقے کی سوچ کو بدلیں، اسے اس کی طاقت کا احساس دلائیں اور اسے ایک منظم انقلابی قوت میں تبدیل کریں۔ جب تک ہم ذہنوں کی جنگ نہیں جیتیں گے، ہم میدان کی جنگ بھی نہیں جیت سکتے۔ محنت کشو! اپنے شعور کو بیدار کرو، اپنی طاقت کو پہچانو اور ایک منظم جدوجہد کا آغاز کرو!
اُٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ¿ گندم کو جلا دو