واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کی خبروں نے عالمی معیشت کا رخ موڑ دیا۔ امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تجارتی بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کے حکم کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں بڑا کریش دیکھا گیا ہے، جس سے برینٹ کروڈ 88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ "انتہائی مثبت مذاکرات" کے دعوے نے ان عالمی خدشات کو دم توڑ دیا ہے جو تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کا باعث بن رہے تھے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی واقع ہوئی۔ نیویارک سے ٹوکیو تک کی مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا اور انڈیکس میں مثبت رجحان (Bullish Trend) دیکھا گیا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام متاثرہ اور غیر جانبدار ممالک کے بحری جہازوں کی فوری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سپلائی چین کو بحال کرنا اور توانائی کے بحران کو مزید سنگین ہونے سے روکنا ہے۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برینٹ کروڈ کا 90 ڈالر سے نیچے آنا عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لائے گا، جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں ہریالی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اب جنگ کے بجائے اقتصادی بحالی کی توقع کر رہے ہیں۔