Wed, September 16, 2026

عالمی توانائی بحران کا خطرہ: آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے خام تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے

عالمی توانائی بحران کا خطرہ: آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے خام تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے

لندن/واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی معاشی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں سخت اقدامات کے اعلان نے عالمی آئل مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ سپلائی متاثر ہونے کے خوف سے خام تیل کی قیمتیں ایک ہی دن میں حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کی صورتحال درج ذیل رہی۔     امریکی مارکیٹ  ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت 8 ڈالر 40 سینٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ 104 ڈالر 97 سینٹس فی بیرل تک جا پہنچی۔
 لندن برنٹ کروڈ کی قیمت میں 6 ڈالر 94 سینٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے نئی قیمت 102 ڈالر 14 سینٹس ہو گئی۔
ٹرمپ کی وارننگ اور ایرانی ردعمل صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ ایران کو "ٹول ٹیکس" کی وصولی سے روکنے کے لیے آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت کر رہے ہیں۔ اس بیان کے جواب میں ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے طنزاً کہا ہے کہ ٹرمپ کی اس مہم جوئی کے بعد امریکیوں کو موجودہ قیمتیں بھی سستی محسوس ہوں گی، کیونکہ ناکہ بندی کی صورت میں تیل کی قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی۔
اسلام آباد ڈیڈ لاک کا اثر اقتصادی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں جوہری معاملے پر ناکامی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے امریکہ کو ناکہ بندی جیسے سخت ترین آپشن کی طرف مائل کیا۔ چونکہ دنیا کا 20 فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے مارکیٹ نے صدر ٹرمپ کے بیان پر فوری اور شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ٹیگز: