Wed, September 16, 2026

سیسہ پلائی دیوار: معرکہ عزم و حکمت اور پاکستان

سیسہ پلائی دیوار: معرکہ عزم و حکمت اور پاکستان

آج کی تحریر لکھتے ہوئے میرا قلم بھی دانشمندان پاکستان کی طرح افتخار و مسرت سے شرسار ہو کر اس تاریخ ساز لمحے کو خراج تحسین پیش کرنا چاہ رہا ہے جو گزشتہ برس سے اب تک، محض ایک سال کے عرصے میں پاکستان کی تقدیر بدلنے کا ضامن بن چکا ہے۔ تحریر کے اس مرحلے پر یہ حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ تاریخ کے دھارے کو موڑنے والے لمحات ہمیشہ غیر معمولی ہوتے ہیں۔ اقوام کی تقدیر میں ایسے ادوار کم آتے ہیں جب ان کے اجتماعی عزم، عسکری بصیرت اور قیادت کی پختگی ایک نقطے پر مجتمع ہو کر ایک نئی تاریخ رقم کر دیتے ہیں۔ ”آپریشن بنیان مرصوص“ بھی اسی نوعیت کا ایک فیصلہ کن باب ہے جس نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ پاکستان کو ایک مضبوط، باوقار اور ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی افق پر نمایاں کر دیا۔
یہ معرکہ محض ایک عسکری کارروائی نہ تھا بلکہ یہ قومی خود اعتمادی، اجتماعی شعور اور نظریاتی استحکام کا مظہر تھا۔ جب دشمن نے اپنی روایتی عیاری، توسیع پسندی اور دبا¶ کی حکمت عملی کے تحت پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کرنے کی جسارت کی تو اسے شاید اس حقیقت کا ادراک نہ تھا کہ وہ ایک ایسی قوم سے ٹکرا رہا ہے جو آزمائش کی گھڑی میں فولاد بن جاتی ہے۔ ”بنیان مرصوص“ کا تصور یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار اسی وحدت، استقلال اور ناقابلِ تسخیر قوت کی علامت ہے۔
اس عظیم معرکے کی کامیابی میں کلیدی کردارفیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت کا ہے جن کی بے پناہ حکمت، بصیرت اور جرا¿ت نے اس آپریشن کو نہ صرف کامیابی سے ہمکنار کیا بلکہ اسے ایک ہمہ جہت قومی کامیابی میں تبدیل کر دیا۔ ان کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ جدید جنگ صرف میدانِ کارزار تک محدود نہیں بلکہ یہ ذہن، ٹیکنالوجی، معلومات اور نفسیات کے محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہے۔ آپریشن کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی جامع حکمت عملی تھی۔ جہاں ایک جانب دشمن کے عسکری ٹھکانوں اور اس کے خفیہ نیٹ ورکس کو غیر م¶ثر بنایا گیا، وہیں دوسری جانب اس کے ڈیجیٹل ڈھانچے، سائبر نظام اور پروپیگنڈہ مشینری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ جدید ”ہائبرڈ وارفیئر“ میں پاکستان کی برتری کا واضح ثبوت تھا۔ اس کامیابی نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف روایتی دفاعی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور ذہانت کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔
اس پر مستزاد یہ کہ اس معرکے میں پاک فضائیہ، بری فوج اور بحریہ کے درمیان جو ہم آہنگی اور اشتراک دیکھنے میں آیا وہ ایک مثالی مثال بن کر سامنے آیا۔ یہ محض عسکری ہم آہنگی نہ تھی بلکہ یہ ایک منظم قومی قوت کا مظہر تھا جس نے دشمن کے ہر وار کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ اسے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس کامیابی کا ایک اور اہم پہلو پاکستان کی دفاعی خود انحصاری ہے۔ جہاں دنیا کی کئی افواج مہنگے درآمدی ہتھیاروں اور بیرونی امداد پر انحصار کرتی ہیں وہیں پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود اپنی داخلی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر یہ ثابت کیا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ عزم، حکمت اور ایمان میں ہوتی ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے اس معرکے کو ایک نظریاتی فتح میں تبدیل کر دیا۔
تاہم اس کامیابی کا اثر صرف عسکری میدان تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ آپریشن کے بعد پاکستان نے جس تدبر، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان ایک سنجیدہ اور امن پسند ایٹمی ریاست ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس نے پاکستان کو خطے میں ایک ”امن کے داعی“ اور ”ثالث“ کے طور پر متعارف کرایا۔ آج عالمی سطح پر پاکستان کا کردار محض ایک علاقائی طاقت کا نہیں بلکہ ایک متوازن اور مو¿ثر سفارتی قوت کا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوں یا افغانستان میں استحکام کے لیے اقدامات، پاکستان نے ہر جگہ ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو ”بنیان مرصوص“ کے بعد واضح طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ معاشی اور سماجی میدان میں بھی اس کامیابی کے اثرات نمایاں ہیں۔ قومی اعتماد میں اضافہ، سرمایہ کاری کے مواقع میں وسعت اور داخلی استحکام میں بہتری، یہ سب اسی مضبوط دفاعی بنیاد کا نتیجہ ہیں۔ جب ایک ریاست خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے تو اس کے اندر ترقی، خوشحالی اور استحکام کے دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
اسی طرح اس معرکے نے پاکستان کے بیانیے کو بھی عالمی سطح پر مضبوط کیا۔ دشمن کی جانب سے پھیلایا گیا پروپیگنڈہ، جھوٹے بیانیے اور فالس فلیگ آپریشنز سب بے نقاب ہو گئے۔ دنیا نے نہ صرف حقیقت کو دیکھا بلکہ پاکستان کے م¶قف کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ خاص طور پر کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی اخلاقی اور سفارتی برتری مزید مستحکم ہوئی۔
اس ضمن میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ”آپریشن بنیان مرصوص“ عسکری، سفارتی، سیاسی، معاشرتی اور معاشی ہر پہلو سے ایک ہمہ جہت کامیابی تھی۔ اس نے پاکستان کو ایک نئی شناخت دی ایک مضبوط، خوددار اور ذمہ دار ریاست کی شناخت جو نہ صرف اپنی حفاظت کرنا جانتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی امن اور استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم اس کامیابی کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ ذمہ داری اتحاد، یگانگت اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے کی ہے۔ دشمن اب بھی مختلف صورتوں میں خصوصاً ہائبرڈ جنگ کے ذریعے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر قوم اسی ”بنیان مرصوص“ کی صورت میں متحد رہی تو کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔
المختصر! یہ خراجِ تحسین ان بہادر شہداءکے نام بھی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس سرزمین کی حرمت کو قائم رکھا۔ ان کی قربانیاں ہماری آزادی، خودمختاری اور وقار کی ضمانت ہیں۔ ان کا لہو اس دھرتی کی مٹی میں جذب ہو کر آنے والی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کا پیغام بن چکا ہے۔ ”بنیان مرصوص“ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے اتحاد کا، استقامت کا اور خودداری کا اور یہی نظریہ آج پاکستان کو خطے میں ایک مثالی ریاست، ایک قابلِ اعتماد ثالث اور ایک ابھرتی ہوئی عالمی قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہی نظریہ قیامت تک اس بات کا منہ بولتا ثبوت رہے گا کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد ہے۔

ٹیگز: