لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں تعلیم کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پہلی بار صرف چند ماہ کے اندر 11 لاکھ آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور سکولوں کی آؤٹ سورسنگ جیسے منصوبوں کو جاتا ہے جن کی بدولت انرولمنٹ میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں تعلیم کے جاری منصوبوں اور آئندہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مریم نواز نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ 90 دن کے اندر تمام سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور سکول مینجمنٹ کونسل کے لیے 10 ارب روپے جاری کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ نے ایک سال میں تمام سکولوں میں نئے کلاس رومز کی تعمیر، خستہ حال عمارتوں کی مرمت، اور پانچ لاکھ طلبہ کو انگلش اسپوکن کورس کرانے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی غذائی قلت کا شکار علاقوں میں سکول میل پروگرام کو وسعت دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ہر ضلع میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ نوازشریف سکول آف ایمیننس قائم کیے جائیں گے، جہاں آئی ٹی، سائنس، لائبریری، کھیلوں کے میدان، اور سمارٹ بورڈز موجود ہوں گے۔ اگلے پانچ سال میں 1750 سکول اپ گریڈ کیے جائیں گے جبکہ اگلے مالی سال میں 250 اسکولوں کی اپ گریڈیشن مکمل ہوگی۔
مزید برآں، 10 تحصیلوں میں 300 ٹیکنیکل ایجوکیشن سکول، اور ہزاروں سکولوں میں چاردیواری، بیت الخلا، فرنیچر، واٹر ٹینک اور سولر سسٹمز کی فراہمی کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور چاہتی ہیں کہ ہر بچے کو بہترین تعلیمی ماحول میسر ہو۔