Wed, September 16, 2026

ننھے مزدور، روشنی سے محروم ستارے

ننھے مزدور، روشنی سے محروم ستارے

دن کی پہلی کرن کے ساتھ جب ایک بچہ آنکھیں کھولتا ہے، تو ماں کی گود اس کے لیے دنیا کی سب سے محفوظ پناہ ہوتی ہے۔ مگر کچھ بچوں کی صبح ایک فیکٹری کی دھواں دیتی بھٹی سے ہوتی ہے، کچھ کی آنکھ ایک ہوٹل کے برتن مانجھتے ہوئے کھلتی ہے اور کچھ کی نیند اس وقت ٹوٹتی ہے جب ان کے ننھے کندھوں پر اینٹوں کا بوجھ رکھ دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار ایک چھوٹے بچے کے ہاتھ میں جھاڑو، ایک ہوٹل کے برتن یا ورکشاپ کے زنگ آلود اوزار اس سماج پر عذاب کی صورت اترتے ہیں جس نے بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ پاکستان کی گلیوں، فٹ پاتھوں اور چائے کے کھوکھوں میں کام کرنے والے بچوں کو جب بھی دیکھتی ہوں، تو میرے دل کی زمین پر ایک لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ان آنکھوں میں وہ چمک نہیں جو کسی سکول کی گھنٹی سن کر جگمگاتی ہے۔ وہ سکول نہیں جاتے کیونکہ ان کے دن مزدوری کے بوجھ تلے دفن ہو چکے ہیں اور شاموں کو تھکن ان کی پلکوں سے بہہ جاتی ہے۔پاکستان میں بچوں کی مشقت کے حوالے سے حقائق اتنے سنگین ہیں کہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
 ایک اندازے کے مطابق ملک میں 12 سے 15 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ پنجاب میں یہ شرح 14 فیصد سے زیادہ ہے، جہاں بچے چمڑے کی فیکٹریوں، اینٹوں کے بھٹوں اور کارخانوں میں صبح سے شام تک مشقت کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر جسمانی اور جنسی استحصال کا شکار بھی ہوتے ہیں مگر ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔غربت، تعلیم کی کمی اور قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے چائلڈ لیبر ایک ناسور بن چکا ہے۔ والدین بچوں کو کام پر بھیجتے ہیں اور معاشرہ خاموشی سے اسے دیکھتا ہے۔ تعلیم اگر مہنگی نہ ہوتی، اگر روزگار والدین کے لیے ہوتا، اگر قانون فعال ہوتا تو شاید یہ بچے آج سکول میں ہوتے، فٹ پاتھ پر نہیں۔پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین ہیں جیسے "ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991" اور آئین کی شق 25-A بچوں کو تعلیم کا حق دیتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ قانون موجود ہیمگر ادارے خاموش ہیں۔ عدالتی فیصلے کتابوں میں مدفن ہیں اور بچے مزدوری میں دفن ہو رہے ہیں۔
جب کوئی گھریلو مددگار بچہ یا بچی اپنے مالکان کی جانب سے جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے اور خبر سامنے آ جاتی ہے تو ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ مہمات چلتی ہیں، تصویریں شیئر ہوتی ہیں مگر زمینی سطح پر تبدیلی کا کوئی عمل نظر نہیں آتا۔ ہم جذباتی ہو کر پوسٹ کر دیتے ہیں۔۔۔ "چائلڈ لیبر بند کرو !"، لیکن جب گھر میں کام کرنے والی بچی جلدی صفائی نہ کرے تو ہمیں غصہ آتا ہے۔ یہ دوغلا پن اس مسئلے کو مزید گہرا کر رہا ہے۔تبدیلی کا آغاز ہمیشہ شعور سے ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو تو ہمیں سب سے پہلے اپنی بے حسی ختم کرنی ہو گی۔ ہمیں بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے روزگار دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے تمام اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو بچوں سے مشقت لیتے ہیں اور ان بچوں کو ری ہیبیلیٹیشن ، تعلیم، اور تحفظ فراہم کرے۔
کیا ان بچوں نے جرم کیا ہے؟ نہیں! ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ ایک ایسے نظام میں پیدا ہوئے جہاں غربت جرم نہیں مگر غریب ہونا سزا ہے۔کہاں ہے وہ فلاسفر اور حکمران جو کہتے ہیں کہ "بچے قوم کا مستقبل ہیں"؟کون ہے جو ان بچوں سے پوچھے کہ ان کا حال کیوں اتنا تاریک ہے کہ مستقبل کی امید ماند پڑ چکی ہے؟کسے خبر ہے کہ وہ چھوٹا سا ہاتھ جو ہوٹل کی میز صاف کر رہا ہے، وہ ایک عظیم مصور، ایک سائنسدان، یا ایک استاد بن سکتا تھا؟کسے پروا ہے کہ وہ بچی جو گھروں میں جھاڑو دے رہی ہے، وہ اگر سکول جاتی تو ایک دن کسی اور کی بیٹی کو زندگی کا سبق پڑھا سکتی تھی؟سڑکوں پر بھاگتے ہوئے ننھے مزدور، ورکشاپ کی گریس میں لتھڑے ہوئے چہرے، ہوٹلوں میں گاہکوں کی جھڑکیاں سہتے بچے یہ سب کچھ اب معمول بن چکا ہے۔ یہ وہی سماج ہے جو ٹی وی پر اشتہار میں بچوں کی مسکراہٹوں پر اشک بہاتا ہے، مگر گلی کے نکڑ پر برتن دھوتے بچے کو نظرانداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔چائلڈ لیبر محض ایک اصطلاح نہیں، یہ ایک جرم ہے، ایک صدا ہے جو ان بچوں کے ٹوٹتے خوابوں سے نکلتی ہے، جن کے ہاتھوں میں کھلونوں کی جگہ ہتھوڑے، برش اور اینٹیں تھما دی گئی ہیں۔وہ کھیل کا میدان چاہتے تھے، ہم نے انہیں کارخانوں کی مشینوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔وہ کہانیاں سننا چاہتے تھے، ہم نے انہیں زندگی کے تلخ حقائق ازبر کرا دئیے۔کبھی کسی بچے کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں، آپ کو وہاں صرف معصومیت نہیں، سوال بھی نظر آئیں گے۔کیا میں بھی انسان ہوں؟کیا میرے لیے بھی کوئی خواب جائز ہے؟
"کیا میں بھی کسی دن
روشنی بنوں گا؟
یا بس جلوں گا
اور بجھ جاؤں گا
جیسے سب کچھ بجھ جاتا ہے
ان لمحوں میں
جنہیں کوئی گنتا نہیں؟"
افسوس، ہم نے اپنی سہولت کے لیے ان بچوں کی تکلیف کو نظرانداز کرنا سیکھ لیا ہے۔افسوس ہم نے ان کی خامشی کو قبول کر لیا ہے اور افسوس ہم نے ان کے خوابوں کو اپنی بے نیازی سے مار دیا۔ کب ہم اس نظام کو چیلنج کریں گے؟کب ہم ان ننھے ہاتھوں کو قلم تھامنے دیں گے؟کب ہم اپنے ضمیر کو جگائیں گے؟یہ معاشرہ بچوں کو کھیلنے کا موقع نہیں دیتا، پڑھنے کا حق نہیں دیتا اور پھر ان سے امید کرتا ہے کہ وہ اچھے شہری بنیں۔ افسوس! ہم نے ان کے بچپن کو مار کر ان کی معصومیت کو دفنا دیا ہے۔ان ننھے ہاتھوں کو صرف مزدوری سے آزاد کرانا کافی نہیں، ہمیں ان کے اندر کے بچے کو زندہ کرنا ہو گا۔ ہمیں ان کے خوابوں کو قلم بستے اور رنگوں سے جوڑنا ہو گا۔ہمیں وہ معاشرہ بننا ہوگا جہاں بچہ مزدور نہیں، طالبعلم ہو۔جہاں بچپن غریب نہیں، خوشحال ہو اور جہاں سماج صرف سانس نہ لے جیتا بھی ہو۔یاد رکھیں، جو معاشرے اپنے بچوں کو بچپن نہیں دے سکتے، وہ ترقی نہیں کرتے صرف پچھتاوے کماتے ہیں اور وہ پچھتاوا نسلوں تک پیچھا نہیں چھوڑتا۔آئیے، خاموشی توڑیں، آئیے، چائلڈ لیبر کے خلاف آواز بلند کریں کیونکہ ہر بچہ بچپن کا حق دار ہے، خوابوں، قلم اور محبت کا۔

ٹیگز: