Wed, September 16, 2026

بے حسی و نااہلی ننھے ابراہیم کی موت کی ذمہ دار

بے حسی و نااہلی ننھے ابراہیم کی موت کی ذمہ دار

سیاسی رسہ کشی ، عوام کی آنکھ میں دھول جھونکنے والے مناظر،ذہن کو تسلیم نہ ہونے والے اقدامات، کو دیکھ دیکھ کر ہمارا پورا معاشرہ ہی بے حس ہوگیا ہے لگتا ہے کہ دماغ خراب ہوجائینگے یا ہوچکے ہیں۔ ایک خاتون جنہیں میں بھابھی کہونگا چونکہ وہ میرے دیرینہ دوست حفیظ اللہ نیازی کی بیگم ہیں وہ چند روز قبل پاکستان کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت  پی ٹی آئی کے منفی پروپگنڈہ کرنے والے ’’ڈھنڈورچیوں‘‘ کے ہاتھ لگ گئیں، وہ پی ٹی آئی کے کارکن ٹرمپ کے آنے پر مٹھائی تقسیم کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوگئے تھے کہ اب انکا لیڈر باہر آئے گا مگر ایسا کچھ نہ ہوا جسکے بعد زلفی بخاری ، اور پی ٹی آئی کے بیرون ملک بیٹھے بھگوڑوں کے تمام تر پروپیگنڈے ناکام ہوگئے تو اب پی ٹی آئی کے وہ بھگوڑے عناصر نے اپنا منہ گند میں ڈال دیا اور اپنے لیڈر کی رہائی کیلئے بھارتی چینلز ، کا سہارہ لیا اور وہاں ہماری بھابھی سے انٹرویو کرادیا اور جس لیڈر کی رہائی کے پہلے بھی کوئی امید نہ تھی اسکی مزید امیدوں پر پانی پھر گیا۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دینا کوئی بری بات نہیں مگر بھارتی میڈیا سبحان اللہ وہ تو خود اپنے ملکی معاملات پر خبروںپر دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بناہواہے ، مزید یہ کہ بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر قتل کی دھمکیاں، عسکری قیادت کے خلاف نا زیبا الفاظ، یہ کونسی نام نہاد سیاسی تحریک کا حصہ ہے ؟؟؟ عوام کے دما ٖغوںکو زنگ لگ گیا ہے یہ سوچ کر کہ ہماری بھا بی محترمہ نورین خان نیازی کی ملاقات اڈیالہ جیل کے باسی سے کیوں نہیں کرائی گئی جنکے لئے وہ داد رسی لیکر بھارتی میڈیا کو پہنچ گئیں ، انکے اور سلائی مشین فیم علیمہ خان کے اس انٹرویو کا اہتمام لند ن میں بیٹھے ایک بھگوڑے نے کیا تھا۔یہ خبر عوام کیلئے یقینا پریشان کن ہے کہ پاکستان کے متعلق اتنا اور فول بکنے کے بعد وزیر اعلی سرحدکو نظر انداز کرتے ہوئے نورین نیازی سے کیوں کرائی گئی؟؟ ہندوستانی میڈیا کا معاملہ لوگوںکو بھول گیا جب کراچی سے سندھ حکومت ، سندھ میونسپلیٹی کی بے حسی کی خبر آئی کہ عروس البلاد کراچی جہاں ایک دہائی سے بھٹو کے جانثاروں کی حکومت ہے،سائیں مراد علی شاہ تیسری بار وزیر اعلیٰ بن کر ہیٹ ٹرک کر چکے ہیں۔ یہاں ایک بچہ شہر کے مرکزی علاقے میں گٹر میں گر کر جان گنوا دیتا ہے،ماں باپ دادا دادی مدد کے لئے چیختے چلاتے ہیں،سرکاری اداروں کو فون کرتے ہیں کوئی مدد کو نہیں آتا۔میڈیا کے شور مچانے پر ’’بھٹو کے زندہ‘‘ ہونے کی گواہی دینے والے انگڑائی لے کرجاگتے ہیں۔ سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے لیکن نتیجہ صفر۔ایسے میں ایک تنویر نامی پتلا دبلا خاکروب، غلیظ سسٹم کی طرح لتھڑے غلیظ گٹر میں اترتا ہے اور معصوم ابراہیم کی لاش ماں باپ کے حوالے کردیتا ہے۔اب آپ بتائیں یہ تنویر کراچی کا ہیرو کہلانے کا مستحق ہے یا مرتضیٰ وہاب ؟؟ ۔
 یہ بھی ایک سانحہ ہے کہ وہ ادارے جو حکومت کی جانب سے ریسکیو کے ذمہ دار ہیں انکی خفت مٹانے کیلئے کچرا اٹھانے والے تنویر جو گڑ میں گھس کر پندرہ گھنٹے بعد گٹر میں گرجانے والے تین سالہ ابراہیم کی لاش نکال کرلایا اسے موقع سے پہلے ہٹانے کی کوشش کی گئی مگر اہل محلہ نے شور مچایا تو اسکے انعام دینے کی بات کی گئی ،دوسری جانب ذمہ داران اپنے گرم بستروں کو مزید گرم کررہے تھے اہل محلہ کے پاس ،انکے پاس کوہی ذریعہ نہیں تھا کہ گٹر سے لاش نکالی جاسکے ، ایک مشین ملی جس میں ڈیزل بھی محلے کے لوگوںنے پندرہ ہزار روپیہ کا چندہ کرکے ڈلوایا ، رات دس بچے ابراہیم گٹر میں گرا اور دوسرے روز دصبح دس بجے کے بعد اسے ننھا بچہ تنویر ابراہیم کی لاش لایا، خیراتی امدادی ادارے ایدھی و دیگر وہاں موجود تھے مگر مشینیں نہ ہونے کیوجہ سے وہ کوئی خاطر خواہ کام نہ کرسکے سندھ میں بھٹو ابھی تک زندہ ہے مگر اس صوبے کے بے شمار بچے بھٹو کو زندہ ماننے والے سیاسی لوگوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیںکراچی میں رواں سال مین ہول اور نالوں میں گرکر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔ ایدھی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مین ہول میں گر کر جان سے جانے والوں میں 3 سال کے بچوں سے لے کر 48 سال تک کے افراد شامل ہیں، حادثات سب سے زیادہ گارڈن میں پیش آئے جہاں 3 افراد مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئے۔ پاکستان کے قانونSection 319 – 322 PPC کے تحت ذمہ داران کو پانچ سال قید بامشقت بنتی ہے۔ مین ہول کا ڈھکن نہ لگانا ایک واضح غفلت ہے۔جسکی سزا5 سال تک قید ، جرمانہ یا دونوں نیز section 322کے تحت دیت بھی لاگو ہوتی ہے غفلت و لاپروائی سے انسانی جان کو خطرے میں ڈالنا (Section 284 PPC)جسکے مطابق اگر کوئی ادارہ یا افسر ایسی جگہ پر خطرہ چھوڑ دے جہاں عوام آتے جاتے ہوں — جیسے کھلا مین ہول — تو یہ criminal negligence کہلاتا ہے۔اسکی سزا 6  ما ہ قید، سرکاری عہدے کا غلط استعمال / فرائض میں غفلت (Section 166 / 217 / 218 PPC)اگر میونسپل ادارے، KMC، واٹر بورڈ یا کوئی افسر اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے (مین ہول کور نہ لگائے، شکایت کے بعد ایکشن نہ لے)، تو یہ جرم بنتا ہے۔اسکی سزا کم از کم 2سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال بمعہ ملازمت سے سے معطلی ، اگر ابراہیم کی موت پر ہمارا قانونی نظام مزید د غفلت سے کام نہ لے تو کون کون ذمہ دار ٹھہر سکتا ہے Karachi Metropolitan Corporatio(KMC)مین ہول زیادہ تر KMC کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔
اگر سیوریج یا واٹر لائن کا مین ہول ہو تو واٹر بورڈ کو ملزم نامزد کیا جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگرماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو کیا3سالہ ابراہیم کے موت پرکسی کو  واقعی سزا ہوجائے گی ؟؟؟بھٹو زندہ والے مرتضیٰ وہاب میئر موقع پر آئے جنہوںنے اپنے ہاتھوں میں ننھے بچے ابراہیم کی لاش اٹھائی ہے انکی آنکھیں آنسوئوں سے بھری تھیں، میئر نے انکوائری کا حکم دے دیا، اب معاملہ ٹائیںٹائیںفش ہو گا۔ مرتضیٰ وہاب مئیر کراچی کے والد مرحوم وہاب صدیقی اور میں نے این ایس ایف میںساتھ بڑے دن گزارے ہیں اگر آج وہ حیات ہوتے تو شائد مئیر کراچی پی پی پی میں بھی نہ ہوتے ۔ کراچی اور ہر شہر کی درد دل رکھنے والوںکی آنکھیں نم ہیں ۔ کلیم چغتائی کے بقول ،،،
 یہ سانحہ ہے بڑا دل خراش ہے ہم وطنوں
ہر آنکھ اسے سوچ کر ہی پرنم ہے 
وہ ایک ماں کا جگر گوشہ جا چھپا ہے کہاں
دیا ہے صدمہ أبراہیم نے جو دائیم ہے

ٹیگز: