لندن : برطانوی عدالت نے یوٹیوب پر سنسنی پھیلانے والے عادل راجہ کی نام نہاد تحقیقاتی صحافت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ یوکے کورٹ آف اپیل نے عادل راجہ کی اپیل کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ انہیں 'پیشہ ور جھوٹا' قرار دے کر ان کی اصل اوقات دکھا دی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عادل راجہ کے الزامات کسی حقیقت پر نہیں بلکہ سراسر بدنیتی پر مبنی تھے۔
کیمرے کے سامنے بیٹھ کر بھاشن دینے اور خود کو 'باخبر' ظاہر کرنے والے عادل راجہ برطانوی جج کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ برسوں سے "اندر کی خبروں" اور "خفیہ ذرائع" کا چورن بیچنے والے یوٹیوبر کے اس وقت پسینے چھوٹ گئے جب عدالت نے ان سے الزامات کے حق میں ٹھوس ثبوت طلب کیے۔ جج کے سوالات پر عادل راجہ کی زبان گنگ ہو گئی اور وہ اپنے حق میں ایک بھی گواہی یا دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکے۔
یوکے ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عادل راجہ نے منظم طریقے سے جھوٹا بیانیہ گھڑا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عادل راجہ کے الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ ان کی نام نہاد تحقیقاتی صحافت کا مقصد صرف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنا تھا۔ عدالت نے عادل راجہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان پر بھاری قانونی لاگت بھی عائد کی۔