Wed, September 16, 2026

مودی کا 'اسرائیل مشن': تہران سے دشمنی اور ٹرمپ سے یاری؟ بھارتی بندرگاہیں امریکی بحریہ کے حوالے کرنے کے انکشاف نے دنیا کو ہلا دیا

مودی کا 'اسرائیل مشن': تہران سے دشمنی اور ٹرمپ سے یاری؟ بھارتی بندرگاہیں امریکی بحریہ کے حوالے کرنے کے انکشاف نے دنیا کو ہلا دیا

نئی دہلی/تل ابیب : وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل نے عالمی سفارتی افق پر ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ ایران پر اسرائیلی حملے کی دستک کے دوران مودی کی تل ابیب میں موجودگی کو بین الاقوامی میڈیا "خطرناک جوا" قرار دے رہا ہے، جس نے بھارت کی دہائیوں پرانی غیر جانبدارانہ ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مودی نے نیتن یاہو سے ملاقات میں نہ صرف یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ ایران کے خلاف ممکنہ اسرائیلی کارروائیوں میں ہر قسم کی امداد کی خفیہ یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اس یاترا کی ٹائمنگ نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں بھارت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر ڈگلس میکگریگر کے ایک سنسنی خیز انکشاف نے بھارتی سیاست میں آگ لگا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ      ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اس نازک مرحلے پر امریکی بحریہ بھارتی بندرگاہوں کو اپنے لاجسٹک مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔یہ انکشاف ثابت کرتا ہے کہ مودی سرکار نے بھارت کو خاموشی سے امریکہ اور اسرائیل کے جنگی بلاک کا حصہ بنا دیا ہے۔
معروف بھارتی جریدے 'دی وائر' کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پورے دورے کا ماسٹر پلان دراصل واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ مودی، نیتن یاہو کے ٹرمپ کے ساتھ دیرینہ مراسم کو اپنے حق میں استعمال کر کے مستقبل کی امریکی قیادت کے قریب ہونا چاہتے ہیں، چاہے اس کی قیمت ایران سے دشمنی ہی کیوں نہ ہو۔

ٹیگز: