نئی دہلی / لندن : نااہل مودی سرکار کی ناقص معاشی اور متنازع سفارتی پالیسیوں نے بھارت کو ایک ایسے معاشی بھنور میں دھکیل دیا ہے جس سے نکلنا اب ناممکن نظر آ رہا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ خبر رساں ادارے "رائٹرز" نے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ "یہود و ہنود گٹھ جوڑ" بھارتی معیشت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی بانڈز اور حصص (Stocks) سے ریکارڈ رفتار کے ساتھ اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں بھارت کی ساکھ تیزی سے گر رہی ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے اب تک غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی مارکیٹ سے 12.14 ارب ڈالر کا خطیر سرمایہ نکال کر دوسرے محفوظ ممالک میں منتقل کر چکے ہیں۔
مودی کی غیر متوازن سفارت کاری کی وجہ سے بھارت کو پیٹرول اور گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس نے ملک کے صنعتی اور تجارتی شعبوں کو مفلوج کر دیا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ گہرے روابط اور خطے کی اہم طاقتوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی نے بھارت کو توانائی کے بحران اور معاشی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار اب بھارت کو سرمایہ کاری کے لیے ایک "ڈوبتا ہوا جہاز" قرار دے رہے ہیں۔