Wed, September 16, 2026

ایران کے بعد پاکستان کی باری؟ ابہام دور کر لیں!

ایران کے بعد پاکستان کی باری؟ ابہام دور کر لیں!

ان دنوں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیائی خطہ جنگ و جدل کا شکار ہے اور یہ دونوں خطے انتہائی حساس اور پیچیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لیے افغانستان میں موجود ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے تو دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ باہم مل کر ایران پر حملہ آور ہیں ۔ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ایران بھی جوابی کارروائی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ اس پُرفتن دور میں بہت سے تجزیہ کار ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ طاغوتی طاقتوں کا اگلا ہدف پاکستان ہے لیکن یاد رکھیں پاکستان پاکستان ہے۔ حضوراکرمؐ کی تخلیق کردہ ریاستِ مدینہ کی طرز پر معرضِ وجود میں آنے والی یہ مملکت درحقیقت اسلام کا قلعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں کانٹے کی مانند کھٹک رہی ہے لیکن ان شاء اللہ یہ ملک تا قیامت قائم رہے گا۔ بانیٔ پاکستان نے 30 اکتوبر 1947ء کو پنجاب یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’اپنا فرض ادا کیجئے اور خدا پر بھروسہ رکھیے۔ اس دنیا میں ایسی کوئی طاقت موجود نہیں جو پاکستان کو مٹا سکے‘ یہ قائم رہنے کیلئے بنا ہے۔‘‘ ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار کا بیان روزنامہ نئی بات سمیت متعدد موقر اخبارات میں بھی شائع ہواکہ ’’ یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ، نہ کسی کو ابہام پھیلانا چاہئے اور نہ ہی قوم کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی کو پاکستان کے دفاع کے حوالے سے شک بھی تھا تو اسے معرکۂ حق میں دور کر دیا گیا ہے۔ کسی کو پاکستان کے دفاع بارے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، کسی کا باپ بھی پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہمارا موقف عوامِ پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے تعمیری روابط پر مبنی ہے۔ پاکستان کے عالمی تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ معرکہ حق اور دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اپنی بہادر اور ثابت قدم قوم کی حمایت سے دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔ اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی شبہ ہے تو وہ زمینی حقائق دیکھ سکتا ہے انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کی پاکستان سخت مذمت کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی دہائیوں پر محیط برادرانہ اور سٹریٹجک تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ پاکستان کی شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔مزید کہا گیا کہ ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور چند شرپسند عناصرکو پرامن مظاہرین کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘
پاکستان کا قیام مسلمانانِ ہند کی خودداری اور قومی حمیت کا عکسِ جمیل ہے۔ اس کی بنیادیں ان لاکھوں شہدائے کرام کے خونِ پاک سے سیراب ہوئی ہیں جنہوں نے غلامی کی بجائے آزادی اور استحصال کی جگہ انصاف کا انتخاب کیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد مسلمانوں سے بغض و عناد رکھنے والے انگریزوں اور متعصب ہندوئوں کی جانب سے ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کی عزتِ نفس اور خودداری کی مسلسل پامالی نے اس مملکت خداداد کے قیام کیلئے فضا تیار کی۔ مسلمان اس لحاظ سے خوش قسمت ثابت ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ابتلا کے اُس زمانے میں دو ایسے رہنما عطا کر دیئے جن میں سے ایک نے اُن میں فلسفۂ خودی کے ذریعے خودشناسی کا جوہر پیدا کردیا تو دوسرے نے ان کی شیرازہ بندی کرکے ایک متحد قوم بنا دیا۔ اگر قدرت علامہ اقبال اور قائداعظم کو منصہ شہود پر نہ لاتی تو آج ہم ترشول کے سائے تلے غلامی کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہوتے۔ قیام پاکستان کے بعد متعدد مواقع پر پاکستانی قوم نے یہ ثابت کیا کہ وہ بڑی خوددار اور غیور ہے اور یہی دو صفات اس کے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ انہیں غیر مؤثر کرنے کی خاطر انہوں نے نت نئے حربے استعمال کیے لیکن ناکامی ان کا مقدر بنی۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم نااتفاقی‘ انتشار‘صوبائیت اور لسانیت جیسے سانپوں سے ابھی تک گلوخلاصی نہیں کرسکے لیکن اس کے باوجود اگر کبھی کسی دشمن نے ہماری خودداری اور حمیت کو لکارنے کی جرأت کی تو ہم متحد اور منظم ہوکر اس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ اس کا ایک مظاہرہ معرکہ حق کے دوران بھی دیکھنے میں آیا جب بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر بزدلانہ حملہ کر دیا پھر اس کے جواب میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ اس جنگ کے دوران جس طرح پوری قوم نے اپنی بہادر افواج کا ساتھ دیا وہ بھی ناقابل فراموش ہے۔ 
وطن عزیز کی وحدت اور سلامتی کے خلاف تمام تر اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی بدولت یہ مملکت عالم اسلام کی سب سے طاقتور اور جوہری قوت کی حامل ایک ناقابلِ تسخیر ریاست بن چکی ہے۔ ملک و ملت کے دشمن مسلسل اسکی وحدت اور سلامتی کے درپے ہیں۔ وہ پاکستانی قوم کا شیرازہ منتشر کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ اسے توحید اور عشقِ مصطفیؐ نے باہم جوڑ رکھا ہے۔ فرقہ بندی‘ مسلکی اختلافات‘ ذات پات اور لسانی و صوبائی تعصب کے زہریلے ناگ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اس مملکت کے دشمن اس حقیقت کا ادراک کرنے سے غالباً قاصر ہیں کہ یہ قوم اپنے ملک کو ربّ العالمین اور رحمتہ للعالمینؐ کی عطا اور اس کے تحفظ کو جزوِایمان تصور کرتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کی قربانیاں اور کامیابیاں اس عزم کی دلیل ہیں کہ آزمائشوں کی بھٹی سے مسلسل گزرنے کی وجہ سے یہ بہت سخت جان ہو چکی ہیں اور انہیں شکست دینے کی خواہش رکھنے والے ان شاء اللہ ناکام و نامراد رہیں گے۔

ٹیگز: