مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے سب سے نازک اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں نے نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ واشنگٹن کی طویل المدتی حکمتِ عملی کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایرانی عسکری قیادت کے اہم ارکان کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے عالمی مبصرین کو اس نتیجے تک پہنچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکا شاید ایک ایسی جنگی بساط بچھا چکا ہے جس کے اگلے مراحل ابھی خود واشنگٹن کے لیے بھی پوری طرح واضح نہیں۔
امریکی سیاسی نظام میں یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے قانون ساز اس معاملے پر یکساں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اگرچہ ایران کی عسکری قیادت کو نشانہ بنانا ایک بڑی فوجی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن کسی بھی ریاستی نظام کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پْر کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی ناگزیر ہوتی ہے۔ ماضی کی جنگوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے سیاسی تبدیلی لانا ممکن تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو سنبھالنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔
امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین ٹوم کاٹن کا یہ بیان کہ’’آگے کیا ہوگا، اس کا کوئی سادہ جواب نہیں‘‘ دراصل اسی ابہام کی عکاسی کرتا ہے جو واشنگٹن کے پالیسی حلقوں میں پایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قانون سازوں کی اکثریت ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی مخالفت کر رہی ہے۔ عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں نے امریکی عوام اور سیاسی قیادت دونوں کو اس حقیقت سے آشنا کر دیا ہے کہ کسی دوسرے ملک میں فوجی مداخلت کا فیصلہ بظاہر جتنا آسان نظر آتا ہے، اس کے نتائج اتنے ہی پیچیدہ اور مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔
عراق اور افغانستان کی جنگیں اس حوالے سے اہم مثالیں پیش کرتی ہیں۔ ان دونوں ممالک میں امریکا نے زمینی افواج تعینات کر کے حکومتوں کا تختہ تو الٹ دیا، مگر اس کے بعد کئی سال تک جاری رہنے والی شورش، خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام نے نہ صرف خطے کو عدم تحفظ کی کیفیت میں مبتلا رکھا بلکہ امریکا کو بھی بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہی تجربات اب واشنگٹن کو ایران کے معاملے میں محتاط بنا رہے ہیں۔ تاہم اس احتیاط کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر زمینی مداخلت نہ کی جائے تو صرف فضائی حملوں کے ذریعے کسی مضبوط ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر تبدیل کرنا انتہائی دشوار عمل ثابت ہو سکتا ہے۔معروف مبصر گیڈین راچمن کے مطابق ایران پر حالیہ کارروائی ماضی کی جنگوں کے مقابلے میں کہیں کم منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے خیال میں اگر کسی ریاست کی قیادت کو اچانک ختم کر دیا جائے لیکن اس کے بعد سیاسی نظم قائم کرنے کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہ ہو تو نتیجہ اکثر طویل عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایران جیسی بڑی اور اثر و رسوخ رکھنے والی ریاست میں اس طرح کی صورتحال نہ صرف داخلی انتشار کو جنم دے سکتی ہے بلکہ پورے خطے کو ایک نئی کشمکش میں دھکیل سکتی ہے۔ایران کی سیاسی ساخت بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ وہاں اقتدار کا نظام محض ایک فرد یا عہدے تک محدود نہیں بلکہ مذہبی، عسکری اور سیاسی اداروں کے باہمی توازن پر قائم ہے۔ سپریم لیڈر کی ہلاکت یقینا ایک بڑا دھچکا ہے، مگر اس سے پورا نظام فوری طور پر ختم ہو جائے، یہ ضروری نہیں۔ لیکن ایران میں ممکن ہے اس خلا کو پر کرنے کے لیے مختلف راستے اختیار کریں۔ تمام معاملات آئین میں دیئے گئے طریق کار کے مطابق چل رہے ہیں اس لئے وہاں انتشار پیدا نہیں ہوا۔
اس صورتحال کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ایرانی معاشرہ بیرونی حملوں کے ردعمل میں اکثر داخلی طور پر متحد ہو جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی دباؤ بعض اوقات عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنے کے بجائے قومی مزاحمت کی طرف مائل کر دیتا ہے۔دوسری جانب ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیاں بھی اس بحران کو مزید وسیع کر سکتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اتحادی گروہوں اور علاقائی نیٹ ورکس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تنازع صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔
امریکی جانی نقصان کا خدشہ بھی اس معاملے کو سیاسی طور پر مزید حساس بنا سکتا ہے۔ امریکا میں جنگوں کے حوالے سے عوامی رائے اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ عراق اور افغانستان کے تجربات نے امریکی معاشرے میں طویل جنگوں کے خلاف ایک مضبوط ردعمل پیدا کیا ہے۔ اگر ایران کے ساتھ کشیدگی ایک طویل عسکری تنازع میں بدلتی ہے تو اس کے سیاسی اثرات واشنگٹن کی داخلی سیاست پر بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے بعد کے منظرنامے کے لیے کوئی جامع اور قابل عمل حکمتِ عملی تیار نہ کی تو موجودہ بحران ایک طویل اور پیچیدہ تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسی جنگ جس کا آغاز تو واضح ہو، مگر اختتام کا راستہ دھند میں گم ہو۔ یہی وہ اندیشہ ہے جو آج عالمی مبصرین اور پالیسی سازوں کو سب سے زیادہ پریشان کر رہا ہے۔