اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو انسانی حقوق کی پامالی کا مرکز بنا دیا ہے۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کو کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن بھارت نے کشمیریوں کے آئینی حقوق کا خاتمہ کیا اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ مودی حکومت نے جبر، ظلم اور طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی، شناخت اور جمہوری حقوق کو چھین لیا۔ کشمیر میں مسلسل ماورائے عدالت قتل، میڈیا پر پابندیاں، آزادی اظہار پر قدغنیں اور طویل کرفیو کی وجہ سے وہاں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے نئے ڈومیسائل قوانین کے ذریعے لاکھوں غیر کشمیریوں کو یہاں لا کر آباد کیا، جس کا مقصد کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے اور یہ ایک منظم آبادیاتی جارحیت ہے۔
محسن نقوی نے عالمی برادری کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا بحران انسانیت اور عالمی برادری کے دعوؤں کا سخت امتحان ہے۔ بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کر کے اپنے ہٹ دھرمی بھرے رویے کا واضح ثبوت دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کو بڑی جنگ کی طرف بھی دھکیل سکتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ فوری عالمی توجہ اور مؤثر اقدامات کا متقاضی ہے۔
محسن نقوی نے کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سراہا اور کہا کہ کشمیری عوام غیر انسانی حالات کے باوجود آزادی کی لڑائی میں ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے، اور پاکستان ہر عالمی فورم پر ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔