Wed, September 16, 2026

سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور آبی حیات پر اثرات

سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور آبی حیات پر اثرات

اپریل 2023 میں سمندری درجہ حرارت نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، جو پچھلے 45 سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھا۔ اس اضافے کا ایک بڑا سبب ایل نینو موسمی پیٹرن ہے، جو قدرتی طور پر درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق، زمین کا عالمی سمندری درجہ حرارت اس سال 1.55 ڈگری فارنہائٹ (0.86 ڈگری سیلسیس) بلند ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ 2016 میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت سے زیادہ ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زمین تیزی سے گرم ہو رہی ہے، اور اس کا زیادہ تر اثر سمندروں پر پڑ رہا ہے۔

سمندر زمین کے اضافی درجہ حرارت کو جذب کرتے ہیں اور ایک ایئر کنڈیشنر کی طرح کام کرتے ہیں، مگر اب اس عمل کے منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ سمندری پانی تیزابی ہو رہا ہے، جو آبی جانوروں اور دیگر جانداروں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ ساتھ ہی، سمندری برف کی پگھلائی سے زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے، جس کا اثر موسمیاتی تبدیلیوں میں شدت کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندری درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے شدید بارشیں اور طوفانوں کی شدت بھی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، بیپر جوائے طوفان کی شدت میں سمندری درجہ حرارت کا اہم کردار ہے۔

مستقبل میں اگر سمندر مزید درجہ حرارت جذب نہیں کر پائیں گے تو زمین کا درجہ حرارت اور بڑھ جائے گا، جس سے نہ صرف سمندری حیات بلکہ انسانی حیات کو بھی شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم نہ کیا جائے۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سمندر آکسیجن کی پیداوار میں زمین کے آدھے حصے کا کردار ادا کرتے ہیں، جو درختوں اور جنگلات سے زیادہ ہے۔ اس لیے سمندروں کی صحت کو بچانے کے لیے فوری طور پر ماحولیاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: