لاہور:ہر سال 5 جون کو منایا جانے والا ورلڈ انوائرمنٹ ڈے ماحولیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال، اور پائیدار ترقی کے عزم کا عالمی اظہار ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت 1974 سے شروع ہونے والا یہ دن آج دنیا کے ہر گوشے میں فطرت سے جڑنے اور اس کی بقا کی کوششوں کا مظہر بن چکا ہے۔
سال 2025 کا ورلڈ انوائرمنٹ ڈے پنجاب کے لیے ایک نئے ماحولیاتی سفر کا آغاز ثابت ہوا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے "ماحول دوست پنجاب" کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متعدد انقلابی اور دیرپا اقدامات کیے، جنہوں نے صوبے کی ماحولیات پالیسی میں نئی روح پھونکی۔
شجرکاری اور سبز منصوبے:
پنجاب حکومت نے قدرتی توازن کی بحالی کے لیے شجرکاری کو مرکزی ہدف بنایا۔ صرف لاہور میں CBD پنجاب کے تحت بیس ہزار سے زائد درخت لگائے گئے۔
مزید برآں، شہری منصوبہ بندی میں 70 فیصد رقبہ سبز علاقوں کے لیے مختص کیا گیا — جس سے شہریوں کو نہ صرف تازہ ہوا میسر آئے گی، بلکہ گرمی کی شدت اور آلودگی جیسے مسائل میں بھی کمی واقع ہوگی۔
ماحولیاتی پائیداری کے لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے والے ٹینک، میاوَکی جنگلات، اور مقامی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ صرف ظاہری سبزہ نہیں بلکہ نظامِ فطرت بھی محفوظ رہے۔
پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی
پنجاب حکومت نے پلاسٹک آلودگی کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے پیداوار، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کیا۔
"نو ٹو پلاسٹک" مہم کے تحت بازاروں، ریستورانوں، ہوٹلوں اور دکانوں پر پلاسٹک بیگز کے استعمال کو ختم کرنے کے لیے مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔ عوام کو کپڑے اور کاغذی بیگز جیسے متبادل سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔
ریلیوں، ورکشاپس، اور میڈیا مہمات کے ذریعے لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی کے نقصانات اور ان کے حل کے بارے میں شعور دیا جا رہا ہے۔
ماحول دوست الیکٹرک بسیں
فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے 1500 الیکٹرک بسوں کی خریداری کا اعلان کیا، جن میں سے متعدد بسیں لاہور، راولپنڈی، ملتان اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔
یہ بسیں نہ صرف دھواں اور شور کم کرتی ہیں بلکہ توانائی کے مؤثر استعمال کی بھی مظہر ہیں۔ الیکٹرک چارجنگ سٹیشنز کا قیام بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے، تاکہ اس نظام کو پائیدار بنایا جا سکے۔
عالمی شراکت داری اور جدید ٹیکنالوجی
پنجاب حکومت نے چین کے تعاون سے "بیجنگ-پنجاب کلین ایئر" ورکنگ گروپ قائم کیا ہے۔
یہ ادارہ نہ صرف ہوا کے معیار کی مسلسل نگرانی کرتا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آلودگی کی وجوہات کا تجزیہ اور بہتری کی تجاویز بھی فراہم کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، شمسی توانائی اور ہوا سے توانائی کے منصوبے بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں تاکہ ماحول دوست توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جا سکے اور فوسل فیول پر انحصار کم ہو۔
قانون سازی اور پالیسی اصلاحات
ماحولیاتی تحفظ کو قانون کا حصہ بناتے ہوئے، پنجاب حکومت نے "پنجاب اسٹیٹ ایکشن پلان برائے کلائمیٹ چینج (SAPCC 2.0)" کو اپڈیٹ کیا۔
اس پلان میں فضائی، آبی اور زمینی آلودگی کے خلاف ایک جامع حکمتِ عملی ترتیب دی گئی ہے، جس میں قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے اور سزا کا نظام بھی شامل ہے۔سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، اور مقامی حکومتوں کو مشترکہ طور پر اس پالیسی پر عمل درآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔
ماحولیاتی تعلیم اور عوامی شعور
ماحول دوست معاشرے کی بنیاد شعور ہے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب میں سکولوں، کالجوں، اور جامعات میں ماحولیاتی تعلیم کے خصوصی پروگرامز کا آغاز کیا گیا ہے۔
سیمینارز، سوشل میڈیا مہمات، اور نوجوانوں کے لیے ماحولیاتی سرگرمیاں متعارف کروا کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جہاں ہر شہری خود کو فطرت کا محافظ تصور کرے۔
"ماحول دوست پنجاب" صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حکمتِ عملی ہے، جو آنے والی نسلوں کو صاف ہوا، محفوظ پانی، سرسبز فضا اور صحت مند زندگی فراہم کرنے کی جانب ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ورلڈ انوائرمنٹ ڈے 2025، پنجاب حکومت کی جانب سے ماحولیات کی بہتری کے لیے نہ صرف عزم بلکہ واضح سمت کی علامت بن کر سامنے آیا۔ یہ اقدامات اگر تسلسل سے جاری رہے تو "ماحول دوست پنجاب" کا خواب حقیقت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔