پاکستان کا قیام مسلمانانِ ہند کی خودداری اور قومی حمیت کا عکسِ جمیل ہے۔ اس کی بنیادیں ان لاکھوں شہدائے کرام کے خونِ پاک سے سیراب ہوئی ہیں جنہوں نے غلامی کی بجائے آزادی اور استحصال کی جگہ انصاف کا انتخاب کیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد مسلمانوں سے بغض و عناد رکھنے والے انگریزوں اور متعصب ہندوئوں کی جانب سے ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کی عزتِ نفس اور خودداری کی مسلسل پامالی نے اس مملکت خداداد کے قیام کیلئے فضا تیار کی۔ مسلمان اس لحاظ سے خوش قسمت ثابت ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ابتلا کے اُس زمانے میں دو ایسے رہنما عطا کر دیئے جن میں سے ایک نے اُن میں فلسفۂ خودی کے ذریعے خودشناسی کا جوہر پیدا کردیا تو دوسرے نے ان کی شیرازہ بندی کرکے ایک متحد قوم بنا دیا۔ اگر قدرت علامہ اقبال اور قائداعظم کو منصہ شہود پر نہ لاتی تو آج ہم ترشول کے سائے تلے غلامی کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہوتے۔
قیام پاکستان کے بعد متعدد مواقع پر پاکستانی قوم نے یہ ثابت کیا کہ وہ بڑی خوددار اور غیور ہے اور یہی دو صفات اس کے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ انہیں غیر مؤثر کرنے کی خاطر انہوں نے نت نئے حربے استعمال کیے لیکن ناکامی ان کا مقدر بنی۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم نااتفاقی‘ انتشار‘صوبائیت اور لسانیت جیسے سانپوں سے ابھی تک گلوخلاصی نہیں کرسکے لیکن اس کے باوجود اگر کبھی کسی دشمن نے ہماری خودداری اور حمیت کو لکارنے کی جرأت کی تو ہم متحد اور منظم ہوکر اس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ اس کا ایک مظاہرہ گزشتہ دنوں بھی دیکھنے میں آیا جب بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر بزدلانہ حملہ کر دیا پھر اس کے جواب میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ پاک فوج نے ’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کا آغاز کیا اور بھارت کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ وہ ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ اس جنگ کے دوران جس طرح پوری قوم نے اپنی بہادر افواج کا ساتھ دیا وہ بھی ناقابل فراموش ہے۔ دشمن کا خیال تھا کہ قوم اندرونی انتشار اور خلفشار کا شکار ہے اور جنگ کی صورت میں پاکستان کے عوام اپنی فوج کے خلاف ہوں گے لیکن یہ خام خیالی ثابت ہوئی اور پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ رہی۔ پاک فوج اور عوام کے مابین محبت کا ایک ایسا لازوال رشتہ ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ حالیہ جنگ نے پاکستان کی برتری کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد بیانات سامنے آئے جس میں وہ پاکستانی قیادت کی تعریف کر رہے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی امریکی صدر پاکستان اور بھارت کو برابری کی سطح پر رکھ کر بات کر رہا ہے اور یاد رکھیں اس کی واحد وجہ آپ کی وہ طاقت ہے جس کا عملی مظاہرہ پاک فوج کے اس جنگ کے دوران کیا۔
بانیٔ پاکستان نے 30اکتوبر 1947ء کو پنجاب یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’اپنا فرض ادا کیجئے اور خدا پر بھروسہ رکھیے۔ اس دنیا میں ایسی کوئی طاقت موجود نہیں جو پاکستان کو مٹا سکے‘ یہ قائم رہنے کیلئے بنا ہے۔‘‘وطن عزیز کی وحدت اور سلامتی کے خلاف تمام تر اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی بدولت یہ مملکت عالم اسلام کی سب سے طاقتور اور جوہری قوت کی حامل ایک ناقابلِ تسخیر ریاست بن چکی ہے۔ حضوراکرمؐ کی تخلیق کردہ ریاستِ مدینہ کی طرز پر معرضِ وجود میں آنے والی یہ مملکت درحقیقت اسلام کا قلعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں کانٹے کی مانند کھٹک رہی ہے۔ ملک و ملت کے دشمن مسلسل اسکی وحدت اور سلامتی کے درپے ہیں۔ وہ پاکستانی قوم کا شیرازہ منتشر کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ اسے توحید اور عشقِ مصطفیؐ نے باہم جوڑ رکھا ہے۔ فرقہ بندی‘ مسلکی اختلافات‘ ذات پات اور لسانی و صوبائی تعصب کے زہریلے ناگ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اس مملکت کے دشمن اس حقیقت کا ادراک کرنے سے غالباً قاصر ہیں کہ یہ قوم اپنے ملک کو ربّ العالمین اور رحمتہ للعالمینؐ کی عطا اور اس کے تحفظ کو جزوِایمان تصور کرتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کی قربانیاں اور کامیابیاں اس عزم کی دلیل ہیں کہ آزمائشوں کی بھٹی سے مسلسل گزرنے کی وجہ سے یہ بہت سخت جان ہو چکی ہیں اور انہیں شکست دینے کی خواہش رکھنے والے ان شاء اللہ ناکام و نامراد رہیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مملکتِ خداداد پاکستان دوقومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی تھی۔ پاکستان کے وجود کو بھارت نے روز اول سے ہی تسلیم نہیں کیا اور اسکی ترقی بھی بھارت کو کبھی ہضم نہیں ہوتی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف اقوامِ عالم میں سازشیں کیں لیکن پاکستان نے بھارت کی چالوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ بھارت کے دونوں اہم ہمسایہ ممالک پاکستان اور چین اس کے مخالف ہیں۔ چین نے بھارت کے مقابلے میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا اور ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان کیخلاف کی جانے والی سازشوں کو ناکام بنایا ۔اس وقت پوری پاکستانی قوم مادروطن کی سالمیت اور حاکمیت اعلیٰ کے سلسلے میں یکجان اور یک زبان ہے۔ میرے خیال میں آج ایک بار پھر ’’خوددار پاکستان مہم‘‘ ازسرنو چلانے کی ضرورت ہے جیسا کچھ عرصہ قبل چلائی گئی تھی۔ اس مہم کے تحت ایک خوددار قوم اور غیرت مند ملک ہونے کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کیاجائے اور اس خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتی تزویری صورتحال سے عہدہ برآء ہونے کی خاطر قوم کو تیار کیا جائے۔ ایک خوددار اور طاقتور ملک بننے کیلئے ہمیں غیر ملکی امداد اور قرضوں سے جلد از جلد مکمل نجات حاصل کرنا جبکہ کفایت شعاری اور سادگی کو اپنے قومی کردار کا حصہ بنانا ہوگا۔ جب ہم خودداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشکول توڑ دیں گے اور اپنے زورِ بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے تو نہ عالمی طاقتیں ہمیں آنکھیں دکھا سکیں گی اور نہ ہی عالمی برادری کشمیر کے حوالے سے ہمارے اصولی مؤقف سے صرفِ نظر کرسکے گی۔ ایک صوفی بزرگ کی یہ بات جلد حقیقت کا روپ دھارتی نظر آ رہی ہے کہ ’’وہ وقت قریب ہے جب پاکستان کی ہاں میں دنیا کی ہاں اور پاکستان کی ناں میں دنیا کی ناں ہو گی۔‘‘