Wed, September 16, 2026

وزیر اعلیٰ پنجاب کا دورہ پاک پتن 

وزیر اعلیٰ پنجاب کا دورہ پاک پتن 

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی اچانک پاک پتن آمد نے وہ پردے چاک کیے جنہیں برسوں سے بے حسی کی تاریک چادر تلے چھپا دیا گیا تھا۔۔۔مریم نواز شریف کا ڈی ایچ کیو ہسپتال پاک پتن کا دورہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا ’ انکشاف‘ تھا۔۔۔یہ وہ لمحہ تھا جب ایک اربابِ اختیار نے ’ گندے پردوں‘ کے پیچھے جھانکنے کی زحمت کی اور وہ سب کچھ دیکھا جو ہم روز دیکھتے ہیں،سہتے ہیں مگر کوئی نہیں دیکھتا۔۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب جب پاک پتن پہنچیں تو ڈی ایچ کیو ہسپتال کی در و دیوار پر بے بسی لکھی تھی ، وارڈز میں پھیلی اداسی انسانیت کی چیخوں میں ڈھل چکی تھی اور ادویات کے سٹور میں قید شفا کی امیدیں مریضوں کی بے کسی پر قہقہے لگا رہی تھیں۔۔۔مریض،ان کے لواحقین اور عملے کے چہروں پر لکھی کہانیاں اگر کوئی پڑھ سکتا ہے تو وہی پڑھ سکتا ہے جو سیاست کو خدمت سمجھتا ہو۔۔۔یہی وہ موقع تھا جب وزیر اعلیٰ نے نہ صرف مریضوں کے بستر کے کنارے بیٹھ کر مزاج پرسی کی بلکہ نظامِ صحت کے اس’مردہ جسم کی نبض‘پر ہاتھ رکھ کر اس کی سسکیوں کو محسوس کیا۔۔۔یہ معمولی بات نہیں کہ 100 ارب روپے کی دوائیاں خریدی جائیں اور مریضوں کو وہ میسر نہ ہوں۔۔۔یہ گناہِ بے گناہی سے بھی بڑا جرم ہے،یہ وہ دھوکہ ہے جو صرف عوام کو نہیں،اللہ کو بھی ناراض کرتا ہے۔۔۔ جب مریض کی جیب سے پرچی کی بنیاد پر باہر سے دوا خریدی جائے حالانکہ وہ دوا ہسپتال کے سٹور میں پڑی ہو تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ شعوری خیانت ہے۔۔۔اس دورے کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے نا صرف سسٹم کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا بلکہ ان پر مقدمے درج کرنے کے احکامات دئیے اور گرفتاریاں کرائیں تاہم یہاں مریم نواز شریف صاحبہ کو بیوروکریسی اور اپنے ان مشیران کو بھی’فارغ‘کرنے کے احکامات دینے چاہئیں تھے جنہوں نے ’سانحہ پاک پتن‘کے آغاز پر انہیں ’مس گائیڈ‘کیا تھا کیونکہ سانحہ پاک پتن کی دوسری انکوائری رپورٹ نے پہلی رپورٹ اور جھوٹے دعووں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔فارمیسی اور پرائیویٹ لیبز کا گٹھ جوڑ،دوائیوں کی بیرونی خریداری،ایم ایس اور سی ای او کی بے حسی،پارکنگ کے نام پر بھتہ خوری،ان تمام زخموں پر وزیر اعلیٰ نے نمک نہیں چھڑکا بلکہ ان کے علاج کے لئے فوری اقدامات کا حکم دیا۔۔۔غالباً حکمرانوں کو ادراک ہونا شروع ہو چکا ہے کہ طاقت ’اقتدار‘ سے نہیں بلکہ’احساس‘ سے پیدا ہوتی ہے۔۔۔ڈی ایچ کیو ہسپتال پاک پتن میں اے سی بند، مریض پسینے میں شرابور اور دفاتر میں ٹھنڈک کے مزے،یہ وہ تفریق ہے جو حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ ضمیر زندہ ہو۔۔۔اور پنجاب میں تو یہ حال صرف پاک پتن تک محدود نہیں،راولپنڈی سے رحیم یار خان،گجرات سے مظفرگڑھ،سرگودھا سے بہاولپور حتیٰ کہ صوبائی دارالحکومت لاہور تک،ہر سرکاری ہسپتال ایک زندہ لاش کی مانند ہے۔۔۔ کہیں پر دوا نہیں،کہیں پر ڈاکٹر نہیں اور اگر دونوں ہوں تو رویہ ایسا کہ مریض مزید بیمار ہو جائے۔۔۔ یقین مانیں پرائمری ہیلتھ کئیر کے دعوے کاغذی ہیں تاہم فائلوں میں بند رنگین تصویریں اصل حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں ۔ ۔ ۔مسئلہ بجٹ کا نہیں،مسئلہ نیت کا ہے۔ ۔ ۔ جب دل میں درد نہ ہو تو ہر سہولت بھی بے اثر ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مریضوں کےساتھ عملے کا برتاو¿ ایسا جیسے وہ ’احسان‘کر رہے ہوں۔۔۔۔اس کڑوے سچ کو کیسے چھپایا جا سکتا ہے کہ سرکاری ہسپتال خدمت کے مراکز نہیں رہے،رشوت اور غفلت کے مراکز بن چکے ہیں ۔ ۔۔سرکاری ڈاکٹر پرائیویٹ کلینکس میں راتوں کو’معجزے‘ کرتے ہیں اور دن کے وقت سرکاری ہسپتالوں میں مریض کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔۔۔ایسے میں جب وزیر اعلیٰ خود وارڈ میں داخل ہو کر مریض سے پوچھتی ہیں کہ دوا ملی یا نہیں؟تو یہ ایک مثال بنتی ہے۔۔۔مریم نواز شریف نے پیجر سسٹم نافذ کرنے ، موبائل فون پر دوران ڈیوٹی پابندی،ایکوپمنٹ آڈٹ اور کوڈ ریڈ،کوڈ بلیو سسٹم کے نفاذ کے احکامات دے کر یہ پیغام دیا ہے کہ سرکاری نظام کو چلانے کے لیے صرف کاغذی اعلانات کافی نہیں،عمل بھی ضروری ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ایک اکیلی وزیر اعلیٰ ہر ضلع،ہر تحصیل،ہر ہسپتال جا سکتی ہیں؟کیا ان کے قدموں کی دھمک ہر وارڈ میں سنائی دیتی رہے گی؟نہیں،اصل کام تو نظام کو مضبوط بنانا ہے۔۔۔ ایسے ایم ایس،سی ای اوز،ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کو تعینات کرنا ہے جو جذبے سے کام کریں،نہ کہ لالچ سے ۔۔۔ ہسپتالوں کی خود مختاری کو بڑھایا جائے مگر اس کے ساتھ جوابدہی بھی لازم ہو۔۔۔ پنجاب کے ہسپتالوں کی بہتری کا راستہ صرف انفرادی چھاپوں سے نہیں نکلے گا بلکہ ایک مربوط، شفاف اور سخت گیر پالیسی کی ضرورت ہے۔۔۔ہر ہسپتال کیلئے ایک الگ آڈٹ بورڈ ہو ، مریضوں کی شکایات کے فوری ازالے کا سسٹم ہو اور سب سے بڑھ کر ڈاکٹروں کی تربیت میں اخلاقیات شامل ہو ۔ ۔۔آج ہمارے اکثر ڈاکٹروں کے پاس ڈگریاں ہیں،مہارت ہے مگر ’احساس‘ نہیں ۔ ۔ ۔ ہسپتال صرف عمارتیں نہیں ہوتے،یہ وہ مقامات ہیں جہاں انسانیت اور رحم کا امتحان لیا جاتا ہے اور یہ امتحان صرف حکمرانوں کا نہیں،ہم سب کا ہے۔۔۔

ٹیگز: