وطن پاک کی سیاست تنائو کا شکار، حالات خواہشات کے تابع نہیں، پوری سیاست اداروں کے گرد گھوم رہی ہے، شہر اقتدار کی پر اسرار خبریں، تہلکہ خیز پیش رفت، ملک چاروں طرف سے خوارج، منافقین اور مفاد پرستوں کے نرغہ میں، ملکی معیشت اور ترقی کا انحصار بد نیت بیورو کریٹس اور مفاد پرست سیاستدانوں کو جلد ٹھکانے لگانے، ملک دشمنوں کے بلا تاخیر خاتمے اور خوشامدی ٹولے سے نجات حاصل کرنے میں مضمر، ماضی میں مالیوں نے ذاتی مفادات کی خاطر جو پودے لگائے تھے وہ دس سال میں تن آور درخت بن کر ملک دشمنی پر اتر آئے، موجودہ محافظوں نے تن آور درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی پالیسی اپنائی، سافٹ سٹیٹ سے ہارڈ سٹیٹ بننے کا عمل دو سال بعد شروع ہوا لیکن اس عمل پر عملدرآمد میں تاخیر سے حالات دن بہ دن بے قابو ہوتے جا رہے ہیں، ہمارے بہادر جوان شہید ہو رہے ہیں ہماری معیشت قرضوں کی بنیاد پر ترقی کر رہی ہے، اپنے پالے ہوئے نمک حرام اور احسان فراموش خوارج سے مذاکرات چہ معنی دارد؟ 40 کروڑ کی گاڑیوں میں گھومنے والوں کو الارمنگ حالات کا احساس نہیں، اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کو بد ترین صورتحال کا ادراک ہیں یا وہ ریت میں سرچھپائے طاقتوروں کی چھتر چھائوں میں محفوظ پا کر مطمئن ہیں۔ ملک قرضوں کے جال میں پھنسا ہے جال سے نکلنا مشکل، وزیر خزانہ کی دوڑ آئی ایم ایف سے قرضہ پیکیج کی بقیہ اقساط کی وصولی تک محدود، وزیر اعظم شہباز شریف کو ملکی ساکھ بحال کرنے کے لیے بیرونی دوروں سے فرصت نہیں، تنخواہ لیے بغیر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بھاگ دوڑ کرنے والے وزیر اعظم کا ایک پائوں زمین پر دوسرا جہاز میں، بھاگ دوڑ کے نتائج غیر ملکی سرمایہ کاری کے وعدوں تک محدود، اربوں ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے ملک میں امن و امان اور سیاسی استحکام سے مشروط، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر ماضی کے آرمی چیفس سے مختلف، گزرے ادوار کے آرمی چیفس حکومتیں بنانے انہیں چلتا کرنے کے ساتھ اپوزیشن کرداروں کو بھی دانہ ڈالنے میں ماہر ثابت ہوئے موجودہ آرمی چیف اپنی دفاعی پالیسیوں کے باعث نہ صرف دفاع میں کامیاب بلکہ ٹرمپ سمیت دنیا بھر کی آنکھ کا تارا، معیشت سدھارنے کے لیے وزیر اعظم کے ہمسفر اور سرمایہ کاری کے گارنٹر، کیا ملک میں دو لیڈر ہی بچے ہیں؟ باقی مفاداتی سیاست میں سر سے پائوں تک غرق آب، 25 کروڑ عوام مہنگائی، کچے پکے کے ڈاکوئوں لوٹ مار کرنے والے معززین، اغوا برائے تاوان جیسے گھنائونے جرائم میں ملوث اہلکاروں سے تنگ، انتخابات میں کتنے سال رہ گئے، ’’دن گنے جاتے ہیں اس دن کے لیے‘‘ جب مزید پانچ سال ملیں گے لیکن ڈھائی تین سال میں مہنگائی اور جرائم پر کیسے قابو پایا جائے گا اہم سوال، شاندار بیانات سے غریبوں کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ وہ دعائیں نہیں دیں گے کراچی میں ہمارے دیرینہ دوست نثار زبیری کا شعر نظر سے گزرا، ’’کتنی آگے نکل گئی دنیا، ہم نہ بدلے بدل گئی دنیا‘‘
کہانی مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی، ترکیہ میں پاک افغان مذاکرات ختم ہونے کے بعد منیر بانوں کے اصرار پر پھر بحال ہوگئے۔ خوارج اور نمک حرام منافقین بھارت کی گود میں جا بیٹھے، سرنڈر مودی نے پاکستان کے ڈر سے ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ٹرمپ کی دوغلی پالیسی ہمارے فیلڈ مارشل کو سلام، مودی کو دس سال کے لیے گود میں بٹھا لیا۔
خوارج مودی کی ہدایت پر مذاکرات کو طول دے رہے ہیں تاکہ پنڈتوں نے آپریشن ترشول کے تحت 8 نومبر کو پاکستان پر دو جانب سے حملہ کرنے کی ’’شبھ گھڑی‘‘ میں خوارج کو بھی شامل ہونے کی مہلت مل جائے۔ اس دوران کرم اور بلوچستان کے علاقوں میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری رہے۔ سازش پر عملدرآمد ہوا لیکن وطن کے بہادر سپوتوں نے دونوں صوبوں میں تیس بتیس دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ ہمارے فیلڈ مارشل اور وزیر دفاع کھلی جنگ کا فیصلہ کرچکے، طورخم اور چمن کی سرحدیں 22 روز سے بند ہیں، افغانستان میں قحط کا خطرہ منڈلا رہا
ہے۔ افغان حکومت پاکستان سے زندگی کی بھیک مانگنے کے ساتھ ہی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی سرپرستی بھی کر رہی ہے کیسے مسلمان ہیں جو کفار اور نصاریٰ کے ہتھیاروں سے مسلمانوں پر حملہ آور ہیں۔ ’’وضع میں تم ہو منافق تو تمدن میں ہنود، تم مسلماں ہو جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود‘‘ مگر اپنے خان کو کیا ہوا ہے کہ وہ ’’یہودی ماں‘‘ کے مرنے پر تو آنسو بہا رہے ہیں مگر شہدائے وطن اور غزہ کے ستر ہزار مرد خواتین اور بچوں کے قتل عام پر اسرائیل اور امریکا کی مذمت سے گریزاں ہیں اور خیبر پختونخوا میں خوارج کے خلاف آپریشن کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں، ان کی پالیسیوں پر عملدرآمد اور عشق عمران میں غرق حادثاتی وزیر اعلیٰ کے اقتدار سنبھالتے ہی صوبہ میں جاسوسوں کی بھرمار اور دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے بڑے چھوٹے شہروں میں ابھی تک افغان موجود ہیں بلکہ تین تین مہینے کا وزیر لے کر پھر سے پاکستان آرہے ہیں، مائی ڈیئر خان نے پشتونستان کا علم بلند کرنے والے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی ہدایت کی ہے لیکن ذرائع کے مطابق فیصلہ سازوں نے سخت اقدامات کی ٹھان لی، خان کو توشہ خانہ ٹو اور جی ایچ کیو حملہ کیس میں 26 نومبر تک سزائیں ہونے کا امکان ہے یعنی ایک ماہ میں دو سزائیں زبان بندی کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے، سپریم کورٹ کے مطابق جان جاناں سے رسم و راہ پر پابندی اور ٹی وی چینلز کے ذریعے زوال پذیر پارٹی میں منہ سے ہوا بھرنے کی کوششوں کے خلاف قانون بحال کردیا ہے۔ مقدمات لڑنے والے ایک ارب روپے وصول کرچکے آپس کی دھڑے بندیوں نے پارٹی کو لیر و لیر کردیا ہے۔ سہیل آفریدی نے خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے باوجود کور کمانڈر سے ملاقات پر 13 رکنی کابینہ بھی بنا لی جس میں دس وزراء دو مشیر اور ایک معاون خصوصی شامل کیا گیا۔ بیرسٹر سیف کا پتا صاف، وزیر اعلیٰ کے سر سے عشق کا بھوت نہیں اترا، گنڈا پور ان سے زیادہ بڑھک باز تھے لیکن قابو کر لیے گئے عقل و فہم سے پیدل کرداروں کو سوچنا چاہیے کہ ریاست کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا ہے گنڈا پوری شہد کی بوتل برآمد ہونے پر دراز زلف کے خلاف شراب برآمدگی کا مقدمہ چل رہا ہے لیکن وارنٹ گرفتاری کے باوجود انہیں نہ جانے کیوں گرفتار نہیں کیا جا رہا، قسم لے لیجئے ہمیں علم نہیں ہے۔