حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے نہ صرف انگریز راج کا مقابلہ کیا بلکہ ہندوستان کی کانگرس، نیشنلسٹ مسلمانوں اور علمائے اکرام کی مضبوط جماعت بھی ان کے مدِ مقابل تھی تاہم آخری فتح مسلمانوں کی ہوئی اور پاکستان دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کے طور پر نقشہ عالم پر ابھرا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیا گیا اور واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ پاکستان میں مسلمانوں کو اپنے دین اور اسلامی رسم و رواج کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی ہو گی۔ آج جب ہم گزرے ہوئے 78سالوں پر نظر ڈالتے ہیں تو زیادہ خوش کن صورتحال سامنے نہیں آتی۔ اگر ہم دیانتداری سے اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کہ قیامِ پاکستان سے ہم نے اپنے وطن اور عوام کے لئے کیا کیا ہے، اس ملک میں کیا کچھ ہوتا رہا ہے، کیسے کیسے گل کھلائے گئے تو کسی کو بھی اس قومی جرم سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ حکمرانی کا یہ کھیل اونچے ایوانوں اور عالی شان ڈرائنگ روموں میں کھیلا جاتا رہا اس میں عوام یا اس کے کسی بھی طبقے کو شریک نہیں کیا گیا۔ ایسے کئی لیڈر افقِ سیاست پر ضرور ابھرے جنہیں عوامی رہنما ہونے پر بڑا فخر تھا اور وہ عوام کے لئے بڑے دعوے بھی کرتے رہے لیکن جب انہیں اقتدار ملا تو وہ بھی اونچے ایوانوں کی طلسمی غلام گردشوں میں گم ہو کر رہ گئے۔
قیامِ پاکستان سے اب تک کا جائزہ لیا جائے کہ مملکتِ پاکستان کس مقام پر کھڑی ہے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہم ابھی تک اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کا ہی تعین نہیں کر سکے۔ ہر دور میں ہماری تغیر پزیر پالیسیوں میں موجود تضادات،الجھاؤ اور بے یقینی کی کیفیت نے ہماری اجتماعی سوچ و شعور کو پختہ ہی نہ ہونے دیا، نہ صرف قیامِ پاکستان کے مقاصد بلکہ بنیادی نظریے پر بھی شکوک و شبہات کے سائے پھیلائے گئے نتیجتاً حصولِ آزادی کو اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود ہم اپنی آزادی کی بقاء اور نظریاتی و تہذیبی تشخص کی حفاظت کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ ابھی تک یہ بھی طے نہیں کیا جا سکا کہ ہمارا سیاسی نظام کیسا ہو گا؟ چنانچہ سیاسی نظام کی بے یقینی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے اس ملک نے اپنی آزادی سے لے کر اب تک تین دہائیوں سے زائد عرصہ براہِ راست آمریت کے سائے تلے گزارا ہے حالانکہ ایک اچھے سیاسی نظام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے لئے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرتا ہے لیکن ہماراسیاسی نظام چند با اثر خاندانوں اور گروہوں کی گرفت میں ہے جہاں عوام کی حیثیت ایک یر غمال سے زیادہ نہیں۔
ہم نے پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد دو قومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا مگر ہمارے انفرادی اور اجتماعی عمل نے ہمیں منزل سے دور کر دیا اور اب تکلیف دہ صورتحال یہ ہے کہ نہ ہم بحیثیتِ مسلمان ایک قوم بن سکے اور نہ اپنا قومی تشخص بحال کر سکے ہم گزشتہ 78 برسوں میں مذہب کے نام اور لسانی و علاقائی بنیادوں پر بٹ چکے ہیں، ہمارے یہ اختلافات، تصادم، تشدد اور خونی واقعات اسی کی وجہ سے ہیں اور ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ جو اہم عہدوں پر پر فائز ہے منفی رویے اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہا ہے ،یہ پاکستان کی عوام کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے اور ملک کے 60فیصد سے زائد غریب اور متوسط طبقے سے نا انصافی کا نتیجہ ہے ۔ ہماری نئی نسل قیامِ پاکستان کی اہمیت و تقسیم کی بنیادی وجوہ اور ضرورت سے ہی ناواقف ہوتی جا رہی ہے۔ یہ اسی پاکستان کا فیض ہے کہ اوسط درجہ کی ذہانتیں بڑے بڑے عہدوں اور بیورو کریسی پر متمکن نظر آتی ہیں جن کے شاہانہ ٹھاٹھ قومی خزانے پر بڑا بار ہیں اب ہم شائد یہ بات بھول رہے ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں مقابلے کے امتحانات میں کبھی کوئی مسلمان کامیاب نہ ہو پاتا تھا اور اگر کبھی معجزہ ہو بھی جاتا تو پورے شہر کے مسلمان اس عجوبہ انسان کو دیکھنے آتے اور اس کے ہاتھ چومتے اور یہی صورتحال تقریباً اب بھی ہندوستان میں ہے وہاں سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ صرف تین فیصد کے برابر ہے جو کہ متحدہ ہندوستان کے وقتوں میں 15فیصد تھا یعنی وہاں کے مسلمان ابھی تک وہی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ایسے میں بھی صابر و شاکر ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ ملک جو ایک عظیم پس منظر میں معرجِ وجود میں آیا تھا وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے تنزل کا شکار کیوں ہے؟آج یہ نوبت آن پہنچی ہے کہ ہم آپس میں ہی جنگ و جدل کر رہے ہیں، مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھوں خون بہہ رہا ہے۔ یہ خون جس کا ایک ایک قطرہ دشمن کے لئے محفوظ رکھا گیا تھا آج اپنی ہی سرزمین پر ارزاں ہو گیا ہے۔ قوم مایوسی کے اندھیروں میں کھو گئی ہے۔ قائداعظمؒ نے پاکستان کو ایک اسلامی، فلاحی اور ماڈرن جمہوری ملک بنانے کا خواب پیش کیا تھا قائد نے بار بار یہ کہا کہ پاکستان میں اسلامی اصولوں کے مطابق انسانی مساوات، سماجی برابری، قانون کی حکمرانی اور معاشی انصاف ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مجھے ہر گز ایسا پاکستان نہیں چاہئے جو وڈیروں جاگیرداروں کے لئے ہو میں مسلمان عوام کے لئے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کر رہا ہوں لیکن ہم نے ان وعدوں کو پامال کیا۔
قیامِ پاکستان سے لیکر اب تک جو چیز مفقود رہی ہے اور جس کی اس ملک کو سخت ضرورت ہے وہ ہے احساسِ ذمہ داری ، من حیث القوم ہمارا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے اور ہم سب تمام کام دوسرے کے ذمے ڈالنے اور اپنی ذمہ داریوں سے پیچھا چھڑانے یا پھر ان سے براہِ راست انکار ہی کر دینے کا اسلوب اپنائے ہوئے ہیں۔ اپنے اس رویے پر فوری طور پر قابو پانے اور بلا تاخیر اپنے ذمے عائد ذمہ داریوں کو نبھانے کے آغاز کی ضرورت ہے۔ مملکتِ پاکستان میں بسنے والے تمام پاکستانیوں کو عزم صمیم کرنا چاہئے کہ وہ آج کے بعد کسی گروہی تفریق یا انتشار کا شکار نہیں ہوں گے اور ہمیشہ صرف مسلمان اور پاکستانی بن کر نہ صرف ایک دوسرے سے محبت کریں گے بلکہ اس ملک کی ترقی و کامرانی کے لئے جی جان سے کام کریں گے، کرپشن کو جڑوں سے اکھاڑپھینکیں گے اور پاکستان کو ایک عظیم مملکت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے تا کہ پاکستان آن، بان اور شان کے ساتھ اقوامِ عالم میں ابھر کر سامنے آئے اور ہمارا سر فخر سے بلند ہو جائے۔