Wed, September 16, 2026

 "ایران کی عسکری قوت کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے":ٹرمپ کا 'آپریشن ایران' کا باضابطہ اعلان

 

واشنگٹن / ریاض: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرین اور سعودی عرب میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران کے خلاف باقاعدہ فوجی مہم کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے اور اب ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر حملہ "آخری حد" تھی، جس کا ردعمل اب پوری دنیا دیکھے گی۔
 وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کے خلاف ابتدائی آپریشن کا دورانیہ 4 سے 5 ہفتے طے کیا گیا ہے، تاہم امریکہ اس جنگ کو طویل عرصے تک کھینچنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ صدر نے خبردار کیا کہ "موجودہ حملے تو صرف ابتدا ہیں، اصل اور خوفناک لہر ابھی آنا باقی ہے جو ایران کے دفاعی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دے گی۔"صدر ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے حوالے سے ایک مبہم مگر خطرناک اشارہ دیتے ہوئے کہا ممکن ہے کہ ایران میں زمینی فوج بھیجنا ناگزیر ہو جائے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی ضرورت نہ پڑے۔ ہم نے ہر صورتحال کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کی فوجی طاقت کو خطے کے لیے کینسر قرار دیتے ہوئے تین بڑے اہداف مقرر کیے ہیں ،    میزائل ٹیکنالوجی کی مکمل تباہی: بیلسٹک میزائلوں کا خاتمہ جو طویل فاصلے تک مار کر سکتے ہیں۔، خلیج میں ایرانی بحری طاقت کو مفلوج کرنا۔ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہر قیمت پر روکنا۔صدر ٹرمپ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اب محض دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ حکمتِ عملی اپنا چکا ہے۔ ماہرینِ دفاع کے مطابق، صدر ٹرمپ کی جانب سے "میزائل اور نیوی" کو تباہ کرنے کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں ایران کی ساحلی پٹی اور میزائل لانچنگ پیڈز پر بڑے پیمانے پر بمباری کی جا سکتی ہے۔

ٹیگز: