’’موبائل ،موبائل،موبائل میں تنگ آ گئی ہوں‘صبح دفتر جانے سے پہلے اوردفتر سے آ کر بھی آپ ہر وقت موبائل فون پر باتیں کر تے رہتے ہیں۔رات کو سونے سے پہلے بھی آپ کا یہی حال ہوتا ہے۔آخر ایسی کیا مصروفیات ہیں ،کچھ وقت بیوی بچوں کو بھی دے دیا کریں‘‘۔اکثر عورتیں اپنے شوہروں سے یہ شکایات کرتی ہیں۔عورتوں کا یہ گلہ بجا لیکن شوہروں کی شکایات بھی غلط نہیں۔’’صبح اٹھتے ہی امی اور بہنوں کو فون!!!ناشتہ بناتے وقت بھی موبائل تمہارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔امی اور بہنوں سے بعد میں بات کر لیا کرو،کبھی میری بھی سن لیا کرو۔شام کو تھکا ہوا گھر آتا ہوں تو بھی موبائل پر باتیںکرتی رہتی ہو۔ تمہارے پاس میرے لیے بالکل بھی وقت نہیں ہوتا ۔اس سے تو بہتر ہے کہ دفتر سے واپسی پر دوستوں کے پاس چلا جایا کروں‘‘۔میاں بیوی ہی نہیں بچوں کا حال بھی بد تر ہے۔ گھر میں ہر بچے کے ہاتھ میں اس کا اپنا موبائل فون یا ٹیبلٹ ہے۔بہن بھائی آپس میںباتیں کرنے کی بجائے موبائل پر مصروف نظر آتے ہیں۔کہیںبچہ ٹیبلٹ پرکارٹون دیکھ رہا ہے اور ماں اس کے منہ میں نوالے ڈال کر اسے سست اور ناکارہ بنا رہی ہے۔کئی مائیں چھوٹے بچوں کو وقت اور ان پر توجہ دینے کی بجائے موبائل پر کارٹون لگا دیتی ہیں اور اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہیں۔اخلاق کے علاوہ بچے کی نظر پر بھی اس کے منفی اثرات پڑ رہے ہیںجو ہر گھر میں نظر آرہے ہیں۔
گھر ہوںیا تقریبات یا کسی عزیز کے گھر ملنے چلے جائیں بیشتر کے بچے پاس آ کر بیٹھنے کی بجائے ٹیبلٹ میں کارٹون دیکھنے میں مگن ہوتے ہیں۔گھر کے زیادہ تر افراد کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتا ہے۔ایک جگہ بیٹھ کر بھی آپس میں بات چیت نہ ہونے سے رشتوں کی پہچان،محبت اور احترام کم ہوتا جا رہا ہے۔موبائل فون کو ہر شخص نے فیشن اوربلا وجہ اپنی ضرورت بنا لیا ہے۔کسی ادارے کا گارڈ ہو یا ڈرائیور،راہ گیر،طالب علم ،استاد‘ مسافر،دکاندار،و خاکروب یا مزدور وغیرہ حتیٰ کہ گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں کے ہاتھ میں بھی موبائل فون نظر آتا ہے۔ موبائل فون نے اگرچہ فاصلوں کو کم کر کے دنیا کو سمیٹ دیا ہے ۔ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے لوگ چند لمحوں میں ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر معلومات کا خزانہ موجود ہے لیکن غیر اخلاقی مواد اخلاقی بگاڑ کا باعث بن رہاہے۔اس تناظر میںیہ کہنا بے جا نہیں کہ جہاں اس کے فائدے ہیں وہاں نقصانات بھی کم نہیں۔
موبائل فون کے غلط اور ضرورت سے زائد استعمال سے بیشتر گھرانوں میں ہر فرد اپنی ذات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جس کے باعث دورریاں بڑھ رہی اور گھر ٹوٹ رہے ہیں۔اگر گھر ٹوٹ گئے تو اقدار اوراخلاقیات قصہ پارینہ بن جائیں گے۔ بڑے گھروں میںساری ضروریات کمرے سے ہی پوری ہو رہی ہیں۔ ہر کمرے میں فریج ،ٹی وی، موبائل فون اور لیپ ٹاپ سمیت ضرورت کی ہر چیز ہوتی ہے۔ موبائل فون سے کھانے پینے کی چیزیں اورکہیں جانے کے لیئے گاڑی بھی منگوائی جاسکتی ہے۔ نہانے دھونے کے لیئے کمرے کے ساتھ بیت الخلا ہے۔بھوک لگے تو باورچی خانے سے کھانے کی چیز بھی کمرے میںلے آتے ہیں۔ اس طرح کے بیشتر گھرانوں میں ہر شخص اپنی زندگی میں ضرورت سے زیادہ مگن ہے ۔گھر کے ہر فرد نے اپنے کمرے کو اپنی کائنات بنا لیا ہے۔ کسی کام کے بغیر کوئی اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتا اورنہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہے ۔گھر میںان کے درمیان کوئی رابطہ ضرورتاً‘مجبوراً یا اتفاقاً ہوجاتا ہے۔کھانے کے دوران بھی موبائل فون پاس ہوتا ہے ۔موبائل فون پر گرد اور ہاتھ کے پسینے کے لا تعداد جراثیم ہوتے ہیں۔ انہی ہاتھوں سے ہم کھانا کھا تے ہیں۔ اگر ایک بچہ فٹبال کھیل رہا ہو اور وہ ہاتھ دھوئے بغیر کھانے کی میز پر آجائے تو گھر والے اسے کھانے سے پہلے ہاتھ دھو نے کے لیے کہتے ہیں۔اگر وہ کھانے کے دوران ہاتھ گیند کی طرف بڑھائے تو اسے کہتے ہیں کہ آپ کھانے کے دوران گیند کو ہاتھ نہیں لگائیں گے نہ ہی کھانے کی میز پر گیند رکھیں گے۔ یہی رویہ موبائل فون کے ساتھ بھی ہونا چاہئے۔
گھروں میںخصوصاً لاؤنج اورکھانے کی میزپرکھانے کے اوقات میں زیادہ بیٹھنے کا انتظام کرنا تعلقات کے استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے گھر کے ان مقامات پرٹیلی وژن پر کوئی پروگرام دیکھنے یا موبائل فون پر مصروف رہنے کی بجائے باہمی گفتگو کرنے کو زیادہ ترجیح دینے سے ایک دوسرے کے مسائل اور معاملات سے آگہی ہوتی ہے ۔ کھانے کی نشست بہت اہم تعلیمی و علمی فورم ہے یہ صرف شکم سیری کے لیئے نہیں بلکہ محسو سات کو سنوارنے،ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے اور باتیں کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ کھانا اکیلے کی بجائے سب کے ساتھ کھانے اوراس دوران موبائل فون سے دور رہ کر ایک دوسرے سے گفتگو کرنے اور سیکھنے کے بہت مواقع ملتے ہیں ۔ کھانے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرنے سے باہمی محبتوں اور تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے جو خاندان کو مضبوط کرنے کے لیئے بہت ضروری ہے۔مضبوط خاندان ہی تو اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔