بیجنگ: حال ہی میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسی گاڑیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں جن کے دروازوں کے ہینڈلز باہر کی بجائے گاڑی کے جسم کے ساتھ فلیش ہوتے ہیں۔ یہ جدید ڈیزائن پہلی بار امریکی کمپنی ٹیسلا نے متعارف کروایا تھا اور اب یہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی نئی توانائی والی گاڑیوں میں عام ہوتا جا رہا ہے۔
تاہم، امریکہ اور چین کی کئی کار ساز کمپنیاں اس ڈیزائن کو اپنانے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ خاص طور پر چین نے حال ہی میں اپنی الیکٹرک گاڑیوں میں چھپے ہوئے دروازوں کے ہینڈلز کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے، جو اسے دنیا کا پہلا ایسا ملک بناتا ہے جس نے اس متنازع فیچر کو بند کیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی حفاظت اور معیار پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے۔ چین میں حال ہی میں ژیاؤمی کی الیکٹرک گاڑیوں کے دو سنگین حادثات پیش آئے ہیں جن میں مسافروں کو دروازے کھولنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ گاڑی کے ہینڈلز کی خرابی بتائی جا رہی ہے۔
اس پابندی کا مقصد صارفین کی حفاظت کو یقینی بنانا اور گاڑیوں کے ڈیزائن میں حفاظتی پہلوؤں کو ترجیح دینا ہے تاکہ حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔