جس طرح پاک فوج نے نام نہاد آپریشن سندور کی دھجیاں اڑائیں اسی طرح بلوچستان میں ان دہلی سپانسرڈ دہشت گردوں کی شامت آچکی ہے۔ ریاست نے حتمی فیصلہ شاید کرلیا ہے کہ اب کسی کی کوئی معافی نہیں ہوگی۔ ریاست کو مسلسل نقصان پہنچا کر غیور پاکستانیوں کا خون بہانے کی اب قیمت چکانا ہوگی۔ بلوچستان میں بھارت طویل عرصے سے آگ لگا رہا ہے ، فساد برپا کر رہا ہے۔ حال ہی میں انہی دہشت گردوں نے بھارت سے گرین سگنل ملنے کے بعد پاک فوج کے جوانوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا۔ بزدل دشمن یہ پھر بھول گیا کہ جس طرح آپریشن سندور کی درگت بنی اور جوابی آپریشن شروع کیا گیا، اسی طرح بلوچستان کے حالیہ حملوں کا بھی منہ توڑ اور حیران کن جواب ملے گا۔ تازہ آپریشن میں 27 دہشت گرد واصلِ جہنم ہوئے جبکہ پچھلے 72 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی ایجنٹوں کی کل تعداد 172 تک پہنچ چکی ہے۔ بارہ مختلف مقامات پر بظاہر ایک حملے کی کوشش کی گئی لیکن ہماری سکیورٹی فورسز نے چند گھنٹوں میں ان سب کوتہس نہس کر دیا۔ افواجِ پاکستان کا آہنی عزم دنیا کے لئے پھر مثال بن گیا ہے۔ تازہ کارروائی نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ افواجِ پاکستان کا عزم ناقابلِ تسخیر ہے غیر ملکی فنڈنگ کا کوئی بھی پہاڑ ان جوانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا جو اپنے لہو سے ریاست کی حفاظت کرتے ہیں۔ مٹی کے ان دس بہادر سپوتوں کو پوری قوم سلام پیش کر رہی ہے۔ یہ جوان بھارتی بربریت کے خلاف ڈھال بن کر کھڑے ہوئے۔ تحفظ کا عہد ریاست کا پہلا اور آخری مقصد ہر بلوچ شہری کا تحفظ ہے کوئٹہ سے گوادر تک خطرات کا فوری خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کی سلامتی ہی سب سے بڑا قانون ہے۔ بھارتی میڈیا کی جگ ہنسائی بھی دنیا نے دیکھ لی ہے جیسے جیسے دہشت گردوں کی لاشوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں دہلی کے پروپیگنڈا مشینری کا بیانیہ دم توڑ رہا ہے۔ اب ہندوستانی فلمیں بھی اپنے 172دہشت گردوں کو ہیرو بنا کر پیش نہیں کر سکتیں کیونکہ بھارت کا یہ آپریشن ناکام ہو گیا ہے۔ بلوچستان میں فساد برپا کرنے والوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ دہشت گردوں نے گوادر میں معصوم مزدوروں کو شہید کیا تھا۔ ان معصوموں کا قتلِ عام ان نام نہاد آزادی پسندوں کا اصل چہرہ گوادر میں بے نقاب ہوا جہاں انہوں نے 11 بے گناہ بلوچ مزدوروں بشمول تین خواتین اور تین بچوں کا بھی خیال نہیں کیا اور انہیں بے دردی سے شہید کر دیا۔ یقینی طور پر اب قاتلوں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ غریب مزدور خاندانوں کے قتلِ عام میں ملوث ہر ایک دہشت گرد کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے ریاست کا بدلہ بھرپور فوری اور حتمی تھا۔ بھارتی سرمائے کا زیاں سرحد پار سے ان پراکسیز پر بہائے گئے اربوں روپے صرف لاشوں اور ناکامی میں تبدیل ہوئے ہیں غیر ملکی آقاؤں کا یہ گیم بلوچستان کے پہاڑوں میں دفن ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ سکیورٹی فورسز نے تمام تجارتی راستوں اور معاشی مراکز کو کھلا رکھا ہے دشمن کی تمام تر کوششوں کے باوجود محبِ وطن بلوچ عوام کی روزمرہ زندگی میں کوئی خلل نہیں آنے دیا گیا۔ جیسا کہ بھارت کی کوشش تھی کہ بلوچستان کی خوشحالی کے راستے میں آیا جائے۔ یہ دراصل خوشحالی پر حملہ تھا۔ مزدوروں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے ثابت ہو گیا کہ فتنہ الہندوستان صرف بھارتی اشاروں پر بلوچستان کی معاشی ترقی اور استحکام کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ فسادبرپا کرنے کے لئے بھرتی ہونے والے نوجوان ان 172 لاشوں کو دیکھیں جنہیں ان کے ہینڈلرز نے پہلی گولی چلتے ہی لاوارث چھوڑ دیا۔ بھارت نے جب دیکھا کہ ان کے سپانسرڈ دہشت گرد مارہے جارہے ہیں تو خاموشی اختیار کرلی۔ یہ انہی نوجوانوں کے لئے پیغام ہے جو بھارت کا آلہ کار بننے کی سوچ رکھتے تھے۔ آسائش اور گمنامی کا فرق بھی واضح ہو چکا ہے۔ اس فتنے کے ماسٹر مائنڈ باہر کے ملکوں میں ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر غیر ملکی کرنسی وصول کر رہے ہیں جبکہ ان دہشت گردوں کو ورغلا کر گمنام موت پر مجبور کرتے ہیں۔غیر ملکی بیساکھیوں پر انقلاب کا خواب ایک ایسا جھوٹ ہے جس کی منزل صرف قبرستان ہے اس ملک کا مہرہ بننے میں کوئی عزت نہیں۔ بلوچستان کیان چند مٹھی بھر نوجوانوں کو اب ترقی اور تباہی کے درمیان انتخاب کرنا ہو گا ایک راستہ ریاست کی چھتری تلے روشن مستقبل کا ہے اور دوسرا وہ راستہ جس کا انجام پچھلے 72 گھنٹوں کی عبرتناک ہلاکتیں ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان کے عوام کی بڑی تعداد اس ایجنڈے سے لا تعلق ہے۔ محب وطن بلوچ شہری ریاست پاکستان کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ یہ محب وطن بلوچ بھارتی ایجنڈے کو بخوبی سمجھتے ہیں اور بھانپ چکے ہیں کہ حب الوطنی کا تقاضا یہ نہیں کہ دشمن ملک کے آلہ کار بن کر اپنے ہی جوانوں پر حملے کئے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کوئی بھی ریاست مخالف ایجنڈا نہیں رکھتا۔