Wed, September 16, 2026

غیر قانونی وی پی این۔ خاموش بارود

غیر قانونی وی پی این۔ خاموش بارود

آج دنیا ایک ایسی سمت بڑھ رہی ہے جہاں جنگیں صرف سرحدوں یا پہاڑوں میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ اب لڑائی کا سب سے بڑا میدان انسان کا موبائل فون، لیپ ٹاپ، اور وہ ڈیجیٹل دنیا ہے جس میں ہم روزانہ گھنٹوں ڈوبے رہتے ہیں۔ قومیں اب ٹینکوں اور میزائلوں سے کم اور ایک دوسرے کے معاشروں کو کمزور کر کے زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی اسی خاموش جنگ کے نشانے پر ہے اور اس جنگ کا سب سے خطرناک ہتھیار غیر قانونی وی پی اینز ہیں۔
وی پی این، جو بظاہر عام صارف کے لیے صرف ’’پابندی سے بچنے‘‘ کا ایک ذریعہ ہے وہ پاکستان کے لیے کہیں زیادہ گہرا، پیچیدہ اور خطرناک چیلنج بن چکا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز وہ ’’ڈیجیٹل پردہ‘‘ ہیں جس کے پیچھے دہشت گرد تنظیمیں، انتہا پسند گروہ، بیرونی ایجنسیاں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس چھپ کر پاکستان کے خلاف سرگرم ہوتے ہیں اور یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں دشمن نظر بھی نہیں آتا، آواز بھی نہیں دیتا، مگر پھر بھی وار کرتا رہتا ہے۔گزشتہ برسوں میں ایسے شواہد سامنے آتے رہے جن کے مطابق بعض دہشت گرد گروہ سوشل میڈیا پر اپنے بیانیے پھیلانے، نئی بھرتیاں کرنے، پروپیگنڈا پھیلانے اور پاکستان کے خلاف نفرت انگیزی کو ہوا دینے کے لیے وی پی این کے ذریعے جھوٹے مقامات ظاہر کرتے رہے۔ جب عالمی پلیٹ فارمز نے مقام ظاہر کرنے کے فیچر متعارف کرائے تو حیرت انگیز طور پر کچھ ایسے اکاؤنٹس سامنے آئے جن کے تاثر کے مطابق وہ پاکستان سے چل رہے تھے، مگر اصل میں وہ سرحد پار سے غیر قانونی وی پی اینز کے ذریعے آپریٹ ہو رہے تھے۔ یہی دھوکہ وہ بنیادی وجہ ہے جس سے پاکستان کی ڈیجیٹل نگرانی اور سکیورٹی سسٹمز کو دھندلا دیا جاتا ہے۔
غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ وی پی اینز دہشت گرد تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی، آئی ایس کے پی، بی ایل اے، بی ایل ایف وغیرہ کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈھال بن چکی ہیں، جو انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے، اپنی حقیقی لوکیشن چھپانے اور دہشت گردانہ و انتہاپسندانہ بیانیے 
پھیلانے میں مدد دیتی ہیں، جبکہ وہ پاکستان کے انٹیلی جنس اور مانیٹرنگ نظام سے بچ نکلتے ہیں۔ X کے لوکیشن ریویل فیچر کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ کئی اکاؤنٹس غیر قانونی وی پی اینز کے ذریعے بھارت اور افغانستان سے چلائے جا رہے تھے، جنہیں RAW کی حمایت حاصل تھی۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے دہشت گرد اور ان کے حامی پاکستان کے سامعین کو نشانہ بناتے ہوئے پروپیگنڈا پھیلاتے اور اپنی اصل جگہ چھپاتے رہے۔ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کئی اکاؤنٹس غیر قانونی وی پی اینز کے ذریعے بھارت اور افغانستان سے RAW کی پشت پناہی کے ساتھ چلائے جا رہے تھے، جنہیں دہشت گرد اور ان کے ہمدرد رابطہ کاری، پروپیگنڈا پھیلانے اور پاکستانی عوام کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
 افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ مسئلہ محض سوشل میڈیا کی حد تک محدود نہیں بلکہ غیر قانونی وی پی اینز آج دہشت گردی کی نئی رگِ جاں بن چکے ہیں۔ انہی خفیہ راستوں سے مالی لین دین کے ایسے چینلز کھل جاتے ہیں جو کرپٹو کرنسیز، ڈیجیٹل والٹس اور آن لائن ریمیٹنس کے ذریعے فنڈنگ کو پوشیدہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی فنانس سسٹمز کے لیے ایسے لین دین کو ٹریس کرنا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔ یوں دہشت گرد گروہوں کی ’’زندہ رہنے کی سانس‘‘ انہی نیٹ ورکس میں چھپی ہوتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ وی پی این کیا کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب اسے قانون سے چھپ کر اور جھوٹے ڈیجیٹل لبادے میں استعمال کیا جائے تو وہ کیا تباہی پھیلاتا ہے؟ غیر قانونی وی پی این صرف دہشت گردی ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کی ذہنی و سماجی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکا ہے۔ 
تشویش اس بات کی ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی نفسیاتی دباؤ، بے روزگاری اور سماجی عدم استحکام جیسے مسائل نوجوانوں کو جکڑے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں غیر قانونی وی پی اینز کے ذریعے آنے والا بے قابو مواد انہیں مزید غیر محفوظ بناتا ہے اور جو نوجوان ذہنی طور پر کمزور ہو جائے، وہ دشمن کا سب سے آسان ہدف بن جاتا ہے۔غرض اسی گمنامی نے پاکستان میں سائبر کرائمز کی رفتار بھی کئی گنا بڑھا دی ہے ، دھمکی آمیز کالز، ہراسگی، شناخت کی چوری، بینک اکاؤنٹس کی ہیکنگ، رانسوم ویئر حملے اور آن لائن فراڈ یہ وہ سبب جرم ہیں جو دھیرے دھیرے کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے ناسور بن جاتے ہیں ۔جب مجرم پارٹی کا اصل مقام ہی معلوم نہ ہو تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف کام کر رہے ہوتے ہیں۔دوسری طرف سیاسی اور سماجی استحکام بھی اسی خفیہ دنیا کا نشانہ بن رہا ہے۔ چند گھنٹوں میں منظم انداز میں چلنے والی ’’غلط معلومات کی یلغار‘‘ پورے ملک کا بیانیہ بدل دیتی ہے۔ ایسے اکاؤنٹس جو اپنے اصل مقام چھپائے رکھیں، جھوٹے ٹرینڈز بنا کر، جعلی خبریں پھیلا کر اور سیاسی تقسیم بڑھا کر معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں تو یہ صرف سیاست نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ڈیجیٹل ہائبرڈ جنگ ہے۔
جہاں تک بات ہے ملکی معیشت کی تو معیشت بھی اس کے زخموں سے محفوظ نہیں۔ ٹیکس چوری، ڈیجیٹل پائریسی، بین الاقوامی تجارت تک غیر قانونی رسائی، جیو ری اسٹرکشنز کا غلط استعمال، یہ سب وی پی این کے بھیس میں چھپے ہوئے وہ غیر منصفانہ راستے ہیں جن سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے اور مقامی صنعتیں مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اسی دوران غیر قانونی وی پی این ٹریفک قومی سائبر فائر والز میں خاموش دراڑیں ڈالتی ہے، جس سے میلویئر اور غیر ملکی سائبر حملے بنا روکے ملکی اداروں تک پہنچ سکتے ہیں۔یہ سب مل کر ایک ایسے ’’خفیہ ڈیجیٹل بلیک ہول‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں پاکستان کی قومی سلامتی، معیشت، نوجوان نسل، سماجی استحکام اور حکومتی کنٹرول سب متاثر ہو رہے ہیں۔ دنیا کے تجربات واضح کرتے ہیں کہ حل وی پی اینز پر مکمل پابندی نہیں، بلکہ رجسٹریشن، ریگولیشن اور شفاف نگرانی ہے۔ 
حاصل کلام یہ ہے کہ پاکستان کے لیے وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ یہ لڑائی اب صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ ہمارے گھروں، ہمارے بچوں، ہمارے ڈیٹا، اور ہمارے مستقبل کی ہے اور اگر ہم نے ابھی نہیں سنبھالا تو دشمن کو ہمارے دروازے تک آنے کی بھی ضرورت نہیں، وہ پہلے ہی ہمارے ہاتھوں میں موجود اسمارٹ فون تک پہنچ چکا ہوگا۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کو مضبوط کریں، غیر قانونی وی پی اینز کے خلاف سخت اور سمجھدارانہ اقدامات کریں، اور اس قوم کو اس خاموش دشمن سے محفوظ بنائیں جسے ہم دیکھ نہیں سکتے مگر جو ہر لمحہ ہمیں کمزور کر رہا ہے۔

ٹیگز: