کبھی کبھی نظام اتنی شدت سے اپنے بوجھ تلے کراہتا ہے کہ اس کی چیخیں طاقت کے ایوانوں سے بھی صاف سنائی دینے لگتی ہیں۔ کچھ دن پہلے آئی ایس ایف سی کے نیشنل کوارڈینیٹر جنرل سرفراز اور پھر گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی کمزوریوں کا جو غیر معمولی اعتراف کیا، وہ محض تشویش یا تجزیہ نہیں تھا بلکہ پوری معاشی مشینری کے باضابطہ انہدام کا اعلان تھا۔ ان دونوں اعترافات میں وہ درد اور سچائی پوشیدہ تھی جو عام طور پر حکومتوں، حکمرانوں یا طاقتور اداروں کی زبان پر نہیں آتی۔ ’’ہم نے خود ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں‘‘ یا ’’پالیسی تضادات نے بنیادیں کھوکھلی کر دیں‘‘یہ الفاظ کسی تجزیہ کار کے نہیں تھے، یہ خود ریاست کے اندر سے ابھرتے ہوئے نوحے تھے، اس ریاست کے جو دہائیوں سے سرمایہ دارانہ تجربات، بین الاقوامی مالیاتی فارمولوں اور سامراجی آلہ کاری کے بوجھ تلے سانس لینے پر مجبور ہے۔
پاکستان کی معیشت کی اصل کہانی بجٹ خساروں، کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ یا ریوینیو گیپس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ یہ کہانی اس فکری انحراف کی ہے جس نے قومی معاشی حکمت عملی کو سماجی انصاف، اخلاقی اصولوں، عدل اور معاشرتی توازن سے جدا کر کے عالمی مالیاتی اداروں کے فارمولوں کے حوالے کر دیا۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ میں کھلے لفظوں میں لکھا ہے کہ پاکستان کا سماجی تحفظ، انسانی ترقی اور ٹیکس کا ڈھانچہ خطے میں سب سے کمزور ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان1958 سے لے کر اب تک 24مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام میں گیا۔ ہر دفعہ نسخہ وہی، مزید ٹیکس، سبسڈیز کا خاتمہ، روپے کی قدر میں کمی، توانائی مہنگی، سرکاری اخراجات میں کمی اور سماجی تحفظ کی مد میں کٹوتی۔ لیکن ہر بارنتیجہ بھی وہی نکلا، مہنگائی میں اضافہ، غربت کی نئی لہریں، سرمایہ کاری کا فرار، معاشی سرگرمیوں میں مزید کمی اور ریاستی صلاحیت کا مزید انہدام۔ خود آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں عدم مساوات میں اضافہ انہی پالیسی پیکجز کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اس اعتراف کے بعد بھی اگر ہم ان فارمولوں کو ’’ترقی‘‘ کی راہ سمجھ کر اپناتے رہیں تو یہ ہماری اپنی نااہلی اور بدقسمتی ہے۔
آئی ایس ایف سی کے نیشنل کوارڈینیٹر جنرل سرفراز نے کہا کہ ریاستی ادارے فیصلہ سازی میں خود رکاوٹ بنتے رہے، بیوروکریسی کے تضادات نے معاشی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا اور پالیسیوں کے عدم تسلسل نے سرمایہ کاری کا راستہ روک دیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمدنے اس اعتراف کو مزید کھولتے ہوئے بتایا کہ معیشت کو غیر حقیقی پالیسیوں، سیاسی دباؤ اور ٹوٹے ہوئے مالیاتی نظم نے کمزور کیا ہے۔ یہ بیانات دراصل اسی کھوکھلے نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ ڈھانچے کے نام پر قوموں کو محتاج رکھتا ہے اور جس میں سامراجی ادارے اپنے مفادات کے مطابق فیصلے مسلط کرتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام اپنی تمام تر چمک دمک کے باوجود ایک بنیادی تضاد رکھتا ہے۔ یہ ترقی کا خواب دکھاتا ہے مگر محرومی کو جنم دیتا ہے۔ دولت پیدا کرتا ہے مگر تقسیم غیر منصفانہ رکھتا ہے۔ چند ہاتھوں میں طاقت سمیٹتا ہے اور باقی معاشرے کو مقابلے کی ایسی دوڑ میں دھکیل دیتا ہے جس کا اختتام تھکن، فاقہ کشی اور سماجی بے چینی پر ہوتا ہے۔ خود امریکہ اور یورپ میں اس نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جہاں عدم مساوات سب سے بڑا سماجی بحران بن چکا ہے۔ اگر طاقتور معاشرے اس نظام کے دباؤ سے لرز رہے ہیں تو پاکستان جیسے ممالک اس کے شکنجے میں کیوں نہ پِسیں؟
یہ وہ مقام ہے جہاں اسلامی معاشی اصول ایک مکمل، فطری اور پائیدار حل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ اسلام معیشت کو محض منافع یا حساب کتاب نہیں سمجھتا بلکہ اسے عدل، توازن، شفافیت اور انسانی وقار کا محافظ بناتا ہے۔ اسلامی معاشی نظام سود کو ممنوع قرار دیتا ہے کیونکہ سود سرمایہ کی غیر فطری بڑھوتری اور معاشرتی عدم مساوات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسلام زکوٰۃ کو ریاستی ذمہ داری بناتا ہے تاکہ دولت کا بہاؤ اوپر سے نیچے تک جاری رہے۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع، دھوکے اور اجارہ داری کو جرم قرار دیتا ہے۔ اسلام ریاست کو فلاحی کردار دیتا ہے، نہ کہ اسے محض مالیاتی مینیجر بنا دیتا ہے۔ دنیا کی جدید تحقیق بھی اسی سمت اشارہ کر رہی ہے کہ پروڈکٹیو سیکٹر پر مبنی معیشت، رسک شیئرنگ، دولت کی عادلانہ تقسیم اور سود سے پاک مالیاتی ڈھانچہ ہی حقیقی اور پائیدار ترقی کی بنیادیں ہیں۔وہ اصول جو اسلام نے چودہ صدیوں پہلے متعین کر دیے تھے۔ آج جب ریاست کے اعلیٰ ترین عہدیدار خود نظام کی ٹوٹی ہوئی بنیادوں کا اعتراف کر رہے ہیں تو یہ واضح پیغام ہے کہ مسئلہ پالیسیوں کا نہیں بلکہ پورے فریم ورک کا ہے۔ اب ’’مزید اصلاحات‘‘ یا ’’پالیسی تجدید‘‘ کافی نہیں۔ ہمیں اپنی سمت بدلنی ہو گی۔ ٹیکس کا منصفانہ ڈھانچہ، سماجی تحفظ کی مضبوط ریاست، سود سے آزادی، حقیقی معاشی سرگرمی اور دولت کی عادلانہ تقسیم،یہی وہ راستہ ہے جسے قرآن ’’قیامِ عدل‘‘ کہتا ہے اور جدید دنیا ’’سوشل جسٹس اکانومی‘‘۔