پاکستان اور افغانستان برادر اسلامی ہمسایہ ممالک ہیں ۔ دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور یہ تعلقات ہمیشہ نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد 1947ء میں جب پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بننے لگا تو افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی تاہم بعد میں اپنی مخالفت سے دستبردار ہو گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ ڈیورنڈ لائن کا سرحدی مسئلہ رہا ہے، جسے افغانستان نے کبھی مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔ ڈیورنڈ لائن ایک سرحد ہے جو پاکستان کے مغربی جانب افغانستان کے ساتھ لگتی ہے جسے افغانستان بین الاقوامی بارڈر تسلیم نہیں کرتا اور ہر کچھ عرصہ بعد اس حوالے سے حکومتی سطح سے بیانات آتے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اسی بات پر یقین رکھتے ہیں۔انگریز دور میں روس پر زار کی حکومت تھی یعنی اس وقت خطے میں دو بڑی طاقتیں برطانیہ اور روسی شاہی خاندان تھیں ‘ انگریزوں کو روس کی جانب سے خدشات لاحق رہتے تھے کہ افغانستان کے راستے حملہ نہ کر دے۔ اس وقت مارٹیمر ڈیورنڈ نامی انگریز حکومت کے نمائندہ نے افغانستان کے امیرعبدالرحمان سے بذریعہ خط رابطہ کیا اور سرحدی حدبندی کی تجویز دی۔ کچھ روز بعد انہوں نے افغانستان کا دورہ کیا۔ چند ملاقاتوں کے بعد 12 نومبر 1893 ء میں یہ حد بندی قائم کر دی گئی جس کا نام مارٹیمر ڈیورنڈ کے نام کی مناسبت سے ڈیورنڈ لائن رکھا گیا اس کی لمبائی 2640 کلومیٹر ہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی اسے برقرار رکھا گیا۔ سرد جنگ کے دور میں افغانستان نسبتاً مستحکم رہا لیکن سرد جنگ کے اثرات نمایاں تھے اور دونوں ممالک مختلف عالمی طاقتوں کے بلاکس کے قریب ہوئے۔ 1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے نے خطے کی سیاست مکمل طور پر بدل دی۔پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور افغان مجاہدین کی حمایت کی، جس نے سوویت یونین کے انخلاء میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک طرح کی قربت پیدا ہوئی، لیکن پاکستان کو دہشت گردی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 1996ء میں افغانستان میں خانہ جنگی کے بعد طالبان کی حکومت قائم ہوئی، جسے پاکستان نے تسلیم کیا۔ اس دور میں افغانستان اور پاکستان کے تعلقات معمول پر تھے جبکہ افغانستان میں بھی چند مخصوص علاقوں کے علاوہ امن وامان کی صورتحال کافی بہتر تھی۔ امریکہ میں نائن الیون کا سانحہ رونما ہوا تو انہوں نے اس کا الزام القاعدہ پر لگایا اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسامہ بن لادن ان دنوں افغانستان میں موجود تھے لیکن طالبان حکومت نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور وہاں سے افغان حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بعدازاں افغانستان میں حامد کرزئی کی صورت میں ایک امریکہ نواز حکومت قائم ہوئی لیکن ملک میں امن وامان کی صورت حال بہتر نہ ہو سکی۔ آئے روز دھماکوں اور بم حملوں میں حکومتی اور امریکی املاک کو نقصان پہنچنے لگا۔ اس دور میں افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بدترین بداعتمادی کا شکار رہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کا الزام لگاتے رہے۔حامد کرزئی کے بعد افغانستان میں اشرف غنی صدر بنے لیکن ان کے دورِ حکومت میں بھی معاملات بہتری کی طرف گامزن نہ ہوسکے۔ 2021ء کے اوائل میں افغان طالبان نے ایک بار پھر زور پکڑنا شروع کر دیا اور رفتہ رفتہ افغانستان کے مختلف حصوں پر اپنا اقتدار مضبوط کرنے لگے۔ امریکہ افغانستان میں طویل خانہ جنگی سے تنگ آ چکا تھا جبکہ یہاں ہونیوالے کثیر مالی اخراجات بھی اس کے لیے پریشان کن تھے اور امن وامان کی صورتحال بھی قابو میں نہ آ رہی تھی۔ اسی اثناء میں اگست 2021ء میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغان طالبان نے دوبارہ کابل کا کنٹرول سنبھال لیا۔ طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان نے امید ظاہر کی کہ اس سے سرحدی استحکام آئے گا۔شروع میں تو ایسا ہی ہوا لیکن رفتہ رفتہ تعلقات میں تنائو آنا شروع ہو گیا۔
پاک افغانستان حالیہ تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں اور اس کی بنیادی وجہ تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں اور مبینہ طور پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین عسکریت پسند گروہوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں کو روکے، تاہم افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔دو ماہ قبل دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان علاقے میں TTP کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے۔ قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے 19 اکتوبر 2025ء کو ایک جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔تاہم حالیہ دنوں میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ناکام ہو گئے کیونکہ پاکستان کا موقف ہے کہ جنگ بندی کا انحصار دہشت گردانہ سرگرمیوں کے مکمل خاتمے پر ہے۔ اگست 2025ء میں دونوں ممالک نے سفارتی نمائندگی کو ناظم الامور کی سطح سے بڑھا کر سفیر کی سطح پر لانے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور تجارت سمیت دیگر امور پر پیش رفت ہوئی تھی۔ تاہم، اکتوبر اور نومبر میں کشیدگی نے ان تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔ سرحدوں کی بار بار بندش کی وجہ سے دوطرفہ تجارت، جو ممکنہ طور پر 5 بلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی تھی، اب 1 بلین ڈالر سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہے۔ افغانستان اب ایران اور وسطی ایشیائی راستوں پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوششیں بھی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل بھی شروع کر رکھا ہے۔ سرحدی جھڑپیں اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات تعلقات میں تلخی کو بڑھا رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک سفارتی سطح پر معاملات کو حل کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ایسے حالات میں بھارت پوری کوشش کر رہا ہے کہ دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کا فائدہ اٹھائے اور اپنی حالیہ شکست کا بدلہ اس صورت لے کہ افغان طالبان کو پاکستان کے مدمقابل کھڑا کر دے ۔ ایسے میں حالات انتہائی تحمل ، برداشت اور معاملہ فہمی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ امید ہے کہ دونوں برادر اسلامی ہمسایہ ممالک بھارت کی چالوں کو باہمی اتحاد سے ناکام بنا دیں گے۔