Wed, September 16, 2026

غزہ میں بھوک، بمباری، موت اور خاموش دنیا

غزہ میں بھوک، بمباری، موت اور خاموش دنیا

اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹوں نے وہ سچ دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے جسے بشمول مسلم دنیا بڑی ہنر مندی سے نظر انداز کر رہی ہے کہ غزہ میں اب کوئی محفوظ نہیں۔ نہ کوئی بچہ، نہ عورت، نہ بزرگ، نہ سکول، نہ پناہ گاہ، نہ انسانیت اور نہ ہی انسانی حرمت و وقار۔ 24 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ پوری آبادی تقریباً مکمل طور پر، شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔ یہ محض کوئی محتاط یا مبالغہ آمیز اندازہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مصدقہ حقیقت ہے۔ ان میں سے 2 لاکھ 44 ہزار افراد قحط کے اس مرحلے میں ہیں جسے "آئی پی سی فیز 5" کہا جاتا ہے یعنی بھوک کی وہ حتمی شکل جس میں موت محض وقت کا کھیل رہ جاتی ہے۔ اسرائیل نے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے جس کا واضح مطلب اور مقصد فلسطینی آبادی کی نسل کشی کے سوا کچھ نہیں۔مارچ 2025 سے اب تک کم از کم 57 فلسطینی بچے بھوک کی شدت سے دم توڑ چکے ہیں۔ ایک ایسا منظرنامہ جو مہذب دنیا میں ناقابلِ تصور ہونا چاہیے تھا، وہ آج ہماری نظروں کے سامنے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ امدادی رسد کی منظم بندش اور مکمل ناکہ بندی، جس کے تحت خوراک، دوا، پانی اور ایندھن جیسے بنیادی اجزا بھی غزہ کے مکینوں تک نہیں پہنچنے دیے جا رہے، "بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے" کے مترادف ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے ایک جنگی جرم ہے لیکن کہانی یہاں رُکتی نہیں۔ غزہ کی زمین پر انسانی جسموں کا ملبہ اور آنسوؤں سے بھیگی مٹی گواہ ہے کہ جنگ صرف بھوک تک محدود نہیں۔ اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں نے اب تک 60 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جان لے لی ہے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس ظلم کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ مئی اور جون 2025 کے صرف دو مہینوں کے دوران، غذائی امداد کے مراکز پر ہونے والی گولہ باری اور فائرنگ میں 397 شہری جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بیرو نے جمعرات کو غزہ پٹی میں امداد کی تقسیم کے امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک ’’شرمناک اسکینڈل‘‘ اور ’’خون کی ہولی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ژاں نوئل بیرو نے قبرص میں اپنے ہم منصب وزیر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں یہ کہا جبکہ بھوک مانیٹر کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پٹی میں قحط کا منظرنامہ تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد تک رسائی انتہائی محدود ہے۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق مئی 2025ء سے اب تک GHF کی ’’ملٹریرائزڈ سائٹس‘‘ یا فوجی نگرانی والے امدادی مراکز کے قریب خوراک کی تلاش میں نکلے ہوئے لاتعداد فلسطینیوں میں سے 1000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جی ایچ ایف ایک امریکی لاجسٹکس فرم ہے اور سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار کی زیر قیادت کام کرتی ہے۔ یہ فاؤنڈیشن ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ مہلک واقعات دیگر امدادی مراکز اور قافلوں کے قریب پیش آئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ امداد کے سویلین مراکز کے قریب فائرنگ کے واقعات سے نقصان ہوا ہے اور کہا ہے کہ اب فوج کو بہتر ہدایات دی گئی ہیں۔ اسرائیل نے حماس پر امداد چوری کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس دعوے کے کوئی شواہد موجود نہیں۔ حماس کا الزام ہے کہ اسرائیل غزہ کی جنگ میں فلسطینیوں کی فاقہ کشی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعے سے چار امدادی پروازیں روانہ کریگا، جو 10 ٹن امداد لے کر غزہ جائیں گی۔ یہ امداد اردن کے تعاون سے غزہ پٹی میں پہنچائی جائے گی۔قبرص کے وزیر خارجہ کونسٹانٹینوس کومبوس نے کہا ہے، ’’قبرص نے 2024ئ￿  میں غزہ پٹی کے لیے 22,000 ٹن امداد بھیجنے میں مدد کی تھی۔ اب بھی 1,200 ٹن امداد تیار رکھی گئی ہے، جو حالات بہتر ہونے پر غزہ پٹی بھیجی جائے گی۔‘‘
اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں نے سکولوں، گرجا گھروں، ہسپتالوں اور پناہ گاہوں پر حملوں کو محض عسکری کارروائی نہیں بلکہ اجتماعی سزا ( collective punishment) اور ممکنہ نسل کشی (genocide) کے مترادف قرار دیا ہے۔ جب بچوں کی لاشیں امدادی لائنوں پر بکھری ہوں، جب حاملہ خواتین ایمبولینس کے انتظار میں دم توڑ دیں، جب دو وقت کی روٹی ایک خواب بن جائے، تو کیا یہ کسی قوم کی اجتماعی تباہی نہیں؟ایسے میں عالمی ضمیر کی خاموشی ایک جرم بن جاتی ہے۔ مغربی میڈیا، خصوصاً امریکی پریس جس کی پیشانی پر آزادیِ صحافت کا تاج جگمگاتا ہے، وہ اس وقت غزہ کی نسل کشی سے نظریں چرا کر جیفری ایپسٹین کی ‘‘جوسی’’ داستانوں میں مصروف ہے۔ روزانہ گھنٹوں ٹی وی اسکرین پر جرم اور جنسی اسکینڈلز کی خبریں تفصیل سے بتائی جاتی ہیں لیکن غزہ کے بچوں کی سسکی ان کی بھوک اور ان کی قبروں پر گرتی گولہ باری اس میڈیا کے لیے محض ایک "کم ریٹنگ" موضوع بن چکی ہے جس میں مسلم امہ کی مجرمانہ خاموشی بھی شامل ہے۔
یہ صورتحال محض ایک انسانی بحران نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ٹیسٹ کیس ہے۔ یہ اس عالمی نظامِ انصاف کا کھلا مذاق ہے جو یوکرین کے ایک میز پر رکھی ہوئی گڑیا کے نام پر دنیا بھر میں احتجاج کرتا ہے، لیکن فلسطینی بچوں کی اجتماعی قبریں اس کے ضمیر کو بیدار نہیں کرتیں۔ہمیں یہ سوال خود سے پوچھنا ہو گا کہ کیا ہم واقعی اْس عالمی برادری کا حصہ ہیں جو انسانیت، انصاف اور انسانی حقوق کے نعرے لگاتی ہے؟ یا ہم بھی اْس خاموشی کا حصہ ہیں جو ظالم کو جری بناتی ہے اور مظلوم کو مٹا دیتی ہے؟ غزہ اس وقت صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، ایک امتحان ہے۔ دنیا کے ضمیر کا، صحافت کی غیرت کا، اقوامِ متحدہ کی افادیت کا اور ہماری انسانیت کا۔ اگر ہم اس امتحان میں بھی ناکام ہو گئے تو تاریخ میں ہمارے نام صرف تماشائیوں کی فہرست میں لکھے جائیں گے جو نسل کشی کی چیخیں سن کر بھی موبائل اسکرین پر "نیوز اپ ڈیٹس" سکرول کرتے رہے۔

ٹیگز: