اسلام آباد : حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے سے پیدا ہونے والے بوجھ کو اپنے کندھوں پر لیتے ہوئے عوام کے لیے خصوصی 'سوشل پروٹیکشن پلان' جاری کر دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں خالصتاً عالمی جنگی حالات کا نتیجہ ہیں، تاہم اس کے اثرات سے عام آدمی کو بچانا ریاست کی ترجیح ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق، مہنگائی کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات فوری طور پر نافذ العمل کر دیے گئے ہیں
موٹر سائیکل صارفین کے لیے ریلیف: متوسط طبقے کی سہولت کے لیے بائیک سواروں کو پٹرول کی قیمت میں براہِ راست سبسڈی دینے کا فیصلہ۔
کسان دوست اقدامات: زرعی مشینری اور ٹیوب ویل چلانے کے لیے کسانوں کو ڈیزل پر خصوصی مالی معاونت کی فراہمی۔
ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس: مال بردار گاڑیوں کے لیے ڈیزل سپورٹ پروگرام تاکہ اشیاء خوردونوش کی ترسیل سستی رہے اور قیمتیں مستحکم رہیں۔
ریلوے کرایوں کا استحکام: غریب طبقے کی سب سے بڑی سواری 'پاکستان ریلوے' کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہ کرنے کا حتمی فیصلہ۔
عالمی منڈی کے رحم و کرم پر رہنے کے بجائے، حکومت نے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کے لیے نئے منصوبوں کا بھی آغاز کر دیا ہے، جن میں ملک کے اندر تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش (Strategic Reserves) میں اضافہ اور پٹرول کے متبادل کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف عام آدمی کی جیب پر بوجھ کم ہوگا بلکہ ملک میں مہنگائی کی شرح کو بھی ایک حد تک قابو میں رکھا جا سکے گا۔