Wed, September 16, 2026

ملک کے مختلف شہروں میں چُپ تعزیہ کے جلوس امن و احترام کے ساتھ نکالے گئے، سکیورٹی کے سخت انتظامات

ملک کے مختلف شہروں میں چُپ تعزیہ کے جلوس امن و احترام کے ساتھ نکالے گئے، سکیورٹی کے سخت انتظامات

لاہور : آج ملک کے کئی شہروں میں ایامِ عزا کے الوداعی دن چُپ تعزیہ کے جلوس نکالے گئے جو بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ منائے گئے۔ جلوسوں کے روایتی راستوں پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

کراچی:
کراچی میں صبح نشتر پارک سے مرکزی چُپ تعزیہ جلوس نکالا گیا، جہاں علامہ باقر زیدی نے مجلس عزا سے خطاب کیا۔ جلوس ایم اے جناح روڈ، صدر، تبت سینٹر، عیدگاہ، لائٹ ہاؤس اور بولٹن مارکیٹ سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر ختم ہوا۔
دوسرا جلوس نماز ظہر کے بعد قصرِ مسیّب سے نکلا اور مسجد و امام بارگاہ شاہِ نجف پر اختتام پذیر ہوا۔ دونوں جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے پولیس اور رینجرز کی بڑی تعداد تعینات تھی۔ ٹریفک پولیس نے بھی سڑکیں بند کر کے متبادل راستے دیے اور شہریوں سے ٹریفک میں دقت سے بچنے کی اپیل کی۔

لاہور:
لاہور میں پانڈو سٹریٹ سے چُپ تعزیہ جلوس نکالا گیا جو روایتی راستوں سے گزرتا ہوا کربلا گامے شاہ پر ختم ہوا۔ انتظامیہ نے راستوں پر ٹریفک انتظامات مکمل کر لیے تھے۔

اسلام آباد:
اسلام آباد میں امام بارگاہ جی 6 سے چُپ تعزیہ کا مرکزی جلوس نکالا گیا، جہاں حفاظتی اقدامات کیے گئے اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

تاریخی پس منظر:
چُپ تعزیہ عام طور پر 8 ربیع الاول کو منایا جاتا ہے، جو امام حسن عسکریؑ کی شہادت اور شہدائے کربلا کی یاد میں دو ماہ آٹھ دن کی روایتی عزاداری کے اختتام کا موقع ہوتا ہے۔ یہ روایت خاص طور پر برصغیر میں لکھی جاتی ہے اور پاکستان کے کئی شہروں میں اس کی گہری جڑیں ہیں۔

ٹیگز: