Wed, September 16, 2026

سفید ہاتھی

 سفید ہاتھی

ایشیاء کپ 2025 کے فائنل میں ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد روائتی حریف بھارت نے پاکستان کو 4 وکٹوں سے شکست دیکر نہ صرف ٹائٹل اپنے نام کیا بلکہ ہماری ٹیم کے بہت سے کمزور پہلوؤں کی نشان دہی بھی کردی۔ T-20 ایک تیز ترین فارمیٹ ہے۔ SENA ممالک کی ٹیمیں اس مختصر دورانئے کی کرکٹ میں 350 رنز  بنارہی ہیں جبکہ ہماری ٹیم 150 کے قریب رنز کرکے بھی جیت کے فریب میں مبتلا ہے۔ 
ہارجیت کھیل کا حصہ ہے لیکن ایک ہی ٹیم سے باربار  ہارنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ فائنل  میں ہارنے کے بعد پاکستان میں کرکٹ کے موجودہ سیٹ اپ، ٹیم کی میرٹ اور شفاف سلیکشن اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی تیاری پر بحث و تکرار کا سلسلہ شروع ہوگا۔ سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ایشیاء کپ کے لئے ٹیم کی سلیکشن میرٹ پر نہیں کی گئی۔ اس ٹیم میں بابراعظم، نسیم شاہ، عباس آفریدی اور محمد رضوان کو شامل کرنا چاہئے تھا۔ حسین طلعت، حارث رؤف، خوشدل شاہ اور وکٹ کیپر محمد حارث کی جگہ نہیں بنتی تھی۔ ٹیم میں ڈیتھ اوورز کے بہترین پیسر وسیم جونیئر کو ٹرائی نیشن سیریز اور ایشیاء کپ کے ایک میچ  میں بھی نہیں کھلایا گیا جو سراسر زیادتی ہے۔ بیٹنگ میں صائم ایوب، محمد حارث اور کپتان سلیمان علی آغا بری طرح ناکام ہوئے۔ حسن نواز کو ٹرائی نیشن سیریز میں مایوس کن پرفارمنس پر ایشیاء کپ میں چانس نہیں دیاگیا۔ جس ٹیم کے مڈل آرڈر کے تمام بیٹرز ضرورت کے مطابق پرفارم نہ کریں وہ ٹیم کبھی بھی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت سکتی۔ پورے یونٹ میں مڈل آرڈر بیٹنگ بری طرح ناکام رہی۔ ایشیاء کپ کے فائنل تک پہنچانے میں آلراونڈر محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین آفریدی اور ایک میچ میں حسین طلعت کی ذمہ دارانہ بیٹنگ تھی اور بدقسمتی سے یہ سارے فائنل میچ میں تیتر بن گئے۔ فائنل میں ہماری ٹیم کے آخری 9 کھلاڑی 8 اوورز میں 33 رنز پر آؤٹ ہوئے اور بھارت کے کوالٹی سپنر کلدیپ یادیو نے ایک ہی اوور میں ہماری ٹیم کے 3 اہم مہرے کھسکائے اور یہی اس میچ کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ کلدیپ یادیو واقعی ایک ورسٹائل رسٹ سپنر ہے۔ یہ باؤلر پاکستان کے خلاف ہمیشہ عمدہ پرفارمنس دیتا ہے۔ پاکستان نے اس کی باؤلنگ پر آج تک ورک کیوں نہیں کیا؟ یہ ہر میچ میں 4 یا 5 کھلاڑی آسانی سے آؤٹ کرکے انڈیا کی جیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کیا پاکستان میں اسے ریڈ کرنے اور سمجھنے والے بیٹرز ناپید ہوگئے ہیں ؟ یا بھاری بھرکم معاوضے لینے والے کوچ اور ٹرینر نکمے ہیں۔ کلدیپ یادیو کی باؤلنگ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ جسے سمجھا نہ جاسکے۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں کسی باؤلر اور بیٹر کی ویڈیوز دیکھ کر اس کی غلطیاں اور کمزور پہلوؤں پر ورکنگ کی جاسکتی ہے لیکن پتہ نہیں ہماری کرکٹ کدھر جارہی ہے یا ان کے پاس جدید آلات ہی نہیں جن سے مدد لی جاسکے۔ اب تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم بھی بربادی کے دہانے ہر پہنچ چکی ہے۔ اس ملک میں جو حال فن پہلوانی، ہاکی اور سکوائش کا ہوا عنقریب کرکٹ کا بھی باجا بجنے والا ہے۔ ہر شکست کے بعد دو تین کھلاڑیوں کو آگے پیچھے کرکے ان کی جگہ نئی پرچیوں کو ڈال کر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت 25 کروڑ عوام کو بے وقوفی بنایا  جارہا ہے۔ کرکٹ سے نا آشنا لوگ اس سارے سسٹم کو چلارہے ہیں۔ پورے پاکستان کی عوام اور تمام سابقہ لیجنڈز نے یہ کہا تھا کہ ایشیاء کپ جیسے بڑے یونٹ کے لئے بابراعظم ،محمد رضوان، عباس آفریدی اور نسیم شاہ ٹیم کی ضرورت ہیں انہیں کھلائیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔اگر کچھ نہیں کرسکتے تو پھر انڈیا سے ہی کرکٹ  سیکھ لیں۔ بھارت کے لیجنڈ کرکٹرز راہول ڈریوڈ اور ٹنڈولکر کے بچے ٹیم میں میرٹ کی وجہ سے سلیکٹ نہیں ہوئے جبکہ پاکستان میں شاداب خان، شاہین آفریدی، حارث رؤف، سلیمان علی آغا، صائم ایوب، محمد حارث، اعظم خان اور حسن علی وغیرہ بدترین پرفارمنس کے باوجود ٹیم میں کھیلتے رہے اور کئی اب بھی بغیر پرفارمنس کے ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان لڑکوں نے 2017ء کے بعد آج تک کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جتوایا پھر انہیں باربار کیوں کھلایا جارہا ہے۔ زیادہ تر پلیئرز کے قریبی رشتہ دار ان کی سلیکشن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سفارش اوراقرباء پروری ختم کئے بغیر ٹیم جیت کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتی۔ بد قسمتی سے ہماری ٹیم میں آخری اوورز میں رنز روکنے والا باؤلر نہیں اور جو یہ کام کرسکتے ہیں انہیں پلاننگ کے تحت کھلایا ہی نہیں جاتا۔  جب ایسی صورتحال درپیش ہو تو نئے اور ڈومیسٹک کے پرفارمرز کو گروم کریں اور انہیں چھوٹی ٹیموں کے خلاف چانس دیکر ان کے اعتماد میں اضافہ کریں۔  انکے ساتھ سابقہ لیجنڈز کو لگائیں جو ان کی غلطیوں کو سدھارنے کا کام کرکے بڑے میچز کے لئے تیار کریں۔ بھارتی یوراج سنگھ کی ٹریننگ نے شبمن گل اور ابھیشک شرما کو ورلڈ کلاس بیٹر بنایا۔ ہمارے پاس یونس خان، سعید انور ، محمد یوسف، وسیم اکرم، شعیب اختر، محمد حفیظ، اظہر علی، رمیض حسن راجہ اور سعید اجمل جیسے لیجنڈری پلیئرز کی ایک فلیٹ موجود ہے۔ ان کے تجربے اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ نئے ایمرجنگ کرکٹرز میں کچھ خامیاں ضرور ہوتی ہیں۔ اچھا مینٹور ان خامیوں کی نشان دہی کرکے انہیں پالش کرتاہے تاکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں مکمل اعتماد اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق کے کھیل سکیں۔ جب تک نئے کھلاڑیوں پر کام نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہماری ٹیم کی کارکردگی بہتر نہیں ہوسکتی۔ کھلاڑیوں کی capacity building ضروری ہے۔ گھسے پٹے اور سفارشی پلیئرز کبھی بھی ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن نہیں کرسکتے۔ نیا اور پرفیکٹ ٹیلنٹ ٹیم کی ضرورت ہے۔مسلسل پرفارم نہ کرنے والے پرانے بیکار اور آزمائے ہوئے ہتھیار اور سفید ہاتھی ٹیم سے نکالے جائیں جو باربار ٹیم میں واپس آجاتے ہیں۔ سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں پر مشتمل میرٹ پر ٹیم بنائی جائے اور ساتھ ہی کوئی بہادر اور بہترین پرفارمر کپتان بھی اناؤنس کریں جو تینوں فارمیٹ میں اپنی مثبت اپروچ اور ذاتی کارکردگی سے ٹیم کے مورال اور جیتنے کے تناسب کو بہتر کرے۔ یہ سب کچھ ممکن ہے اگر ٹھان لی جائے کہ ٹیم کو بہتر کرنا ہے۔
 نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
 ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

ٹیگز: