Wed, September 16, 2026

سفید پوش طبقہ کے لیے زیرو سبسڈی

سفید پوش طبقہ کے لیے زیرو سبسڈی

2004ءمیں سابق امریکی عالمی جاسوس جان پرکن نے ایک کتاب لکھی جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا کہ کس طرح امریکا اقتصادی طور پر کمزور ممالک کو قرضوں کے جال میں پھنسا کر ان کی معیشت کو کھوکھلا کرتا ہے اور جب حکمران دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچتے ہیں تو انہیں سیاسی طور پر اپنا تابع فرمان کر لیتا ہے یا پھر وہاں ”رجیم چینج“ Regime Change آپریشن کرتا ہے اس کتاب کا نام The confessions of an Economic Hitman تھا یعنی ”ایک معاشی جلاد کا اعتراف جرم“۔ یہ کتاب اپنی اشاعت کے کئی سال تک مقبول ترین فہرست میں رہی اور اس کے لاتعداد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ 
پاکستان میں رجیم چینج کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ مہنگائی رہی ہے اور اسی کی بنا پر حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی ہیں مہنگائی کے مارے لوگ ہر دفعہ بر سر اقتدار پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں جس سے باریاں لینے کا تصور مضبوط ہوتا ہے حکومت کو گھر بھیجنے اور نئی حکومت لانے کے فیصلوں کے پیچھے بھی عوامی فیڈ بیک نمایاں ہوتا ہے جس سے سب سے پہلا نمبر ہمیشہ مہنگائی کا ہوتا ہے۔ مہنگائی کرنے والوں کو پاکستان کا اکنامک ہٹ مین کہا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ جان پرکن کی کتاب پڑھ کر پاکستان پر نظر ڈالیں تو مہنگائی ایک غیر انسانی شکل میں ملکی معیشت پر ایک جلاد کی طرح کوڑے برسا رہی ہے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں یا پاور بروکر ملک کی تقدیر کے فیصلے کر رہے ہوتے ہیں یا آپس میں حکومت سازی کے لیے الائنس بن رہے ہوتے ہیں یا مذاکرات ہو رہے ہوتے ہیں تو وہاں بنیادی مسئلہ مہنگائی نہیں ہوتا بلکہ وہاں آپس کے لین دین کی بات ہوتی ہے وزارتیں اور فنڈز تقسیم ہوتے ہیں اقتدار کی باریاں اور مدت زیر بحث ہوتی ہے۔ مہنگائی کو چھوٹے لوگوں کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ 
گزشتہ ایک سال سے ہم صبح شام یہی سن رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی 40 فیصد سے 3-4 فیصد تک آگئی ہے لیکن ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ اگر مہنگائی دس گنا کم ہوئی ہے تو اشیائے خورو نوش کی قیمتیں نیچے کیوں نہیں آ رہیں۔ مگر آج کے سارے اخبارات میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان شہ سرخیوں کے ساتھ چھپا ہوا ہے کہ مہنگائی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی اور وزیراعظم مہنگائی پر بے حد برہم ہیں۔ وزیراعظم نے برہم ہو کر ہمارا یہ مسئلہ حل کر دیا ہے کہ ملک میں مہنگائی کم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ ہوئی ہے۔ قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئی جو 40 فیصد سے 4 فیصد آنے کا دعویٰ ہے اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی رفتار جو 40 میل فی گھنٹہ تھی اب سمجھ لیں کہ 4 میل فی گھنٹہ ہے لیکن مہنگائی کی گاڑی کو بریک نہیں لگی بلکہ شرح سود 22 فیصد سے 11 فیصد پر آنے کے باوجود خورو نوش کی اشیاءپہلے سے کہیں مہنگی ہیں۔ 
وزیراعظم کا بیان ایک طرح کا اعتراف ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ یہ بیان انہیں رمضان کی خصوصی مہنگائی کی وجہ سے جاری کرنا ناگزیر ہو گیا تھا کیوں کہ رمضان میں فروٹ کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اس لیے سیب راتوں رات 300 روپے سے 400 روپے کر دیئے گئے کیلا 120 سے 250 پر ہے اسی طرح امرود 120 سے 250 جبکہ کنو 200 روپے کلو تک پہنچ گیا ہے۔ 
حکومت کا اسٹنٹ کمشنر 5 کروڑ کی ڈبل کیبن گاڑی میں 10 مسلح پولیس والوں کے ساتھ سبزی منڈی پر چھاپہ مارتا ہے وہاں لوگوں کے چالان اور جرمانے کرتا ہے مگر اس کے منڈی سے باہر نکلنے کے ساتھ ہی ریٹ بحال ہو جاتے ہیں گلی کوچوں اور شاہراہوں پر کھڑے ریڑھی فروش بلا روک ٹوک منہ مانگی قیمت وصول کر رہے ہوتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ AC صاحب کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہو چکا ہے ویسے بھی صارفین کاموں سے فارغ ہو کر شام کو گھر جاتے ہوئے خریداری کرتے ہیں یہی وقت ناجائز منافع سے ہاتھ رنگنے کا وقت ہوتا ہے۔ 
مہنگائی روکنے کا ڈبل کیبن ڈالے والا طریقہ واردات مکمل طور پر فیل ہو چکا ہے ویسے بھی کوئی حکومت ایک ایک ریڑھی والے کو چیک نہیں کر سکتی مہنگائی ختم کرنے کے لیے نئے میکانزم کی ضرورت ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ پرانے زمانے میں شہر میں داخل ہونے والی سڑکوں پر محصول چونگی کے لیے چوکی بنی ہوتی تھی جو ہر طرح کے کارگو پر فیس وصول کرتے تھے چونگیوں کا نظام ٹھیکہ پر چلتا تھا اور ٹھیکیدار نے اپنا قانون بنایا ہوتا تھا کہ بغیر چونگی دیئے وہاں سے گزرنے پر ان کی چھاپہ مار ٹیمیں پکڑ لیتی تھیں اور پکڑے جانے پر دس گنا ٹیکس دینا پڑتا تھا۔ اگر صوبائی حکومتیں سبزی منڈیوں اور شاہراہوں پر پرچون فروشوں کو سرکاری ریٹ کا پابند کرنا چاہیں تو یہ کام 24 گھنٹے میں ہو سکتاہے آپ صرف چونگی سسٹم کی طرح پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو ٹھیکے پر دے دیں یعنی پرائیویٹائز کر دیں مہنگائی مافیا گارنٹی کے ساتھ زیر دام آجائے گا۔ وزیراعظم نے تاریخ میں پہلی بار 21 ارب روپے کی رمضان سبسڈی کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق 40 لاکھ خاندانوں کو5000 روپے فی خاندان ملیں گے۔ یہ سارے سر ٹیفائڈ امدادی لوگ ہیں جو بے نظیر انکم سپورٹ کے پرانے طفیلی ہیں۔ اس ساری سبسڈی میں متوسط اور سفید پوش طبقہ کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں ہے۔ الٹا انہیں بے دست و پا کر کے مہنگائی مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ آپ جہاں سے مرضی آڈٹ کرا لیں 21 ارب کی سبسڈی سے کہیں زیادہ رقم مہنگائی مافیا نے صرف رمضان کے مہینے میں عوام کی جیب سے نکال لینی ہے۔ آپ بے شک سفید پوش طبقہ کو کچھ نہ دیں لیکن کم از کم ڈاکوو¿ں سے تو بچائیں۔ 
گراسری کا پورا ویلیو چین ایک روپیہ ٹیکس ادا نہیں کرتا مگر روزانہ کی بنیاد پر یہ اپنے پیسے ڈبل کرتا ہے۔ آپ چیک کر لیں فروٹ اور سبزی کسان سے کس قیمت میں خریدی جاتی ہے اور صارفین کو کس قیمت پر بیچی جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کا خرچ نکال کر بھی دو گنا فرق ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو تجاوزات اور ٹریفک کے سب سے زیادہ مسائل کا ذمہ دار بھی ہے۔ حکومتیں ان پر ٹیکس اس لیے نہیں لگاتیں کہ اس سے فروٹ اور سبزی مہنگی ہو جائیں گی مگر یہ مضحکہ خیز ہے کہ یہ پھر بھی منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں۔

ٹیگز: