Wed, September 16, 2026

مزارِ اقبالؒ پر 'معرکہ حق' کی یاد میں کہکشاں سج گئی: راحت فتح علی خان اور نامور ماہرینِ تعلیم کا شاہینوں کو خراجِ تحسین

مزارِ اقبالؒ پر 'معرکہ حق' کی یاد میں کہکشاں سج گئی: راحت فتح علی خان اور نامور ماہرینِ تعلیم کا شاہینوں کو خراجِ تحسین

لاہور: مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر "معرکہ حق" کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں علم، ادب اور فن کی دنیا سے وابستہ شخصیات نے شرکت کر کے قومی اتحاد اور جرات کی داستان کو تازہ کیا۔ تقریب میں طلباء و طالبات نے مزار پر پھولوں کی چادریں چڑھا کر بانیِ پاکستان کے نظریات سے وفاداری کا عہد کیا۔
تقریب کی خاص کشش راحت فتح علی خان کی پرفارمنس تھی، جنہوں نے "لب پہ آتی ہے دعا" پیش کر کے فضا کو روحانیت اور حب الوطنی کے رنگ میں رنگ دیا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے کلامِ اقبالؒ کے ذریعے محفل کا جوش بڑھایا، جبکہ میمونہ ساجد نے مومن کی شان سے متعلق علامہ کے اشعار پڑھ کر حاضرین کے لہو کو گرمایا۔
پاکستان کی معتبر جامعات کے وائس چانسلرز اور ڈینز نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ تقریب میں     انجینئرنگ اور میڈیکل: ڈاکٹر شاہد منیر (VC UET) اور ڈاکٹر خالد مسعود گوندل (پرنسپل FJMC)،    خواتین جامعات: ڈاکٹر ارم (پرنسپل کنیرڈ کالج)، ڈاکٹر ریحانہ (LCWU) اور ڈاکٹر بسیرا امبرین (پنجاب یونیورسٹی) ، ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ (UMT)، ڈاکٹر محمد نظام (سپیریئر یونیورسٹی) اور ڈاکٹر شہزاد حسین (GCU) نے شرکت کی۔ 
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ "معرکہ حق" کی کامیابی دراصل علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی کی عملی تصویر ہے۔ ماہرینِ تعلیم نے پاک فوج کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فکرِ اقبالؒ پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔
تقریب کا اختتام ملک و قوم کی ترقی اور سلامتی کی دعاؤں پر ہوا، جہاں شرکاء نے وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا پختہ عزم کیا۔

ٹیگز: