Wed, September 16, 2026

پہلگام الزام ،حکومت پاکستان کا جواب

 پہلگام الزام ،حکومت پاکستان کا جواب

22 اپریل 2025ء مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام بیسرن میں اچانک جنگل سے چند دہشت گردوں نے نکل کر فائرنگ کر کے 27سیاحوں کو قتل کر دیا۔ اس سیاحتی مقام پر سیاح پیدل یا خچر پر بیٹھ کر پہنچتے ہیں۔ ہر روز اس مقام پر 2500 تک سیاح آتے ہیں اور اْس وقت 250 تک سیاح وہاں موجود تھے۔ اس واقعہ کی ایف آئی آر کا وقت اندراج 10منٹ کے بعد کا ہے اور اس میں ’’سرحد پار عناصر‘‘ پر الزام لگایا گیا اور اگلے 12 گھنٹے میں پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ اٹاری سرحد کو بھی بند کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے وقوع ہونے کا وقت بہت اہم ہے، انڈیا کے وزیراعظم ’’مودی‘‘ سعودی عرب کے دورے پر ہیں، امریکہ کے نائب صدر انڈیا کے دورے پر ہیں۔ مودی اپنا دورہ مختصر کر کے انڈیا واپس آ جاتا ہے دہشت گردی کے اس واقعہ کوانڈیا نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کے سر الزام لگا دیا، اس سے قبل 2019ء میں بھی اسی قسم کا واقعہ ہوا جس کے نتیجے میں انڈیا نے سرجیکل سٹرائیک کیا اور پاکستان نے اس کا جواب بھی دیا او رنتیجتاً انڈیا کے دو جنگی طیارے مار گرائے اور ابھی نندن کو گرفتار کر کے ’’فنٹاسٹک ٹی‘‘ بھی پلائی۔
اس واقعہ کی ذمہ داری انڈین میڈیا نے کالعدم عسکری گروپ’’The Resistance Front‘‘ پر ڈالی ہے لیکن اس واقعہ بارے TRF کا چلنے والا سوشل میڈیا کا بیان بغیر لوگو کے ہے اور صرف ’’کشمیری ریزسٹنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے جوکہ اس سے قبل TRF نے کبھی استعمال نہ کی ہے او راس بیان کو شدت پسندوں کے تجزیہ کرنے والے ماہرین نے بھی قابل ذکر نہیں سمجھا کہ TRF کے ساتھ منسوب کیا جائے۔ پاکستان نے اس واقعہ کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ بات کو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروا لی جائیں۔ پاکستان اس میں ملوث نہ ہے، انڈین میڈیا کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا من گھڑت اور جھوٹا ہے، اس طرح کا فالس فلیگ کا ڈرامہ رچانا انڈین روایت ہے۔ انڈیا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے اس واقعہ کی مکمل چھان بین کرے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دو تین سالوں میں ’’را‘‘ نے پاکستان میں25 سے زائد کشمیری حریت پسندوں کو شہید کر دیا ہے۔
انڈیا کی سکیورٹی ایجنسیوں کی یہ ناکامی ہے کہ ان کے سیاحتی مقام پر اس طرح کی کارروائی ہوئی ہے اور اب (تادم تحریر) آٹھ دن گزرنے کے باوجود کوئی بھی سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ اس سیاحتی مقام پر کوئی CCTV بھی نصب نہ تھا اور نہ ہی پولیس کا کوئی سپاہی۔
عالمی برادری کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان پر الزام لگانا انڈیا کا پرانا وطیرہ ہے جس پر عالمی برادری یقین نہیں کرتی ہے۔
پاکستان نے بھی انڈیا کے مختلف اقدامات کے بعد جوابی اقدامات کر لیے ہیں۔ پاکستان نے انڈیا کے مسافر طیاروں کے لیے پاکستانی فضا سے گزرنے پر پابندی لگا دی ہے، واہگہ بارڈر بند کر دیا گیا ہے اور دوطرفہ تجارت کا عمل معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے انڈیا کی طرح دفاعی اتاشیوں اور ان کے معاونین کو ملک چھوڑنے اور سفارتی عملہ محدود کرنے کو کہا ہے۔ پاکستان نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو ختم نہ کیا گیا تو پاکستان شملہ معاہدے سمیت دیگر معاہدوں کو معطل کر سکتا ہے۔
پاکستان اور انڈیا میں کم و بیش40 دوطرفہ معاہدے ہیں۔ یہ معاہدے تجارت، سرحدی امور، سکیورٹی ویزوں کے حصول او ردیگر اہم امور بارے ہیں۔ جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے بھی معاہدے اہم ہیں۔
جہاں تک بات ہے سندھ طاس منصوبے کی معطلی کی تو ورلڈ بینک اس کا ضامن ہے، وہ اسے سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے اور پچھلے 64 برسوں میں حالات جیسے بھی ہوئے اس معاہدے پر کوئی فرق نہ پڑا ہے، پاکستان اس معاہدے میں اپرہینڈ پر ہے۔
اس معاہدے کی معطلی پاکستان کے نزدیک ’جنگی اقدام‘ تصور کیا(باقی صفحہ 4بقیہ نمبر2)
 جائے گا، پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے مختلف معاہدوں کی معطلی دونوں ملکوں میں کشیدگی کے اضافہ کا باعث بنیں گے اور عالمی برادری نہیں چاہے گی کہ دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ  جائے کہ سرحدوں پر افواج ایک دوسرے کے سامنے آ جائیں لیکن پاکستان اس وقت انڈیا کی طرف سے ہونے والی کسی بھی قسم کی محدود یا بڑی جنگی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اگرچہ پاکستان کے اپنے اندرونی حالات متاثر ہیں، افواج پاکستان انڈیا کے کسی بھی قسم کے ناپاک ارادوں کو ماضی کی طرح نیست و نابود کرنے کے لیے تیار ہے اور مورال بہت زیادہ ہے، انڈیا کے اس اقدام نے پاکستانی قوم کو دوبارہ ایک جگہ مل بیٹھنے اور اکٹھا ہونے کا کام کر دیا ہے۔ اب صرف دیکھنا یہ ہے کہ ادارے اور حکومت اس ’’فالس فلیگ‘‘ ایکٹویٹی کو پاکستان کے حق میں کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو کس طرح پاکستان کا ہم نوا بنایا جاتا  ہے اور ہندو بنیے کی چالوں کو کس طرح ناکام کیا جاتا ہے؟

ٹیگز: