Wed, September 16, 2026

افغان حملے کے حیران کن حقائق!

افغان حملے کے حیران کن حقائق!

جون دو ہزار پچیس میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کے بعد پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ ایران نے صرف پاکستان کا شکریہ ادا کر کے یہ ثابت کر دیا تھا کہ پاکستان کی اس کی نظر میں اہمیت کس قدر زیادہ ہے۔ مگر اس کے بعد حیرت انگیز طور پر افغانستان نے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کر دیا جس سے واضح ہو گیا کہ افغانستان کسی کی ایما پر ایسا کر رہا ہے۔ 26 اور 27 فروری کی رات پاکستان اور افغانستان سرحد پر درجنوں مقامات پر فائرنگ اور جھڑپوں کی خبریں سامنے آئیں۔ یہ محض سرحدی تنازع نہیں تھا بلکہ ایک بڑی جیوپولیٹیکل سازش کی تھی۔ جس میں افغانستان کی موجودہ حکومت، اسرائیل اور بھارت کے درمیان گٹھ جوڑ واضح ہو چکا تھا۔ سب سے پہلے بنیادی حقیقت سمجھ لیں۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد دنیا کی سب سے پیچیدہ اور حساس سرحدوں میں شمار ہوتی ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر باڑ، چیک پوسٹس، سمگلنگ، دہشت گردی اور سرحد پار دراندازی کے مسائل برسوں سے موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں فائرنگ یا جھڑپ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن جب واقعات کی تعداد زیادہ ہو یا وقت حساس ہو، تو انہیں سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ دراصل یہ ایک اسرائیلی سازش تھی جس کا ساتھ بھارت بھی دے رہا تھا۔ افغان طالبان حکومت کو اسرائیل اور بھارت نے پاکستان کو الجھانے کے لیے استعمال کیا۔ یہاں سب سے پہلے ہمیں افغان طالبان کی پوزیشن کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا ہو گا۔ طالبان اس وقت خود شدید معاشی دباو¿، بین الاقوامی تنہائی اور داخلی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنی حکومت کو برقرار رکھنا ہے۔ پھر اسرائیل کا پہلو آتا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نئی بات نہیں۔ دونوں کے تعلقات برسوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ اگر جون 2025 میں ایران پر کسی حملے کے بعد پاکستان نے ایران کی حمایت کی، تو یہ سفارتی سطح پر قابلِ فہم بات تھی۔ لیکن اس کے بعد اسرائیل کو بھی یہ معلوم ہو گیا کہ پاکستان کی سفارتی حمایت عالمی سطح پر بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں پراکسیز کا استعمال ہوتا ہے، اور اسرائیل نے یہ بھانپ لیا تھا کہ اگلے حملے سے پہلے پاکستان کو کہیں اور الجھانا ہے تاکہ پاکستان ایرانی حمایت میں نہ آ سکے۔ انہی حالات میں بھارت کا کردار بھی واضح ہے۔ بھارت نے ماضی میں افغانستان میں سرمایہ کاری اور اثر و رسوخ قائم کیا تھا، خاص طور پر سابقہ افغان حکومت کے دوران۔ تاہم طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کا اثر محدود ہوا۔ حالیہ عرصے میں بھارت اور طالبان کے درمیان رابطے ضرور بڑھے ہیں اور یہی رابطے پاکستان کے خلاف سازش میں استعمال ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کے داخلی اسباب کم ہیں؟ پاکستان مسلسل یہ مو¿قف رکھتا ہے کہ افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ دوسری طرف افغان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سرحد کے دوسری جانب غیر ریاستی عناصر موجود ہیں جو حالات کو خراب کرتے ہیں۔ ہنود و یہود کے گٹھ جوڑ کے بیانیے کو تقویت مل رہی ہے ۔ بہرحال پاکستان نے اس اسرائیلی سازش کو تار تار کر دیا ہے۔ افغان ہینڈلرز کو منہ توڑ جواب مل گیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان مخالف قوتوں پر واضح ہونا چاہیے کہ الحمدللہ پاکستان کے غیور عوام اور اسکی بہادر افواج ایسے گھناو¿نے منصوبوں کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے برادر اسلامی ملک ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی ہے اور اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی پالیسی واضح کر دی ہے۔ پاکستان عالمی قوانین کے احترام کی پالیسی کی ترویج چاہتا ہے اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی پالیسی میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ دوسری جانب افغان حملے کے بعد اسرائیل کو بھی واضح پیغام مل گیا ہے کہ پاک فوج ایک پیشہ ورانہ مضبوط فوج ہے جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا بخوبی جانتی ہے اگر آئندہ بھی اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ سامنے آیا اور افغانستان اس کا آلہ کار بنا تو ایسے ہی منہ توڑ جواب ملے گا جیسا کہ اب دیا ہے۔ ایران پاکستان کا برادر ملک ہے، پاکستان نے ہمیشہ ایران کے اصولی مو¿قف کی حمایت کی ہے مگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بھی بہت بڑھ کر ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی پالیسی پر چلا جائے جو کہ ایک دوسرے ملک کی سالمیت کی تلقین کرتی ہے۔

ٹیگز: