اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کو کڑا آئینہ دکھاتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ پاکستان نے دہائیوں تک میزبانی، صلح اور مدد کی، مگر بدلے میں اسے صرف "زخم" ملے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اب اپنے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی پر خاموش نہیں رہے گا۔
خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ پاکستان افغانستان کی مدد کے لیے رقم دینے کو بھی تیار تھا، مگر افسوس کہ وہاں کوئی ضمانت دینے والا موجود نہ تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان اور آپ (طالبان) ایک ہی ہدف پر ساتھ کھڑے تھے، جو ہمیں امریکہ نے دیا تھا۔
وزیر دفاع نے براہِ راست سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے چند چبھتے ہوئے سوالات اٹھائے ۔انہوں نے کہاکہ "حقانی صاحب! بتائیں ہم پر سہولت کاری کا جو امریکی الزام لگتا تھا، وہ سچ تھا یا جھوٹ؟۔ "آپ اور آپ کے خاندان دہائیوں تک پاکستان میں مہمان رہے، آج بھی لاکھوں افغان یہاں پناہ گزین ہیں، پھر پاکستان کے دشمنوں کے حلیف کیوں بن رہے ہیں؟۔
وزیر دفاع نے دو ٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ افغانستان کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کا دوست ہے یا اس کے دشمنوں کا ساتھی۔پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے اور اب دہشت گردی کے خلاف سخت ترین موقف اپنایا جائے گا۔