Wed, September 16, 2026

عہدِ ابتلا کی سیاہ ساعتیں

عہدِ ابتلا کی سیاہ ساعتیں

مہنگائی کسی بھی معاشرے کے لیے ایک نازک اور پیچیدہ مسئلہ ہے جو نا صرف اقتصادی استحکام کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوام کے معیارِ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے ۔یہ دورِ حاضر کا وہ سنگین مسئلہ ہے جس نے ہر طبقے کو متا ثر کیا ہے ۔ خاص طور پر متوسط اور درمیانے طبقے کے لیے یہ کسی امتحان سے کم نہیں ۔ پاکستان کا عام شہری آج مہنگائی کے باعث اپنی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے ۔ تعلیم ، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث غریب طبقہ مزید غربت کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے ۔ایک وقت تھا جب تنخواہ دار طبقہ مہینے کے آخر تک کسی نہ کسی طرح گزارا کر لیتا تھا ، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ مہینے کا نصف بھی نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ تنخواہیں جمود کا شکار ہیں ، جبکہ ضروریاتِ زندگی کے اخراجات روز افزوں بڑھ رہے ہیں ۔ سبزیوں ، دالوں ، آٹے ، چینی اور دیگر اشیائے خورونوش میں آئے روز ہونے والا اضافہ عوام کی ہمت کو مزید پست کر چکا ہے ۔ جس کے با عث عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک چیلنج بن گیا ہے ۔تعلیم اور صحت کے شعبے بھی مہنگائی کی زد میں ہیں ، غریب والدین کے لیے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا دشوار ہو چکا ہے ۔بیماریوں سے لڑنے کے لیے دوا اور غذا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں دونوں کا ہی فقدان ہے ۔ یہ کہنا بھی کسی صورت غلط نہیں ہو گا کہ عام آدمی کو پاکستان میں زندگی کے مقابلے موت اب آسان اور باعثِ راحت لگنے لگ گئی ہے۔ہرحکومت تسلی دیتی ہے ، پالیسی ساز وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ غربت کی چکی میں پسنے والے افراد کے لیے عملی اقدامات کا فقدان ہے ۔امدادی پیکچز اور وقتی ریلیف کا اعلان تو ہوتا ہے ، مگر یہ وقتی سہارا کسی مستقل حل کا متبادل نہیں ہو سکتا ۔عام آدمی کی زندگی کی راحتیں کہیں کھو گئی ہیں ، حالات یہ ہیں کہ سب کچھ وطنِ عزیز میں پیدا ہونے کے باوجود عام آدمی ان تمام نعمتوں سے محروم ہے وہ روز ان نعمتوں کو دیکھتا ہے انہیں حاصل کرنا چاہتا ہے مگر ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونا اس کے نصیب میں نہیں ۔بیرونی 
قرضے بڑھتے جا رہے ہیں ،ملک کی عوام خوار ہورہی ہے۔ پاکستان کی غریب عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں تک سے محروم چکی ہے ۔
مہنگائی اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جو غریب کی امید ، خواب اور عزت ِ نفس کو نگل رہی ہے ۔ بازاروں میں قیمتیں بے لگام ہیں ، فاقہ کشی اب صرف کہانیوں کا حصہ نہیں رہی ، بلکہ لاکھوں گھروں کی روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے ۔ ایسے میں حکمرانوں کے بلندوبانگ دعوے اور پالیسی سازوں کی خوبصورت تقریریں صرف زخموں پر نمک چھرکنے کے مترادف ہیں ۔ وہ مزدور جو دن بھر مشقت کے بعد بھی دو وقت کی روٹی نہیں خرید سکتا ، وہ ماں جو اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر آنسو پی جاتی ہے ، اور وہ نوجوان جو بے روزگاری کے ہاتھوں اپنی صلاحیتوں کو زنگ لگتے دیکھ رہا ہے ، سب اس نظام پر ایک کھلا سوالیہ نشان ہیں۔ کیا یہ وہی ملک ہے جس کے آئین میں ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی تھی ؟ کیا یہ وہی ریاست ہے جہاں مساوات اور عدل کے خواب دیکھے گئے تھے ؟ ۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ جاہ پرستی ، شاہ پرستی اور موقع پرستی نے سماج اور ملکی نظام کو کھوکھلا اور کمزور کر دیا ہے ۔ہمارے ملک کا یہ کیسا نظام ہے کہ جہاں رہنے والے کسی شمار میں نہیں ، ان بے بس لوگوں کی بنیادی ضروریات پر کوئی توجہ نہیں ۔ا ن غریب لوگوں کے مسائل کے حل اور ان کی ترجیحات سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ۔ اس وقت ہر شخص بے بسی ، آئے روز بڑھتی مہنگائی اور بے برکتی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔حالات اس قدر مخدوش ہو چکے ہیں کہ سفید پوش طبقہ دو دھاری تلوار پر چل کر زندگی گزار رہا ہے ۔دن بہ دن نا قابل ِ بردا شت حد تک بڑھتی مہنگائی اس بات کا اشارہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب پاکستان میں بسنے والے عام انسان لقمہ خوراک کو ترس جائے گے ۔مختصر یہ کہ مہنگائی کا عفریت ایک ایسی آگ بن چکا ہے جو غریب کے خواب ، امیدیں ، اور خوشیاں جلا کر راکھ کر رہا ہے ۔ روٹی ،کپڑا اور مکان جیسے بنیادی حقوق اب محض نعرے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی ایک کٹھن امتحان بن چکی ہے ۔وہ بچے جو کبھی تعلیم اور خوشحالی کے خواب دیکھتے تھے، اب فقط روٹی کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کے لیے اچھی زندگی کی دعائیں مانگا کرتی تھیں ، آج اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں ۔ معاشی ناہمواری کا یہ بڑھتا ہوا خلا ہمیں ایک ایسی تباہی کی طرف لے جا رہا ہے جہاں امیر اور غریب کے درمیان ایک خلیج حائل ہو گی جسے پاٹنا نا ممکن ہو گا ۔
لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ آخراس مہنگائی کا حل کیا ہے ؟حکومت کو چاہیے کہ وہ زراعت اور صنعت کے شعبے کو مستحکم کرے ، درآمدات پر انحصار کم کرے ، مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے ، اور بد عنوانی کے نا سور کا خاتمہ کیا جائے ۔ جب تک معیشت میں استحکام کے ساتھ وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی نہیں بنتی ، تب تک غریب آدمی کی زندگی مشکلات میں گھری رہے گی ۔ ایک مضبوط اور خود کفیل معیشت ہی اس ملک کی عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلا سکتی ہے ۔وقت اب محض نوحہ خوانی کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے ۔ اگر دولت کی غیر مساوی تقسیم کا یہ سلسلہ نا رکا تو خالی ہاتھ عوام ایک ایسا سوال بن جائے گی جس کا جواب دینے سے ہر طاقتور قاصر ہو گا ۔ 
 لازم ہے کہ حکمرانِ وقت ایوانوں سے نکل کر ان گلی کوچوں میں آئیں جہاں فاقے زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں ۔ اگر اب بھی صرف الفاظ کے محل کھڑے کیے اور عملی اقدامات نا کیے ، تو تاریخ ہمیں ظالم اور بے حس معاشرے کے طور پر یاد رکھے گی ۔غربت کا خاتمہ فقط تقریروں پر نہیں ، بلکہ انصاف پر مبنی معیشت سے ممکن ہے ۔ہمیں ایک ایسے نظام کی اشد ضرورت ہے جہاں دولت چند ہاتھوں میں سمٹنے کے بجائے ہر محنت کش کی دہلیز تک پہنچے ، جہاں روٹی ، علاج ، اور تعلیم بنیادی حق ہوں۔ اگر آج ایک منصفانہ نظام کی بنیاد رکھ دی جائے تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ایک ایسی ریاست بن جائے جہاں کوئی بھوکا نا سوئے ، جہاں مزدور کا پسینہ اس کے بچوں کے چہرے پر خوشی کے رنگ بکھیر دے ، اور جہاں غربت محض تاریخ کے اوراق میں لکھی جانے والی ایک کہانی بن جائے ۔

ٹیگز: